Daily Mashriq

پی ٹی آئی کے پہلے 100دن

پی ٹی آئی کے پہلے 100دن

کے انعقاد کے بعد آنے والی ممکنہ پی ٹی آئی کی حکومت کو درپیش چیلنجز کا احاطہ کیا جائے تو یقینا پی ٹی آئی ایک ایسے وقت میں حکومت بنانے جارہی ہے کہ جب ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ملک کو بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ملکی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر کی کیفیت کمزور ترین سطح پر دکھائی دے رہی ہے۔ حکومت بنانے سے پہلے ہی ممکنہ وزیرخزانہ اسد عمر نے موجودہ اقتصادی صورتحا ل کو مدنظر رکھ کر آئی ایم ایف سے 12ارب ڈالرز کا بیل آؤٹ قرضہ لینے کا عندیہ دیدیا ہے جبکہ امریکہ کے وزیر خارجہ نے سخت الفاظ میں آئی ایم ایف کو پاکستان کو کسی بھی بیل آؤٹ قرضے دینے کی شدید مخالفت کی ہے۔ اگرچہ اس مخالفت کی وجہ چین ہے کہ پاکستان اس بیل آؤٹ رقم سے چین کا وہ قرضہ اتارے گا جو پاکستان نے ون بیلٹ ون روڈ کے انفراسٹرکچر کیلئے لیا ہے۔ پاکستان جو چائنہ کیساتھ سی پیک کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ اس منصوبے کے ثمرات کو حاصل کرنے کیلئے پاکستان کو اپنا انفراسٹرکچر مضبوط کرنا ہے۔ اس بحث میں نہیں جاتے کہ سی پیک سے چین کو جتنا فائدہ پہنچے گا کیا اس نے پاکستان میں اتنی انوسٹمنٹ کی بھی کہ نہیں۔ مسئلہ یہاں پی ٹی آئی کی ممکنہ حکومت کو یہ ہوگا کہ ان کی پارٹی گزشتہ کئی برسوں سے اپوزیشن کر رہی ہے، اب حکومت بنانے کے بعد اسے اپوزیشن کا سامنا ہوگا تو وہ اس بیل آؤٹ کیلئے کیا جواز پیش کرے گی کہ جب وہ گزشتہ نون لیگ کی حکومت کے کشکول کو تنقید کا نشانہ بنا رہی تھی۔ اس کے علاوہ پی ٹی آئی اپنے انتخابی منشور میں 100دن کا ایک شارٹ ٹرم پیکج کا اعلان کر چکی ہے کہ جو اہداف بجائے خود ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہیں اور اس کمزور اقتصادی صورتحال میں اہداف کا حصول مشکل تر بھی ہو سکتا ہے۔یہاں نئی حکومت کو یقینا کڑے فیصلے کرنے ہوں گے کیونکہ عوام کی توقع فوری ریلیف کی ہوگی کہ جو ظالمانہ ٹیکسز، بجلی گیس اور پٹرول کی صورت عوام پر لگائے گئے ہیں کم ازکم ان سے تو چھٹکارہ مل سکے اوپر سے امریکہ سے مخالفت کیا رنگ لائے گی۔ یہاں خارجہ اور خزانہ کی دو وزارتوں کا رول بہت اہم ہوگا کہ وہ کیسے اس بحران سے نکلتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی دیکھنے کی ہے کہ عمران خان کس طرح اپوزیشن کو کنٹرول کرتے ہیں کیونکہ نون لیگ، پی پی پی، ایم ایم اے اور اے این پی جیسی دبنگ سیاسی پارٹیاں اس وقت ایک ہی پیج پر دکھائی دیتی ہیں۔ خود عمران خان نے نون لیگ کی حکومت کو جو ٹف ٹائم دیا تھا اب دیگر پارٹیاں کسی صورت پی ٹی آئی کو سکھ کا سانس لینے نہیں دیں گی۔ عمران خان کو بہت سی چیزوں کو سمجھنا ہوگا کیونکہ یہ بات طے ہے کہ اس گزشتہ اور اس الیکشن میں بھی عمران خان ہی کو ووٹ پڑا ہے۔ بہت سے امیدواروں کے نام سے ووٹر واقف نہ تھے اور بیٹ کو ووٹ ملا۔ اگر عمران خان بھی روایتی انداز میں حکومت چلاتے رہے تو اس کا فائدہ اپوزیشن جماعتوں کو ہی جائے گا۔ مالی بحران کا ٹلنا کوئی مشکل بات نہیں، گڈگورننس سے معاملات ٹھیک ہو جایا کرتے ہیں۔ یہاں سب سے اہم فیصلہ عمران خان کیلئے یہ ہوگا کہ وہ اپنے لئے کیسی ٹیم کا انتخاب کرتے ہیں۔ خود اپنا اِن پُٹ وہ کتنا دیتے ہیں۔ کتنا کام کرتے ہیں تب کہیں جاکر اچھے نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے۔ پی ٹی آئی کی مجبوری یہ بھی ہے کہ اسے حکومت سازی میں آزاد امیدواروں کو ساتھ ملانا ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ آزاد امیدوار یونہی تو کسی پارٹی میں نہیں جاتے۔ وزارت وغیرہ کا طمع دینا پڑتا ہے یا پھر صوابدیدی فنڈز کا استحقاق دیا جاتا ہے۔ چلو اپنی پارٹی ممبران کو تو کسی نہ کسی طور عمران خان کنٹرول میں رکھ لیں گے لیکن آزاد پرندوں کو کس طرح قابو میں رکھیں گے۔ پی ٹی آئی کا ایک مستقل نعرہ احتساب اور کرپشن کا قلع قمع بھی ہے۔ اس سلسلے میں حکومتی پارٹی کی کیا حکمت عملی ہوگی۔ کیا احتساب سیاسی انداز کا ہوگا یا اس میں جامعیت لائی جا سکے گی۔ اگر احتساب کا دائرہ سیاستدانوں تک ہی محدود رہا تو اسے اپوزیشن خوب کیش کروائے گی اور اگر اس کا دائرہ وسیع کیا جاتا ہے تو خود حکومت کیلئے مسائل بن سکتے ہیں۔ سو اس میں ایک ہی راہ بچتی ہے کہ حکومتی پارٹی پرانے کھاتوں کو بھول کر نئے کھاتے نہ کھولنے کو انشور کر سکے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ کرپشن کے نئے کھاتے خود حکومتی عہدیدار ہی کھولتے ہیں سو پی ٹی آئی خود اپنے ہی کامیاب امیدواروں کی مانیٹرنگ کا کوئی سسٹم بنا پائے گی یا نہیں کیونکہ ہمارے سیاسی نظام میں بالعموم تمام سیاسی پارٹیوں اور بالخصوص پی ٹی آئی اپنے ارکان کا دفاع کرنے کا عمل موجود ہے۔ ابھی تک ہمارا سسٹم پارٹی بیس پر اپنے رہنماؤں کا دفاع کرنے پر مجبور ہیں حالانکہ یہ بڑی آسان بات ہے کہ جو برا کرے اسے سسٹم کے حوالے کر دیا جائے۔ اگر صاف نکل آئے تو واپس قبول کر لیا جائے ورنہ راہیں تبدیل کر لی جائیں۔ پی ٹی آئی جو شفافیت کا نعرہ لگا کر اس مقام تک پہنچی ہے اور کرپشن کا دیمک لگے اس سسٹم میں کیسے سر وائیو کرے گی یہ آنے والے دنوں پر ہی چھوڑا جائے تو بہتر ہے لیکن یہ طے ہے کہ نئی حکومت کو سب سے پہلے اپنے ٹارگٹس سیٹ کرنے ہوں گے، پھر ان اہداف کے حصول کیلئے روڈ میپ تیار کرنا ہوگا۔ پلان اے، پلان بی اور پلان سی بنانا ہوگا۔ پھر ان پلانز پر چلنے کیلئے ٹیم بنانی ہوگی۔ تب کہیں جاکر وہ کامیاب ہو سکے گی۔ یہ تمام کام کسی طور پر بھی جذبات کے بل بوتے پر نہیں کئے جا سکتے۔ عوام نے ووٹ کے ذریعے اپنا جمہوری فرض ادا کر دیا ہے اب نئی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کس انداز سے عوام کے ووٹ کا تقدس بحال کرتی ہیں۔

اداریہ