Daily Mashriq


پاک بھارت تعلقات، مشترکہ حکمت عملی

پاک بھارت تعلقات، مشترکہ حکمت عملی

پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات کی بھی عجیب صورتحال ہے، برصغیر کی تقسیم کے بعد بھارت کے اس دور کے حکمرانوں نے رعونت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اثاثوں کی تقسیم کے حوالے سے پاکستان کو اس کے حق سے محروم کیا تو اس پر مہاتما گاندھی نے احتجاج کرتے ہوئے بھوک ہڑتال کی، مگر تب راج گوپال اچاریہ، پنڈت نہرو اور اسی قبیل کے ہندو رہنماؤں نے اپنے ہی ’’باپو‘‘ کے احتجاج کا کوئی اثر قبول نہ کیا۔ یہ صورتحال پاکستان کیلئے انتہائی سنگین نوعیت کی تھی اور قیام سے پہلے ہی پاکستان کی ریاستی حیثیت کو شدید اقتصادی مسائل درپیش ہوئے تاہم قائداعظم کی سیاسی بصیرت نے پاکستان کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہونے میں مدد دی، تب سے اب تک دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات طرح طرح کے مسائل سے دوچار دکھائی دیتے ہیں اور بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث یہ تعلقات معمول پر آنے میں مشکلات حائل رہتی ہیں۔ حالیہ انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد تحریک انصاف کے چیئرمین اور ممکنہ نئے وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں جہاں دیگر معاملات پر اظہار کیا تھا وہاں بھارت کے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے فراخدلانہ پیشکش تھی اور کہا تھا کہ اگر بھارت ایک قدم بڑھائے گا تو ہم دو قدم پیشرفت کریں گے، اس صورتحال پر بھارت نے بھی مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کو الیکشن 2018ء میں کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئی پاکستانی حکومت کیساتھ تعاون کریں گے۔ معاملات کو آگے بڑھانے کیلئے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی، دوسری جانب بھارتی دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت پاکستان کو ایک اچھے ہمسائے کے روپ میں ترقی کی منازل طے کرتے دیکھنا چاہتا ہے۔ بھارت پاکستان میں امن واستحکام کی خواہش رکھتا ہے، بھارت کو امید ہے کہ پاکستانی حکومت ایک مضبوط، مستحکم، محفوظ اور ترقیافتہ جنوبی ایشیاء کیلئے بھرپور کردار ادا کرے گی، بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کے عوام کی جانب سے عام انتخابات میں جمہوریت پر بھروسہ کرنے پر بھارت ان کا خیرمقدم کرتا ہے، بھارت خوشحال اور ترقی پسند پاکستان دیکھنے کا خواہشمند ہے جبکہ اپنے پڑوسی ممالک کیساتھ امن کا خواہاںہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ برصغیر کی تقسیم کے بعد آج تک پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات کبھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آسکے، تقسیم کے زخم سہہ کر بھارتی حکمرانوں نے پاکستان کو کبھی معاف نہیں کیا، اور بھارتی انتہا پسندوں نے ہمیشہ پاکستان کو زک پہنچانے کی کوشش کی ہے، اس نے سابق مشرقی پاکستان میں علیحدگی کے جراثیم داخل کرنے سے پہلے ستمبر1965ء میں پاکستان کیساتھ کشمیر کے معاملے پر ایک خوفناک جنگ بھی لڑی جبکہ اس سے بھی پہلے رن آف کچھ کے محاذ پر پاکستان کیخلاف محدود پیمانے پر جنگی کارروائیوں سے بھی اس نے پاکستان کی قوت کا اندازہ لگانے کی کوشش کی تھی، اسی طرح 1948ء میں مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے جب مجاہدین نے کشمیر کو آزاد کرانے کیلئے بھرپور کارروائیاں کیں تو یہ بھارت ہی تھا جس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے جنگ بندی کیلئے منت سماجت کی اور وہاں وعدہ کیا کہ وہ جلد ہی کشمیر میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر استصواب رائے کرا کے مقبوضہ کشمیر پر اقوام متحدہ کے فیصلے کو تسلیم کرلے گا مگر وہ دن اور آج کا دن بالغ رائے دہی کا اہتمام تو ایک طرف بھارت نے مقبوضہ وادی میں غیر قانونی رائے شماری کے ذریعے کمشیر پر ناجائز قبضہ جما رکھا ہے جبکہ مظلوم کشمیریوں پر اس وقت بھی بھارتی افواج جس قسم کے مظالم توڑ رہی ہیں ان پر دنیا صرف اسلئے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے کہ بھارت ایک بہت بڑی اقتصادی منڈی ہے اور کوئی بھی ملک بھارت کو ناراض کر ے اتنی بڑی منڈی سے ہاتھ دھونے کو تیار نہیں ہے، دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں اٹھنے والی تحریک آزادی کے حوالے سے بھارت اس تحریک کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ دیکھ رہا ہے جس کی وجہ سے وہ جہاں اور جب چاہتا ہے پاکستان کیخلاف نہ سفارتی سطح پر واویلا مچاتا رہتا ہے بلکہ پاکستان کے اندر تخریب کاری کیلئے اقدامات کرتا رہتا ہے، اس ضمن میں ایران کی بندرگاہ چاہ بہار کے علاقے میں اس نے جاسوسی نیٹ ورک کے ذریعے اپنے جاسوس کلبھوشن یادیو کو متحرک کر رکھا تھا جبکہ افغانستان کے اندر اس کے قونصل خانے پاکستان میں علیحدگی پسندوں کی ہر طرح سے مدد کرتے رہتے ہیں، ان اقدامات سے بھارتی حکمرانوں کے اصل عزائم سامنے آجاتے ہیں کہ وہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے کس قدر بے چین ہیں، اب اس معاملے کا دوسرا رخ بھی دیکھ لیتے ہیں اور وہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے بھارت کی جانب سے ایک قدم آگے بڑھنے کی صورت میں دو قدم آگے بڑھانے کا عندیہ ظاہر کیا ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ عمران خان نے کس ترنگ میں آکر یہ بیان دیا ہے اسلئے کہ اس سے پہلے وہ بھارت کیساتھ تعلقات معمول پر لانے کے حوالے سے نواز شریف کی پالیسیوں کا سب سے بڑا ناقد رہے ہیں اور وہ مودی کا یار جیسے خطابات سے نوازشریف پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں، اگرچہ ہمسایوں سے معاملات کو معمول پر لانے کی خواہش بری نہیں کیونکہ سیانوں نے کہا ہے کہ تم دوست تبدیل کر سکتے ہو مگر ہمسایوں کی تبدیلی کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی تاہم ہمسایوں سے تعلقات کو بہتری کی جانب گامزن کرنے کیلئے تالی دونوں ہاتھوں سے بجنے کے اصول کو مدنظر رکھنا بھی لازمی ہے (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں