Daily Mashriq


انتخابی نتائج

انتخابی نتائج

2018ء کے الیکشن نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف ایک کروڑ 68لاکھ ووٹ لے کر پاکستان کی سب سے بڑی جماعت بن چکی ہے۔ قومی اسمبلی میں اتحادی اور آزاد اراکین کو ملا کر تحریک انصاف حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے جبکہ پختونخوا میں بھی تحریک انصاف کی حکومت بنے گی اور پنجاب میں حکومت بنانے کیلئے کوششیں کر رہی ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی اور بلوچستان میں ہمیشہ کی طرح مخلوط حکومت بنے گی۔ مقامِ شکر ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے ہوش کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا وگرنہ مولانا حضرات تو پورے نظام کی لٹیا ڈبونے کیلئے تیار بیٹھے تھے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے بھی انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے مگر انہوں نے مولانا فضل الرحمان کی خواہش کے برعکس پارلیمنٹ میں جانے کا فیصلہ کیا ہے جس سے جمہوری نظام کو لاحق خطرات وقتی طور پر دور ہو گئے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں نے جن خدشات کا اظہار کیا تھا ان کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کچھ گزارشات الیکشن کمیشن کے پروایکٹو رول کے حوالے سے اپنے کالموں میں عرض کی تھیں۔ قارئین اگر یاد کر سکیں تو جون کے آخری عشرے میں چھپنے والے کالم بعنوان ’’جمہوری نظام‘ انتخابی نتائج اور الیکشن کمیشن‘‘ میں اس بابت میں نے لکھا تھا:

’’آج صورتحال یہ ہے کہ آئندہ انتخابات کے حوالے سے شکوک وشبہات کے بادل منڈلا رہے ہیں لیکن الیکشن کمیشن اپنا پروایکٹو رول ادا نہیں کر رہا۔ الیکشن کا انعقاد ہونے سے پہلے مختلف سیاسی جماعتیں اپنے تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں‘ دریں حالات اگر الیکشن ہو جاتے ہیں تو ان کے نتائج کو کون مانے گا۔ مجھے خدشہ ہے کہ نتائج کا اعلان ہوتے ہی شکست خوردہ سیاسی جماعتیں ایجی ٹیشن کا راستہ اختیار کریں گی جو سیاسی نظام کی سلامتی اور بقا کیلئے نہایت خطرناک بات ہوگی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو فوری طور پر سیاسی جماعتوں کے سربراہان کی کانفرنس کا انعقاد کرنا چاہئے اور ان کے تحفظات دور کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ سیاسی جماعتوں کے سربراہان الیکشن کے صاف وشفاف انعقاد پر اپنے اطمینان کا نہ صرف اظہار کریں بلکہ الیکشن کے نتائج کو پیشگی تسلیم کرنے کا اعلان بھی کریں۔ یہ کام کوئی اور ادارہ نہیں کر سکتا کیونکہ یہ الیکشن کمیشن کے کرنے کا کام ہے۔‘‘

الیکشن کمیشن نے اس تجویز کا نوٹس لینا گوارا نہ کیا اور آج جو صورتحال بن رہی ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ تقریباً سبھی ہارنے والی جماعتوں نے الیکشن نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن سمیت اکثر جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔

اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ الیکشن صاف اور شفاف ہوئے۔ بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے ٹھوس ثبوت کسی جماعت کی جانب سے نہیں پیش کئے گئے ہیں۔ فارم 45 نہ ملنے کا شور مچایا جا رہا ہے حالانکہ ہر پولنگ سٹیشن کے پریذائڈنگ افسر نے اپنی ذمہ داری سمجھ کر پولنگ ایجنٹوں کو یہ فارم مہیا کئے۔ جہاں پولنگ ایجنٹ خود ہی اُٹھ کر چلے گئے وہاں فارم 45 نہ ملنے کا شکوہ کیسا؟؟ عالمی مبصرین اور الیکشن مانیٹرنگ کرنے والی مقامی تنظیموں نے مجموعی طور پر انتخابات کے عمل پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا ہے لہٰذا سیاسی شکست کو چھپانے کیلئے انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھانے کا طرزِ عمل قطعی طور پر درست نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمان عالم اسلام پر کافر طاقتوں کی یلغار پر بھی کبھی اس طرح غصے میں دکھائی نہیں دئیے جتنے وہ آل پارٹیز کانفرنس کے بعد آگ بگولہ ہو رہے تھے۔ پاکستان بھر سے متحدہ مجلس عمل نے 25لاکھ ووٹ حاصل کئے جو نئی جنم لینے والی جماعت تحریک لبیک پاکستان سے صرف تین لاکھ زیادہ ہیں۔ تحریک لبیک کے امیدواروں نے مجموعی طور پر 22لاکھ ووٹ لئے ہیں جبکہ چھ بڑی مذہبی جماعتوں کے اتحاد مجلس عمل کی کارکردگی اس اعتبار سے مایوس کن رہی ہے۔ پاکستان کے استحکام کا تقاضا ہے کہ انتخابات کے نتیجے کو تسلیم کیا جائے اور نومنتخب حکومتوں کو کام کرنے دیا جائے۔ پاکستان اس وقت کسی ایجی ٹیشن کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے قوم کے نام اپنے پیغام میں جن ترجیحات کا اعلان کیا ہے وہ نئے پاکستان کی نوید ہیں۔

عمران خان پاکستان کو ایک خوشحال اور باوقار ملک بنانے کا مکمل ایجنڈا ذہن میں رکھتے ہیں۔ قوم نے ان پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے تو اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی اب تبدیلی چاہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے گزشتہ 35برس سے جس طرز پر حکومت چلائی ہے عام پاکستانی اس سے سخت نالاں تھے چنانچہ ملک کے طول وعرض سے تحریک انصاف کو جو کامیابی نصیب ہوئی ہے اس سے شہریوں کے چہرے کھِل اٹھے ہیں اور لوگ نئے پاکستان کا خواب آنکھوں میں سجائے عمران خان کی حکومت کے منتظر ہیں۔

متعلقہ خبریں