Daily Mashriq

گرینڈ اپوزیشن اتحاد!

گرینڈ اپوزیشن اتحاد!

2018ء کے انتخابات میں پی ٹی آئی پاکستان کے دو صوبوں پختونخوا اور پنجاب میں بھرپور انداز میں عوام کا اعتماد اور باقی دو صوبوں میں بھی نمائندگی حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ اصولی طور پر مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کو چاہئے تھا کہ کھلے دل سے نتائج کو قبول کرتے ہوئے عمران خان کو خارزار اقتدار میں اترنے دیتے اور ایک موقع دیتے کہ وہ بائیس برس سے مسلسل عوام کیساتھ بالخصوص نوجوان نسل سے منشور ودستور اور قانون واصول پر عمل پیرا ہونے کے جو وعدے وعید کئے ہیں ان پر کس حد تک عمل کرنے پر پورا اترتے ہیں۔ عمران خان کیساتھ نوجوانوں کی عقیدت ومحبت کے پیچھے جلسوں میں احتساب‘ میرٹ اور شفافیت اور پاکستان اور پاکستانیوں کو دنیا میں باعزت مقام دلانے کے نعروں کا بڑا ہاتھ ہے اور ابھی تک انتخابات میں کامیابی پر تقریر سے لیکر نیوز چینلز اور دیگر ذرائع سے بات چیت سے یہ بات صاف طور پر نظر آرہی ہے کہ کپتان کے حوصلوں کو نئی جلا ملی ہے لیکن وہ سیاستدان جنہوں نے پاکستانی سیاست کو گھر کی باندی‘ جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی سمجھا تھا کب اس نئی صورتحال کوآسانی کیساتھ برداشت کر سکتے تھے۔ ان کیلئے تو یہ ایک ڈراؤنا خواب ہے کہ وہ پہلی بار اسمبلیوں سے باہر بیٹھیں گے اور پھر ان میں سے اکثریت عمر کے اس پیٹے میں ہے کہ آئندہ پانچ برسوں کے بعد شاید ہی وہ جسمانی اور ذہنی صحت کی اس کیفیت میں ہوں کہ فعالیت کیساتھ انتخابات میں حصہ لیا جاسکے۔ اسلئے آناً فاناً گرینڈ اپوزیشن بغیر کسی لمبی دوڑ دھوپ اور خاصی تردد کے وجود میں آئی اور بہت عجلت میں پارلیمنٹ میں رکنیت کا حلف نہ لینے اور تحریک انصاف کے اراکین کو پارلیمنٹ میں داخل نہ ہونے دینے کا اعلان کر گئے جس کو مغربی اور بھارتی میڈیا نے بغلیں جھانک جھانک کر دنیا کو سنایا کہ پاکستان میں تحریک انصاف کیخلاف گرینڈ اپوزیشن وجود میں آگئی ہے اور حالات انتشار (خاکم بدہن) کی طرف جا رہے ہیں۔
عوام کو حیرانگی اس بات پر ہے کہ کل تک جو سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر شدید الزامات لگاتی تھیں اور یہاں تک کہ ایک کے ہاتھوں دوسری کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے دعوے سامنے آئے تھے آج کیمروں کی چکا چوند میں ایسے شیر وشکر اور یک جان ’’کئی قالب‘‘ ہو کر اس ’’عزم بلند‘‘ کا اظہار کر رہے تھے کہ انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہیں‘ الیکشن کمیشن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں اور بعض نے یہ بھی ہانک لی کہ دوبارہ الیکشن کروائے جائیں۔ واہ جی واہ! گویا الیکشن نہ ہوئے گڈا گڈے کا کھیل ہوا۔ مٹی کے گھروندے ہوئے کہ بچوں نے ابھی بنا لئے اور پھر مٹا دئیے۔عناد‘ ضد اور جذبات اور غصہ جب کسی انسان پر غالب آجاتے ہیں تو پھر عقل سلیم کمزور اور مغلوب ہو کر صائب رائے دینے سے قاصر رہ جاتی ہے ورنہ پاکستان کے اتنے بڑے گرگان باراں دیدہ‘ سرد وگرم چشم دیدہ‘ تجربہ کار وجہاندیدہ کم ازکم یوں تو نہ کہتے کہ نہ ہم رکنیت کا حلف لیں گے اور نہ کسی اور کو لینے دیں گے لیکن اچھا ہوا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جنہوں نے آگے بڑھ کر سب کو اس بات پر راضی کر لیا کہ پارلیمنٹ کے اندر نہ جانا سیاسی موت نہ سہی‘ سیاسی معذوری ہوسکتی ہے۔ اب آہستہ آہستہ ’’اتحاد واتفاق‘‘ کے اثرات سے نکلتے ہوئے ایک ایک اپنے انفرادی بیانات میں اعتدال کی طرف آرہے ہیں اور اس میں سراج الحق نے بہت صائب بات کی ہے اور جماعت کی تو پہچان یہی تھی کہ تعاونواعلی البر والتقویٰ۔ لیکن ابتدائی مرحلے میں وہ بھی ’’ہرکہ درکان نمک رفت‘ نمک شد‘‘ کے زیراثر حالات کے تیور بھانپ نہ سکے۔ منصورہ والوں نے شاید ان کو نوشتہ دیوار پڑھا دیا۔
دراصل عمران خان کیساتھ بعض لوگوں کو خدا واسطے کا بیر ہے۔ اسلئے ان کی خواہش تھی کہ کسی نہ کسی طرح ان کیلئے مشکلات پیدا کرکے ان کے طویل جدوجہد کے بعد حاصل ہونے والے اقتدار کے مزے کو کرکرا کیا جائے۔ لیکن ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے تجربہ کار سیاستدان پاکستان کی شطرنج کی بساط پر مہروں کی چال دیکھ کر فوراً اپنی چال تبدیل کر گئے۔ چودھری برادران نے عمران خان سے ملاقات کے دوران جس حمایت کی فراہمی کا عندیہ دیا ہے اس سے ان کی بالغ نظری اور سیاسی امور کی زیرکی وفہم کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس کو کہتے ہیں سیاسی مستقل مزاجی۔ ن لیگ نے ماضی کی تلخیوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے دانہ ڈالنے کی کوشش کی لیکن شاید ق لیگ کو دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کی ’’مجھے یاد ہے ابھی ذرا ذرا‘‘ کے مصداق سب کچھ یاد ہے۔ بلوچستان سے جام کمال خان‘ کمال کے نئے سامنے آنیوالے سیاستدان ہیں جنہوں نے سردار اختر مینگل کو بھی ساتھ ملا کر بلوچستان کو اس کے حقوق دلانے اور بلوچستان وپاکستان کے مفادات کو ایک سمجھتے ہوئے وفاقی اور صوبائی سطح پر تحریک انصاف کی حمایت کا دو ٹوک ارادہ ظاہر کیا ہے۔ان سے سبق لیتے ہوئے پاکستان کی دونوں بڑی اور پرانی سیاسی جماعتوں کے قائدین کو چاہئے کہ انتخابات کے حوالے سے اپنے تحفظات پارلیمنٹ میں ریکارڈ پر لاتے ہوئے عمران خان کو تعمیر پاکستان میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائیں تاکہ پاکستان کو داخلی اور خارجی سطح پر درپیش مسائل کا ملکر دیرپا حل نکالا جائے اور عوام پاکستان کو ستر برسوں کے بعد تو کہیں آرام‘ سکون اور معیار زندگی نصیب ہو۔ (باقی صفحہ 7)

اداریہ