Daily Mashriq

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھربڑا اضافہ

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھربڑا اضافہ

وفاقی حکومت نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)کی سفارش کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا اور پیٹرول کی قیمت میں5روپے15پیسے بڑھادیے گئے ہیں۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں5روپے15پیسے اضافے کے بعد117روپے83پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں5روپے 65پیسے اضافہ کردیا گیا اور نئی قیمت132روپے47پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔حکومت کی جانب سے لائٹ ڈیزل 8 روپے 90پیسے مہنگا کردیا گیا اور نئی قیمت90روپے52پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی، اسی طرح مٹی کا تیل بھی5روپے38پیسے مہنگا کردیا گیا جس کے بعد نئی قیمت 103 روپے 84 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ ماہ حکومت نے ٹیکس ریٹ میں ایڈجسٹمنٹ کیے جانے کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔عیدالفطر سے قبل وفاقی حکومت نے اوگرا کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز کو منظور کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں4روپے26پیسے کا اضافہ کیا تھا اس سے قبل مئی میں پیٹرول کی قیمت میں9روپے42 پیسے اضافہ کرتے ہوئے نئی قیمت108روپے31پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی۔حیرت انگیز امر تو یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال تیرہ فیصد کمی ہوئی لیکن پاکستان میں پٹرول کی قیمت گزشتہ سال 95روپے کے مقابلے میں 117روپے83پیسے کر دی گئی۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوںمیں اضافہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کے اتار چڑھائو کے ساتھ پہلی حکومتوں کے ادوار میں بھی ہوتے رہے ہیں یہ بھی درست ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نسخہ ہی ہر دور حکومت میں آسان آمدنی کا ذریعہ گردانا جاتا رہا ہے ڈالر کی قیمت میںاتار چڑھائو کے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہوئے ہیں لیکن موجودہ دور حکومت میں جس تیزی تسلسل اور خاص طور پر جس بلند شرح کے ساتھ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے سی این جی کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں اس کی نظیر تو درکنار قریب قریب کی بھی کوئی مثال نہیں ملتی ایف بی آر جب ہدف پورا کرنے میں نا کام ہوتا ہے تو حکومت بجائے اس کے کہ اس کی گو شمالی کرے خسارے کو پٹرولیم ،گیس ،بجلی اور ٹیکسوں میں اضافے کے ذریعے عوام پر منتقل کردیتی ہے جس کے باعث آج پورے ملک کے عوام میں چینی اور بد دلی پھیلی ہوئی ہے مایوسی کا یہ عالم ہے کہ بیان سے باہر ہے۔ عوام میں یہ سوچ بڑھ رہی ہے کہ آخر کب تک وہ قربانی کا بکرا بنتے رہیں گے اور کیا تبدیلی اور نئے پاکستان کا یہ وہ وعدہ تھا جسے حکمران پورا کرنے میں مصروف ہے۔ماضی میں جب پٹرولیم مصنوعات،بجلی وگیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا تھا تو یہی حکمران تیل کی عالمی قیمتوں اور پاکستان میں قیمتوں کا جائزہ پیش کر کے عوام کو بتایا کرتے تھے کہ حکومت ان سے قریب قریب دوگنا زیادہ قیمت وصول کر رہی ہے اور یہ عوام پر ظلم ہے جب ان کی حکومت آئے گی تو وہ عوام کو ریلیف دیں گے ریلیف اور بہتری کی امید تو اب عوام بھی نہیں رکھتے لیکن خدارا کم از کم عوام کو اس قدر بوجھ تلے نہ دبائیں کہ ان کی سانس ہی بند ہو جائے جس قسم کے حالات کی جانب ہم بڑھ رہے ہیںوہ نہایت پریشان کن ہیں حکومت کے پاس سوائے عوام پر بجلی اور پٹرول بم گرانے کے آسان فارمولے کے علاوہ کوئی اور طریقہ نہیں شاید یہی وجہ ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور اس پر ٹیکس میں اضافہ فوری اور آسان نسخہ کے طور پر بروئے کار لا رہی ہے۔ جس کا استعمال اب ماہانہ بنیادوں پر کرکے ایک مرتبہ پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا ہر اضافہ مہنگائی کے نوٹیفکیشن پر دستخط کے مترادف ہے یہی وجہ ہے کہ اب بازار میں جس چیز کا ایک دن قبل کوئی ریٹ طے تھا تو اگلے دن وہ چیز اسی ریٹ پر نہیں ملتی بلکہ اس میں اضافہ ہوچکا ہوتا ہے۔ ایک جانب ڈالر کی قیمت بڑھنے اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے تو رہی سہی کسر پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ سے پوری ہورہی ہے جس کے باعث عوام کی مشکلات کا اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس ساری صورتحال میں دیہاڑی دار ،مزدور طبقہ اور ملازمت پیشہ افراد سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں جن کا معاوضہ بڑھایا نہیں جاتا ان حالات سے تاجروں کے منافع میں کمی کاروبار میں کساد بازاری بھی ہوتی ہے جس کے باعث کارکنوں کی تعداد میں کمی اور مزید کھپت نہ ہونے پر بیروزگاری کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ حکومت نہ صرف اس مسئلے پر قابو پانے میں ناکامی کا شکار ہے بلکہ مزید حکومتی اقدامات کا بوجھ عوام کی خمیدہ کمر پر لادنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات میں جو اضافہ کیا ہے یہ آخری بار نہیں۔ اس صورتحال میں زیریں اور متوسط طبقے تو خط غربت سے نیچے اور بہت نیچے چلے گئے ہیں بلکہ متوسطہ طبقہ تو اب باقی ہی نہیں رہا۔ عوام جس حکومت کو تبدیلی اور اپنے مسائل کے یقینی حل کی قوی امید پر ان کے وعدوں اور دعوؤں پر اعتبار کرکے لائے تھے آج وہ سارے دعوے الٹ ثابت ہو رہے ہیں۔ نجانے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کے بعد کا عالم کیا ہوگا۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ بجٹ کی آمد آمد اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کا اکٹھ غریب عوام کیلئے نہایت پریشان کن اور ناقابل برداشت ہے اس ساری صورتحال میں حکومتی بے بسی جس طرح عیاں ہے اس کے پیش نظر مہنگائی میں کمی کی تو توقع نہیں، حکومت کم ازکم اشیائے صرف کی خود ساختہ نرخوں پر فروخت کی روک تھام ہی کر سکے تو عوام اسے بھی غنیمت سمجھیں گے ۔اس ساری صورتحال کا حل ملک میں سیاسی استحکام اور خاص طور پر اس بھاری سرمایہ کی واپسی ہے جو سیاسی ومعاشی وجوہ کی بناء پر یا تو گردش سے نکال دیا گیا ہے یا پھر بیرون ملک سرمایہ کاری میں لگاکر منافع ملک واپس نہیں لایا جارہا ہے۔حکومت کو اس حوالے سے کوئی موزوں قدم جلد سے جلد اٹھانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں