Daily Mashriq

تاجروں سے مذاکرات کی ضرورت

تاجروں سے مذاکرات کی ضرورت

خیبر پختونخوا کے تاجروں کا تین اگست سے صوبہ بھر میں یوم احتجاج منانے سمیت 15اور 16اگست کوشٹر ڈائون ہڑتال کی کال دینے کی وجوہات کا جائزہ لینے ان کے مسائل کے حل اور تحفظات دور کرنے پر فوری توجہ کی ضرورت ہے تاکہ ہڑتال اور احتجاج کی نوبت نہ آئے تا جر تنظیموں کا موقف ہے کہ وہ ہر قسم ٹیکس دے ر ہے ہیں لیکن چند مفاد پرست عنا صر کے غلط مشوروں سے تا جر وں اور اداروں کو لڑایاجارہاہے ہم بھی اس ملک کی خاطرٹیکس دے رہے ہیں لیکن غنڈہ گردی اور ظالمانہ ٹیکس کسی صوررت نہیںدینگے، شناختی کارڈکی شرط کسی صورت تسلیم نہیں کی جائے گی،ہم ہر وقت حکومت کے ساتھ مذاکرات کر نے کیلئے تیا ر ہے لیکن حکومت کی زبردستی کسی قسم قبول نہیں کر ینگے۔تاجروں کو احتجاج اور ہڑتال سے روکنے کیلئے مذاکرات کا راستہ ہی موزوں اور بہتر حل ہے تاجر رہنمائوں نے جہاں احتجاج کی کال دی ہے وہاں انہوں نے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کر کے اعتدال کا راستہ اختیار کیا ہے قبل ازیں تاجروں اور چیئر مین ایف بی آر کے درمیان جو مذاکرات ہوئے وہ کامیاب نہیں ہوئے تھے دیگر معاملات سے قطع نظر تاجر برادری کو پچاس ہزار کی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط پر جو اعتراض ہے اسے نہ تو حکومت تسلیم کرنے کیلئے تیار ہے اور نہ ہی اس مطالبے کو تسلیم کیا جانا چاہئے ۔پچاس ہزار کی خریداری پر قومی شناختی کارڈ کی نقل دینے میں کوئی حرج نہیں اور شاید ہی کوئی گاہک اس پر معترض ہو البتہ تاجر حضرات ٹیکس بچانے کیلئے بغیر ریکارڈ اور شناخت کے لاکھوں کروڑوں روپے کی جو تجارت کرتے ہیں اس کی مزید گنجائش نہیں دستاویزی معیشت اور ٹیکس کی ادائیگی لازم ہے البتہ ٹیکسوں کی شرح کے حوالے سے بات چیت اور تاجروں کی تجاویز کو اہمیت دینا اور ان کے مطالبات کو پورا کرنے کی سعی ہونی چاہئے تاکہ ملک میں احتجاج اور ہڑتال کی نوبت نہ آئے اور ملکی معیشت مزید متاثر نہ ہو۔

روٹی کی پرانی قیمت بحالی کا مژدہ

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی روٹی سستی کر نے کیلئے ڈیڑھ ارب روپے کی سبسڈی کی منظور ی سے قومی خزانے کو ڈیڑھ ارب روپے کا فرق پڑے گا لیکن عوام کی اس سے کافی ڈھارس بندھے گی حکومت اگر پہلے ہی اس کا فیصلہ کرلیتی تو زیادہ مناسب تھا پنجاب میں سستی روٹی کی سکیم بھی کافی عرصہ تک کامیابی سے چلانے کی مثال بھی موجود ہے سبسڈی ملنے کے بعدذرائع کے مطابق تندوروں پر روٹی کے پرانے نرخ بحال کئے جائیں گے۔روٹی فروخت کرنیوالے چھوٹے تندوروں کو گیس پرسبسڈی دی جائے گی ۔چھوٹے روٹی تندوروں کیلئے گیس کی قیمتیں 30 جون 2019 کی پوزیشن پر بحال ہوگی ۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے روٹی اور نان کی قیمت کا نوٹس لیا تھا۔ہم سمجھتے ہیں کہ روٹی مہنگی ہونے اور روٹی کا وزن کم کر کے حکومت نے عوام کی جو ناراضگی مول لی ہے اس کا مکمل ازالہ تو ممکن نہیں البتہ حکومتی اقدامات کے باعث روٹی کا وزن ایک سو چالیس گرام بحال اور قیمت دس روپے کرنے میں کامیابی ہوجاتی ہے تو امید ہے کہ صورتحال میں بہتری آئے اس امر کے ا عادے کے ہر گز ضرورت نہیں امیر ہو کہ غریب اناج اور روٹی اس کے دستر خوان کا لازمی جزو ہے اگرچہ مہنگائی اپنے عروج پر ہے لیکن روٹی کی قیمت میں اضافہ اور وزن میں کمی پر عوام کا جو ردعمل سامنے آیا اس کا حکومت کو اندازہ ہونا چاہئے تھا۔ دیر آید درست آید کے مصداق حکومت روٹی کی پرانی قیمت بحال کرنے میںتاخیر نہ کرے حکومت کو ایسا کرتے ہوئے نانبائیوں سے روٹی کا وزن پورا کرنے کی ضمانت لینی ہوگی تاکہ حکومت کی دی گئی سبسڈی ضائع نہ ہو اور اس کا ثمر عوام تک پہنچ پائے۔

متعلقہ خبریں