Daily Mashriq

ساری کے نام خطوط

ساری کے نام خطوط

خطوط نویسی کے ذریعے اپنے عہد کے مسائل و مشکلات اور زندگی کے جبر کے ساتھ تاریخ کے اوراق الٹنے کی روایت بہت پرانی ہے۔ بعض محققین نے 500برس قبل مسیح کا زمانہ اور اس میں لکھے گئے ایک شہزادی (فرعون کی صاحبزادی) کے خطوط کا ذکر بھی کیا۔ دنیا کی تقریباً ہر زبان میں یہ صنف موجود ہے۔ اردو میں بھی بہت سارے حوالے ہیں۔ جواہرلعل نہرو کی کتاب '' تاریخ عالم پر اک نظر'' بھی خطوط پر مشتمل ہے۔ ان خطوط میں نہرو نے اپنی صاحبزادی اندرا گاندھی کو انسانی تاریخ کے آغاز و ارتقا کے حوالے سے جو شعوری رزق عطا کیا وہ آج بھی تاریخ کے طالب علموں کا سرمایہ ہے۔ جواہر لعل نہرو نے یہ خطوط اپنے ایام اسیری کے دوران لکھے۔ جانثار اختر کے صفہ اختر کے نام خطوط ہیں۔ عہد ساز شاعر یوں کہہ لیجئے کہ اردو کے ہر عہد کے شاعر مرزا اسد اللہ خان غالب کے ''خطوط غالب'' بھی خاصے کی چیز ہیں۔ فیض احمد فیض مرحوم نے اسیری کے دوران اپنی اہلیہ کے نام جو خطوط لکھے وہ بھی کتابی شکل میں پڑھنے والوں کی تین نسلوں سے داد و تحسین حاصل کرچکے۔ 1970ء کی دہائی میں اس وقت کے ترقی پسند طالب علم رہنما راجہ محمد انور کے خطوط نے شہرت حاصل کی۔ ان کی کتاب ''جھوٹے روپ کے درشن'' ان برسوں میں پنجاب یونیورسٹی میں سب سے زیادہ پڑھی گئی اور پڑھنے والوں کی اسلامی جمعیت طلبہ کے ہاتھوں سب سے زیادہ درگت بھی بنی۔ ڈاکٹر جواز جعفری کے خطوط پر مشتمل کتاب بھی 1990ء کی دہائی میں شائع ہوئی۔ خطوط نویسی اور خطوط پر مشتمل بہت ساری کتب ہیں ایک اہم نام مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم کا ہے '' غبار خاطر'' ان کے خطوط کے مجموعہ کا نام ہے اردو ادب کا شاید ہی کوئی طالب علم ہو جس نے ''غبار خاطر'' نہ پڑھی ہو۔ فضیل بن عیاض کے چند خطوط کا اردو ترجمہ سیدی جون ایلیاء نے کیا تھا ڈائجسٹ کا نام اس وقت ذہن میں نہیں آرہا لیکن سال یاد ہے کہ یہ تراجم 1974ء میں شائع ہوئے تھے۔فضیل بن عیاض مربی کے بلند قامت دانشوروں میں سے ایک تھے اور بھی شخصیات ہیں جن کی خطوط نویسی نے اپنے عہد کو متاثر کیا۔ محمد عامر حسینی ترقی پسند فہم کا چہرہ ہیں۔ اگلے روز لاہور میں انجمن ترقی پسند محققین کے زیر اہتمام ان کی کتاب '' ساری کے نام خطوط'' کی تقریب رونمائی ہوئی۔ عامر حسینی وسیع المطالعہ اور متحرک شخصیت ہیں۔ ملکی و بین الاقوامی اخبارات و جرائد اور نیوز ایجنسیوں کے لئے طویل عرصہ سے عصری موضوعات پر لکھ رہے ہیں۔ صحافی سے زیادہ ان کی شہرت مظلوم طبقات کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والے کے طور پر ہے۔ بلا شبہ انہوں نے پچھلی دو دہائیوں کے دوران (زمانہ طالب علمی کے بعد) جس پر عزم انداز میں انڈس ویلی کی مظلوم اقوام اور نسل کشی کا شکار طبقات کے مسائل و مشکلات کے حوالے سے آواز بلند کی وہ اپنی مثال آپ ہے۔

'' ساری کے نام خطوط'' بھی درحقیقت ہمارے عصر کا زندہ نوحہ ہے۔ قلم مزدوری اوڑھنا بچھونا ہو اور حصول رزق کا ذریعہ ہو تو بہت ساری باتیں خبروں' تجزیوں اور مضامین میں نہیں کی جاسکتیں۔ اپنے عہد کے اور اس سے متعلق حالات و واقعات کو بیان کرنے کے اس پرانے ذریعے کو عامر حسینی نے بھی اپنایا۔ یہ خطوط ایک جلا وطن پاکستانی نے لکھے' خطوط میں مادرن وطن سے موصولہ خبروں اور نوحوں کے ساتھ ان مسائل و مشکلات کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہے جو اس کے ہم وطنوں کے شب و روز کو نگل رہے ہیں۔ تاریخ ہے' فلسفہ ہے عصری سیاست کے جبر ہیں محروم طبقات کے ساتھ نسل کشی کا رزق بننے والوں کا نوحہ ہے۔ اپنے خطوط میں جو نقشہ حسینی نے ریاست اور سیاست کے ساتھ سماج کا کھینچا وہ کچھ ایسا غلط بھی نہیں نا یہ پھبتی کسی جاسکتی ہے کہ صرف طعنے مارے گئے یا کسی ایک طبقے کو بلا وجہ مورد الزام ٹھہرایا گیا۔ دوسرے خطوط نویسوں کی طرح عامر حسینی نے بھی خطوط میں ہی عصری موضوعات اور نظریاتی کشمکش پر جی کے پھپھولے پھوڑے۔ ایک طرح سے یہ پچھلی د و دہائیوں کا احوال ہے ان دو دہائیوں کا جس میں ہزاروں مرد و زن نسل کشی کا شکار ہوئے۔ نظریاتی لوگ خاصے کی چیز اور سٹڈی سرکلز کا تذکرہ تو ان دہائیوں میں ہوا لیکن ان کے لئے اہتمام سے گریز ہی رہا اور ہے۔ عامر حسینی ہماری نسل کا نمائندہ ادیب ہے ہماری نسل جن خرابیوں پر کڑھتی اور بربادیوں کا نوحہ پڑھتی جبر و ستم سے لڑتی یہاں تک آن پہنچی ہے اس کا احوال نئی نسل کو بہت کم معلوم ہے۔ اطلاعاتی محاذ پر کرائے کے تجزیہ نگاروں نے جو ادھم مچا رکھا ہے اس سے آنکھیں نہیں چرائی جاسکتیں۔ ہم اس سے بھی انکار نہیں کرسکتے کہ آزادی اظہار ہمارے یہاں پابندیوں کا شکار ہے جو حالات کل تھے وہی آج ہیں۔ پورا سچ کسی کو ہضم نہیں ہوتا بسا اوقات تو خود پورا سچ اپنے بولنے اور لکھنے والے کو جن مسائل سے دوچار کرتا ہے وہی جان لیوا ہوتے ہیں۔فکری اعتبار سے بنجر ہوتے سماج میں استقامت کے ساتھ اپنی بات کہتے رہنا بڑے حوصلے کا کام ہے۔ ادیب کا فرض یہی ہے کہ وہ بدترین حالات میں اپنی بات کہنے کیلئے راستہ تلاش کرے ذریعہ ڈھونڈ نکالے ہمارے برادر عزیز محمد عامر حسینی نے بھی یہی کیا جو معاملات خبروں' تجزیوں' مضامین وغیرہ میں بیان کرنا مشکل تھے انہیں بیان کرنے کیلئے انہیں نے خطوط نویسی کو ذریعہ اظہار بنایا اور جو کہنا چاہتے تھے بلا جھجک کہہ لکھ دیا۔ عامر حسینی کچھ مشکل پسند بھی ہے یہ مشکل پسندی اس کی تحریروں سے عیاں تھی خطوط میں بھی انہوں نے مشکل پسندی کی روایت برقرار رکھی لیکن جن موضوعات پر بحثیں اٹھائیں وہ محض خیالوں کی دنیا کے موضوعات نہیں بلکہ زندہ حقیقتیں ہیں۔ ہمارا بنیادی مسئلہ یہی ہے کہ ہم (ہمارا سماج) حقیقتوں سے منہ موڑ کر جینا چاہتے ہیں وقت آگے بڑھتا ہے اسے روک کر بیٹھ جانے کی خواہش پالنا بہت عجیب ہے۔ زندہ شعور لوگوں کا معاملہ یہی ہے ،

(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں