Daily Mashriq

کیا نشر ہوگا، کیا چھپے گا؟ یہ ہم بتائیں گے!

کیا نشر ہوگا، کیا چھپے گا؟ یہ ہم بتائیں گے!

کپڑے دھونے والے پائوڈر کے ایک برانڈ نے اپنی تشہیری مہم کا نعرہ یہ بنایا کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں اور اس نعرے نے اس واشنگ پاڈر کو خوب مقبولیت بھی بخشی۔ماہرین کے مطابق اس کامیابی کا راز صاف ستھرائی کے حوالے سے پیش کردہ نعرے کے منفرد خیال میں چھپا ہے۔ جہاں دیگر حریف واشنگ پا ئوڈر کمپنیاں صاف ستھرا رہنے کی اہمیت کو اپنی تشہیر میں استعمال کرتی ہیں وہیں اس کمپنی نے داغ تو اچھے ہوتے ہیں کا تصور دے کر یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ داغ دھبوں سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ ان سے باآسانی جان چھڑائی جاسکتی ہے۔تاہم سیاست میں دھبوں سے جان چھڑانا اتنا اسان نہیں جتنا واشنگ پاڈر کے اشتہارات میں نظر آتا ہے۔ مگر لگتا ہے کہ عمران خان اور ان کی حکومت کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہے۔ ان کی جماعت پر ایک کے بعد دوسرا داغ لگتا جا رہا ہے، اور ان کی ساکھ کو آخری بار داغ اس وقت لگا جب انہوں نے پریس کی آزادی کے حوالے سے چند فیصلے کیے، یہ ایسا داغ ہے جو ایک مدت تک دھونے سے نہیں دھلے گا۔یہ معاملہ اب بڑھ کر شرمساری کا باعث بننے والا سوال بن چکا ہے جس کے جوابات دینا حکومت کے بس میں نہیں، خاص طور پر بین الاقوامی سطح پر تو بالکل بھی نہیں۔ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کو میڈیا سے متعلق موضوع پر منعقدہ کانفرنس کے دوران ایسے ہی ایک سوال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔دوسری طرف جب عمران خان امریکی دورے پر تھے تب ان سے ایک سے زائد بار اس حوالے سے سوالات پوچھے گئے۔ ان سوالوں کی وجہ سے عمران خان کی ایک دو راتیں تو ضرور بے چینی سے کروٹ بدلتے گزری ہوں گی کیونکہ ان کا یہ وہ واحد جواب ہے جس سے وہ متعدد مشاہدہ کار بھی مطمئن نظر نہیں آتے جو ان کے دورہ واشنگٹن کے معترف ہیں۔آخر پریس کی آزادی اتنا بڑا مسئلہ کیوں بن چکا ہے؟خطرات کا گھیرا تنگ ہوتا دکھائی دیتا ہے، جس کا اندازہ ٹاک شوز کے دوران آوازوں کو میوٹ (آواز بند)کیے جانے سے ہی لگایا جاسکتا ہے۔ تاہم یہ مسئلہ اس وقت سنگین ہوا جب آصف علی زرداری اور مریم نواز کے انٹرویوز کو نشر ہونے کے چند منٹوں بعد ہی بند کردیا گیا۔ بعدازاں یہ خبر آئی کہ مریم نواز کے بیانات کو ٹی وی پر براہِ راست دکھانا قانون کے منافی ہے اور حکومت یہاں مجرم دکھائی دی۔اس پورے معاملے میں یہ بھی خوب اندازہ ہوا کہ حکمراں جماعت اور کابینہ میں چند ایسی آوازیں موجود ہیں جو میڈیا کے حوالے سے حکومتی رویے پر پریشان ہیں۔ خاص طور پر وہ آوازیں جو مختلف وجوہات کی بنا پر صحافیوں سے ہم کلام ہوتی ہیں اور جنہیں بار بار انہی سوالات کا سامنا کرنا پڑا جن سوالوں کا سامنا عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے اپنے غیر ملکی دوروں پر کیا۔ اور عمران خان کی امریکا سے واپسی کے بعد کابینہ اجلاس اور پارٹی کے دیگر داخلی فورمز پر بھی اس مسئلے کو اٹھایا گیا ہے۔ایک سے زائد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)والوں نے اب انہیں یقین دلانے کی کوششیں کی ہیں جو یہ دیکھ رہے ہیں کہ عمران خان اپنی میڈیا حکمت عملی پر دوبارہ سوچنے پر قائل ہوچکے ہیں(تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا اور پابندیوں کو کس طرح ختم کیا جائے گا۔)لیکن شکوک و شبہات کی گنجائش اب بھی موجود ہے کیونکہ معاملہ اتنا آسان اور سادہ نہیں ہے جتنا پی ٹی آئی پر تنقید کرنے والوں یا پھر پی ٹی آئی کے ان حامیوں کو لگتا ہے جو یہ وعدہ کر رہے ہیں کہ ایک اور یوٹرن آنے کو ہے۔پہلی بات، میڈیا پر بندشوں کی ابتدا نئی نہیں ہے، بلکہ یہ پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے اور پختون مہم یا عام انتخابات کے دنوں سے بھی پرانی ہے۔ اس نوعیت کی پہلی (ناکام)کوشش جنرل مشرف نے 2007 میں کی لیکن اس میں بھی بے ضبط پریس کی قبولیت پر ریاست کی بے چینی کے آثار نمایاں تھے اور پھر ہم نے جلد ہی اس ناکام شخص کو قصہ پارینہ بنا دیا۔ مگر اس وقت سے لے کر اب تک میڈیا پر بندشوں کے پہلے سے بہتر طریقہ کار لائے جاتے رہے اور منظرنامے پر موجود زیادہ تر سیاسی کھلاڑیوں نے ان طریقہ کاروں کو بہتر سے بہتر بنانے کی پوری پوری کوشش کی۔اب یہ بتانا تو مشکل ہے کہ کس تاریخ کو میڈیا پر قدغن لگائی گئی کیونکہ اس نوعیت کے ابتدائی اقدامات کی مخالفت نہیں کی گئی تھی بلکہ ان کی زبردست انداز میں حمایت کی گئی۔ نتیجتاً ایک آدھ افراد نے تاریخ میں قائم ہوتی مثال پر توجہ مبذول کی۔کیا اس کی ابتدا الطاف حسین پر پابندی عائد ہونے کے بعد ہوئی یا پھر تمام چینلوں کی جانب سے ان کی تقاریر براہِ راست نشر کرنے کے بعد؟ یا پھر جب پیمرا نے ریگولیٹری اقدام کے نام پر چینلوں کی نشریات بند کرنا شروع کردی تھیں؟ 2014 میں ایسا جیو اور اے آر وائے دونوں کے ساتھ الطاف حسین پر پابندی عائد کیے جانے کے عدالتی حکم آنے سے ایک سال قبل ہوا تھا۔ تب سے لے کر اب تک حالات بگاڑ کی طرف مائل رہے ہیں، اور جب ایک دوسرے چینل کی نشریات عبوری طور پر بند کرنے کی خبر سامنے آئی تو کسی ایک فرد(حتیٰ کہ صحافیوں) کو ذرا سا بھی حیرت کا جھٹکا نہیں لگا۔ ایک نئی رسم وجود میں آچکی تھی، اور یہ سب مسلم لیگ(ن) کی حکومت میں ہوا تھا، اور ہاں قومی اسمبلی میں سائبر کرائم قوانین کا بل جب منظور ہوا تب بھی مسلم لیگ(ن)برسرِاقتدار تھی۔ایک طرف پیمرا ایڈوائز ریوں کے ذریعے اپنی ریگولیٹری کا کام جاری رکھے ہوئے ہے ، (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں