Daily Mashriq

تن سارا زخم زخم ہے

تن سارا زخم زخم ہے

فارسی کا ایک بہت ہی مشہور شعر ہے جسے راقم نے اردو کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے تاہم اس کا ذکر آگے چل کر آئے گا،پہلے فارسی شعر سے لطف اٹھایئے جو کچھ یوں ہے کہ

پنبہ نہم کجا کجا

تن ہمہ داغ داغ شد

زخموں پر پھا ہا رکھنے کا سلسلہ صدیوں سے چلا آرہا ہے اس حوالے سے قدیم دور سے ٹکور کرنے کا طریقہ رائج ہے اور گزشتہ روز خیبرپختونخوا کے سینئر فنکاروں اور اہل قلم وہنر کا ایک وفد سینئر صوبائی وزیر برائے سیاحت وثقافت عاطف خان سے ملاا ور انہوں نے وزیر موصوف کے سامنے اپنے''زخم''پیش کئے،یعنی اپنے مسائل سے انہیں آگاہ کیا تو عاطف خان نے محولہ بالا فارسی شعر کی مانند ان کے دکھی دلوں کی فریاد سن کر اس کے علاج کی یقین دہانی کرائی،تاہم جتنی شکایتیں فنکاروں نے گنوائیں ،اس پر یقیناً سینئر صوبائی وزیر نے بھی سوچا ہوگا کہ

پھایا رکھوں کہاں کہاں

تن سارا زخم زخم ہے

فنکاروں اور اہل قلم وہنر کا مسئلہ بہت گھمبیر ہے،یہ معاملہ تب سے شروع ہواجب ایم ایم اے کی حکومت نے خیبرپختونخوا کے اہل فن وثقافت کے حوالے سے ایک نہایت سخت گیر پالیسی اختیار کر کے صوبے میں ہر قسم کی ثقافتی سرگرمیوں پر نہ صرف پابندی لگائی بلکہ ڈبگری بازار میں جہاں بعض بالا خانوں میں وہ لوگ آباد تھے جو شادی بیاہ اور خوشی کی دیگر تقریبات میں اپنے فن کا مظاہرہ کر کے روزی روٹی کماتے تھے،ان فنکاروں کے خلاف کریک ڈائون کیا گیا اور انہیں بہ امر مجبوری صوبہ بدری اختیار کرنا پڑی،بلکہ بعض بہت ہی اچھے گلوکار اور گلو کارائوں نے ملک سے ہی بوریا بستر باندھا اور بیرون ملک جابسے،جبکہ ہال میں ہونے والی ثقافتی سرگرمیاں جن میں سٹیج ڈرامے شوز اور اسی نوع کی دیگر تقریبات تھیں،ان پر پابندی لگنے سے صورتحال خاصی خراب ہوگئی،مستزاد یہ کہ پی ٹی وی نے علاقائی ڈراموں اور مزاحیہ پروگراموں کی تعدادکم کردی ،جس کے نتیجے میں فن وثقافت کو بطور پیشہ اختیار کرنے والوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑگئے اور ان کے گھروں میں بھوک اور افلاس نے ڈیرے ڈال دیئے یہ ایک ایساطبقہ تھا جو اپنی عزت نفس کی خاطر کسی کے آگے ہاتھ بھی نہیں پھیلا سکتا تھا،لے دے کر سکندرپورہ چوک میں قائم سی ڈی ڈراموں کی ایک خود ساختہ''انڈسٹری'' نے ان میں سے بعض لوگوں کو وقتی طور پر سہارا دیا اور نہ صرف موسیقی کے پروگراموں کی بلکہ پشتو ڈراموں کی سی ڈی پر ریکارڈنگ کر کے مقامی سطح پر کم جبکہ خلیجی ممالک میں مقیم پختونوں کو لبھانے کیلئے زیادہ اہم کردار ادا کرنا شروع کیا،مگر ایک تو ان پروگراموں اور ڈراموں کا معیار انتہائی پست تھا کہ ان پر کوئی قاعدہ قانون لاگو نہیں تھااور وہ جو مرضی ریکارڈ کر کے انگریزی زبان کے لفظ Obsceneیعنی غیر شائستہ پروگراموں کی صورت پیش کر دیتے تھے بلکہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے،ان ڈراموں اور سٹیج شوز میں بعض مناظر پختون روایات کی دھجیاں بکھیرتے نظر آتے ہیںمگر سنسر شپ کی عدم موجودگی کی وجہ سے ان پرہاتھ ڈالنا ممکن نہیں ہے،اس وجہ سے نوجوان نسل کی اخلاقیات پر انتہائی منفی اور مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں،جبکہ ان سی ڈیز میں کام کرنے والے فنکاروں میں بہت ہی کم ایسے لوگ ہیں جن کو معقول معاوضہ ملتا ہے اور عام طور پر چھوٹے فنکاروں کا استحصال کیا جاتا ہے،یعنی ایک دریچہ وا ہونے کے باوجود فنکاروں کے گھروں میں رزق کی تنگی ختم ہونے میں نہیں آرہی ہے،گویا بقول شکیل جاذب

تم سے کیا شہر کے حالات کی تفصیل کہوں

مختصر تم کو بتاتا ہوں میاں خیر نہیں

ایک طویل عرصے تک رزق کیلئے تگ ودو کرتے ہوئے ان فنکاروں کی اس وقت سنی گئی جب وزیراعظم عمران خان نے فنکاروں کی فلاح وبہبود کیلئے اپنا وژن واضح کرتے ہوئے انہیں وظائف دینے کا پروگرام پیش کیا،تحریک انصاف کے گزشتہ یعنی پرویز خٹک دور میں پہلی بار اس پر عمل کرتے ہوئے انہیں8ماہ تک معقول رقم دی گئی اور گزشتہ مالی سال کے دوران وزیراعلیٰ محمود خان نے بھی ثقافت کے زندہ امین کے نام سے اس پروگرام کو جاری رکھتے ہوئے پانچ سو ہنروروں کو مبلغ30ہزار روپے ماہانہ امدادی رقم8ماہ کے عرصے تک کیلئے تقسیم کی،تاہم اب کی باربعض وجوہات کی وجہ سے اس پروگرام پر کچھ لوگوں نے اعتراج اٹھائے اور معاملہ عدالت عالیہ اور پھر نیب کے پاس چلا گیا،جس کا اب فیصلہ ہوچکا ہے،اس دوران میں اگرچہ وزیراعلیٰ نے آئندہ کیلئے امدادی وظائف کی تعداد دوگنا کرنے یعنی پانچ سو افراد کی بجائے ایک ہزار افراد کو دینے کا بھی اعلان کیا تھا،تاہم موجودہ مالی سال کے بجٹ میں اس کیلئے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی،اور اسی معاملے میں اہل قلم وفنکارگزشتہ روز سینئر صوبائی وزیر عاطف خان سے جا کر ملے، جنہوں نے اگرچہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ہنروروں کی داد رسی کریں گے،تاہم یہ کب تک ممکن ہوگا،وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا ،البتہ ہم وزیر اعلیٰ محمود خان اور وزیر ثقافت عاطف خان سے یہ گزارش ضرورکر سکتے ہیں کہ بقول حیدر علی آتش

باراں کی طرح لطف وکرم عام کئے جا

آیا ہے جو دنیا میں تو کچھ کام کئے جا

متعلقہ خبریں