Daily Mashriq

بے ستوں افلاک بے بنیاد رقصاں ہے زمیں

بے ستوں افلاک بے بنیاد رقصاں ہے زمیں

دنیا والوں کی نظروں میں شیریں خسرو پرویز کی ملکہ تھی لیکن فرہاد اسے اپنے خوابوں کی ملکہ کہتا تھا۔ اپنی دھڑکنوں کا وارث سمجھتا تھا۔ اپنے زندہ رہنے کا جواز جانتا تھا۔ اس نے شیریں کو حاصل کرنے کے لئے

کاوے کاوے سخت جانیہائے تنہائی نہ پوچھ

صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا

جیسا چیلنج قبول کرلیا۔ شیریں خسرو پرویز کی ملکہ بننے سے پہلے سنگ تراش فرہاد کا نگار خانہ دیکھنے آئی تھی۔ بس اس ہی روز سے وہ شیریں پر فریفتہ ہوگیا۔ شیریں کے چلے جانے کے بعد اس نے اس کا بت تراشا اور اس بت کو دل کے نہاں خانے میں سجا کر پوجنے لگا، ایران اور بلوچستان والے دودھ کو شیر کہتے تھے اس لئے انہوں نے اس شیر و شکر حسینہ کا نام شیریں رکھا تھا۔ کتنا دکھ پہنچا ہوگا فرہاد کو شیریں کے بیاہ کی خبر سن کر لیکن بقول شاعر مشرق وہ زندگی کی حقیقتوں کو جانتا تھا

زندگی کی حقیقت کوہکن کے دل سے پوچھ

جوئے شیر و تیشہ و سنگ گراں ہے زندگی

جس وقت فرہاد کی طلب صادق نے کوہ بے ستون کا سینہ چیر کر دودھ کی نہر نکال لی تو خسرو پرویز نے یو ٹرن لیتے ہوئے اس کے کانوں تک یہ جھوٹی افواہ پہنچا دی کہ اے فرہاد جس کے لئے تونے کوہ بے ستوں کا سینہ چیر کر دودھ کی نہر کھودی ہے وہ تو زندہ ہی نہیں رہی۔ مر گئی ہے تیرے غم میں تیری شیریں۔

بے ستوں کو کاٹ کر لایا تھا ظالم جوئے شیر

کوہ کن کے حسرتوں پر پھر بھی پانی پھر گیا

فرہاد نے شیریں کے مر جانے کی جھوٹی خبر سن کراپنے سر پر تیشہ مارا اوروہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔ کہتے ہیں فرہاد کے تیشے کی ضرب اس کے سر پر پڑنی تھی کہ اس کی ٹھیس شیریں نے اپنے سر میں محسوس کی اور وہ بھی اپنی جان جان آفریں کے حوالہ کرکے امر ہوگئی۔ دونوں کو ایک ہی مرقد میں دفنایا گیا جو آج بھی پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دور افتادہ مقام پر موجود ہے۔ لیکن وہ دودھ کی نہر کہاں گئی ؟ اگر اس کے متعلق کہہ دیا جائے کہ بہہ رہی ہے وہ نہر شیریں فرہاد کی عشقیہ لوک داستان میں جس سے مستفید ہوتے رہتے ہیں عقل و فراست سے عاری منزل عشق کے راہی تو یہ بات غلط نہ ہوگی۔ دودھ کی نہروں کے متعلق جنت کے طلب گاروں کو بھی بشارت دی گئی ہے لیکن اہل عقل و دانش اس بات پر سو فی صد متفق ہیں کہ جو قدرو قیمت ماں کی مامتا بھری چھاتیوں کے دودھ کی ہے اس کے سامنے نہ قصر شیریں تک پہنچنے والی دودھ کی نہر کی رسائی ہے نہ خلد بریں کی دودھ کی نہریں اس کا بدل ہوسکتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ آپ میری اس بات سے متفق ہوں لیکن یکم اگست کو پاکستان سمیت ساری دنیا میں ماں کے دودھ کی اہمیت کے حوالے سے منائے جانے والے دن کے موقع پر دنیا بھر کے ماہرین نیوٹریشن کا متفقہ پیغام ہے کہ شیر خوار بچوں کے لئے ماں کے دودھ جیسی نعمت غیر مترقبہ سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں جبھی تو سمجھدار مائیں غیرتمند بچوں کو اپنے دودھ کی قسم دیا کرتی ہیں۔ماں کا دودھ بچوں کی نشونماء میں بہترین کردار ادا کرتا ہے ، سمجھدار مائیں اپنے بچوں کو اپنی مامتا کی چھاؤں میں رکھ کر انہیں زیادہ سے زیادہ دودھ پلانے کی کوشش کرتی ہیں ، لیکن کچھ مائیں ایسی بھی ہیں جو بچے کو وقفے وقفے سے دودھ دینا پسند کرتی ہیں ، ان کے خیال میں ایسا کرنے سے بچہ سیر حاصل ہوکر دودھ پیتا ہے لیکن ماں کی چھاتیوں میں دودھ کی مقدار کم ہوجاتی ہے ، اور یوں جب بچے کو بھوک لگتی رہتی ہے تو اس کو پلانے کے لئے دودھ نہیں بچتا، ایسا سوچنے والی مائیں بچے کی نشونما میں حارج ہونے کا باعث بنتی ہیں ، کہتے ہیں جب تک بچہ نہ روئے اسے ماں دودھ نہیں دیتی ، اور بچہ روتا تب ہی ہے جب اسے دودھ پینے کی طلب ہوتی ہے یا اسے دودھ پینے کی بھوک اس قدر ستاتی ہے کہ وہ چیخ چیخ کر رونے پر مجبور ہوجاتا ہے ،اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی حکمت عملی ہے کہ بچے کی پیدائش سے پہلے ہی اس کا رزق ماں کے دودھ کی صورت پہنچ جاتا ہے ، جب قدرت بچے پر اس قدر مہربان ہے یا وہ یہ اہتمام کرتی ہے تو ہم کون ہونے ہیں دانے دانے یا قطرے قطرے پہ لکھا ہے کھانے یا پینے والے کے نام کو مٹا نے والے ، کچھ فیشن زدہ مائیں اپنے جسم کو سڈول رکھنے کے لئے یا کسی اور مجبوری کی وجہ سے نومولودبچے کو دودھ دینا پسند نہیں کرتیں اور یوں وہ انہیں فیڈر میں ڈبے کا دودھ پلانے کا عادی کردیتی ہیں،ایسا کرنے والی مائیں بچوں کو اس کے پیدائشی حق سے محروم کر رہی ہوتی ہیں ، ماہرین صحت کا خیال ہے کہ ہر ماں اپنے بچے کواس کی عمر کے دوسرے سال تاک متواتر دودھ دے سکتی ہے اس سے بچے کے اندر مدافعاتی نظام پروان چڑھتا ہے اور وہ بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے ،دودھ پلانے والی مائیں نہ شیریں ہوتی ہیں نہ ان کے بچے فرہاد، لیکن ان کا مقام کوہ بے ستون سے بھی اونچا ہوتا ہے کہ وہی منبع ہوتی ہیں داستان شیریں و فرہاد میں بہنے والی دودھ کی نہر وںکی

بے ستوں افلاک بے بنیاد رقصاں ہے زمیں

تھام رکھا ہے کسی نے یہ جہاں کوئی تو ہے

متعلقہ خبریں