Daily Mashriq

وہ حبس ہے کہ لو کی دعا مانگتے ہیں لوگ

وہ حبس ہے کہ لو کی دعا مانگتے ہیں لوگ

حبس سے بھری صبحیں کہ شام تک ڈھلتے ڈھلتے دلوں کو بیزاریوں کی ان بلندیوں تک لے جاتی ہیں کہ بندہ چاہتا ہے کہ موسموں کی شدتوں پر انسان قادر کیوں نہیں ۔قدرت کا دعویٰ تو بے شک اس ذات یایزل ہی کی شان ہے مگر اسی ذات نے ''لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم''کہہ کر اپنی تمام تر تخلیقات پر انسان کو فضیلت کا تاج پہنایا ہے اور انسان نے اپنے اس خالق کے اس اعتراف پر پورا اترنے کی پوری کوشش بھی کی ہے ۔ علم و آگہی کاسفر انسان کی بے سروسامانی سے شروع ہوکر آج اس دنیا سے نکل کائنات کے خزانوں تک پھیلنے کے لیے پر تول رہا ہے ۔ زندگی کو اپنے قابو میں کرنے کی انسان کی کوششیں کیا کیا گل کھلا رہی ہیں ۔ ہماری نسل کے لوگوں کی حیرتوں کی تو انتہاؤں میں مذید گنجائش ہی نہیں رہی ۔ایک سوشل میڈیا کے کرشمے ہی ہمیں حیران کرکے ساتھ ہی پریشان کردیتے ہیں ۔ بات تو موسموں کی ہورہی تھی اور موسم سارے اللہ کی شان ہی تو ہیں کہ ایک ہی زمین اور ایک ہی سورج کبھی آسمانوں سے برف برستی ہے اور کبھی وہی آسمان آگ برسانے لگتا ہے۔مگر انسان کہ ایک ٹمپریچر سے اوپر نیچے ہونے پر چیخنے لگتا ہے اور سردی سے بچنے کے لیے آگ جلاتا ہے اور گرمی سے بچنے کے لیے پانی سے دوستی پر مجبور ہوجاتا ہے ۔ انسان روز ازل سے اس نیچر کے ساتھ نبرد آزما رہا ہے مگر نیچر ایک ایسا دیو ہے کہ جس کو انسان اپنی حکمت کی رسیوں سے باندھ نہیں سکا ۔سیلاب ،زلزلے ، آندھیاںاور طوفان یہ سب نیچر ہی تو ہیںاور نیچر اپنے طریقے سے چلتی ہے اور انسان اسے قابو کرنے کی کوشش میں خود وکو تھکا دیتا ہے ۔ نیچر کے بھی دو حوالے ہیں ایک متوازی اور ایک غیر متوازی۔متوازی حوالے میںسورج،چاند زمین و آسمان اور ان کی گردشیںہیں اور ان گردشوں کے نتیجے میںآنے والی معلوم تبدیلیاں ہیں اور دوسراغیر متوازی حوالہ وہ ہے کہ جو معلوم نہیں ہے زمین و آسمان میں نہ دکھائی دینے والی تبدیلیاں اور ان تبدیلیوں کے نتائج جو کسی تباہی کا باعث ہوجائیں ۔ نیچر کے اپنے مقاصد ہیں اور وہ اپنے مقاصد پر پوری قطعیت کے ساتھ عمل پیرا ہے ۔ ہم جس منطقے میں بستے ہیں یہاں فطرت کے ممکنہ تمام حوالے موجود ہیں ۔پہاڑ ،دریا،باغات ،پھول ،پھل ،معدنیات اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتیں جھٹلاؤگے ۔ان تمام نعمتوں کے پس منظر میں یہی چار موسم اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ مسئلہ صرف اتنا ہے کہ یہ موسم ہمارے بدن پر کیا اچھا اور برا اثرا پیدا کرتے ہیں ۔ سردی ہمیں نڈھال کردیتی ہے اور گرمی ہمارے جسم اور اندرونی نظام کو ایسا گرما دیتی ہے کہ انسان کی چیخیں نکل جاتی ہیں ۔ انسان نے موسموں پر قدرت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور کامیاب بھی ہوئے ہیں۔سائبریا میں بھی انسان بستا ہے اور صحارہ کے صحرا ئوں اور رین فارسٹ میں بھی بسنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ انسان بڑا سخت جان ہے اور یہ سخت جانی اللہ نے انسان کو عطا کردی ہے ۔انسان اسی سخت جانی کے ساتھ اللہ کی پھیلائی ہوئی زمین پر زندگی کو ممکن کیے ہوئے ہے ۔ اللہ نے موسم کی شدتوں کے ساتھ انسان کو انہی موسموں سے زندگی کا عرق نکالنے اور زندگی کے امکانات کو روزروشن کیا ہے ۔ انسان چونکہ زود رنج ہے اور بہت جلدی حالات سے گھبراجاتا ہے اور چیخ و پکار شروع کردیتا ہے ۔ ماضی میں جب بجلی اورگیس کی سہولت موجود نہیں تھی تب بھی شہروں اور دیہات میں انسان انہی موسموں کے ساتھ زندہ تھے اور معمولی وسائل کے ساتھ ان موسموں میں اپنی شادی غمی ،رسم ورواج کے ساتھ زندگی گزارتے تھے ۔ لیکن آج ہمارے پاس کیا نہیں ہے ۔ اے سی ،ہیٹر ،بجلی ،گیس اور کم سے کم پنکھا تو ہر کسی کو میسر ہے ۔ لیکن پھر بھی ہم بے سکونی کا شکار ہیں ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آسائشوں کی حد اتنی زیادہ ہے کہ ہم ہر آسائش کوحاصل کرنا چاہتے ہیں۔ماضی میں بھی سماج میں کلاس کا فرق موجود تھا لیکن اس کلاس کے بُعد کے باوجود عام اور خواص کی زندگی میں کوئی بہت بڑا فرق موجود نہیں تھا ۔گرمی اور سردی کو عام وخواص تقریباً ایک ہی انداز سے گزارتا تھا۔ اور نہ ہی اس زمانے میں مادہ پرستی کا رجحان موجود تھا۔ سادگی انسان کے لیے بہت بڑی نعمت ہے ۔ سادگی کی بدولت ماضی کا انسان بہت سی سختیوں کو اپنے داخل اور خارج کو مطمئن رکھ سکتا تھا۔ لیکن آج ہم بہت کچھ ہونے کے باوجود داخلی اور خارجی سطح پر ناآسودگی کا شکار ہیں۔ مادہ پرستی نے ہماری زندگیوں میں ایک ایسا جراثیم ڈال دیا ہے کہ جس نے سادگی کو ہماری زندگی سے نکال دیاہے ۔اور وہ جراثیم ہے ناتمام خواہشوں کی تکمیل۔سماج کی کلاس کا اتنا فرق آچکا ہے کہ نچلی کلاسوں کے لوگ اوپر کی کلاسوں کی طرف دیکھنے پر مجبور ہیں اور ہر انہی جیسی پرآسائش زندگی کی تلاش میں ہے ۔ چاہے حرام ہو کہ حلال بس ہمیں آسائش کی طلب ہے اور ان آسائشوں کاحصول ہی زندگی کا مطمح نظر رہتا ہے ۔ ایسے عالم میں جب ہمسائے میں لوڈ شیڈنگ کے وقت ہائی فائی جنریٹر اس گھر کے پنکھے اور اے سی چلا رہا ہو اور دوسرے گھرمیں یو پی ایس بھی نہیں اور چھت کا پنکھا کسی مردے کی طرح بے حس و حرکت اور خاموش ہے تو داخلی اور خارجی گرمی ان لمحوں میں روحانی گھٹن کا شکار کرسکتی ہے کہ بے سکونی کی ایسی انتہا کہ کوئی سوچ بھی نہ سکے ۔ سوال موسموں کی شدت کا نہیں ہے بلکہ زندگی کے لائف سٹائل کا ہے۔ ہم نے اپنے لیے جو لائف سٹائل چنا ہے اس میں بے سکونی کی مقدار زیادہ ہے اس لیے اسے بھگتنا بھی ہمیں ہی پڑے گا۔

متعلقہ خبریں