Daily Mashriq

انسانی اعضاء کی پیوندکاری جانوروں میں ہوگی

انسانی اعضاء کی پیوندکاری جانوروں میں ہوگی

انسانی اعضاء کو ابتدائی طور پر جانوروں میں لگایا جائے گا—اسکرین شاٹ/ ہولی وڈ فلم دی فرسٹ کیٹ

جاپانی حکومت نے اپنے قوانین میں تبدیلی کرکے ماہرین کو جانوروں میں انسانی اعضاء کی پیوندکاری و نشو و ونما کی اجازت دے دی۔

جاپانی ماہرین پہلے بھی چوہوں اور سوئر میں انسانی اعضاء کی پیوندکاری کے تجربات کرتے رہے ہیں اور ان میں انہیں ابتدائی کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں۔

جاپانی ماہرین نے چوہوں کے پیٹ میں ایک لبلبہ تیار کرکے اسے دوسرے چوہے میں ٹرانسپلانٹ کرنے کا کامیاب تجربہ بھی کر چکے ہیں۔

تاہم اب حکومت نے ماہرین کو بڑے پیمانے پر جانوروں میں انسانی اعضاء کی پیوندکاری و نشو و نما کی اجازت دے دی۔

سائنسی جریدے ’نیچر‘ کے مطابق اسٹین فورڈ یونیورسٹی کے ماہر پروفیسر ہیرو موتسو ناکاؤچی کی تجویز پر جاپانی حکومت نے انسانی اعضاء کی پیوندکاری و نشو و نما کے قوانین میں تبدیل کردی۔

قوانین میں تبدیلی کے بعد پروفیسر ہیرو موتسو ناکاؤچی اور ان کی ٹیم کو بڑے پیمانے پر جانوروں کے پیٹ میں انسانی اعضاء کی پیوندکاری و نشو نما کرنے کی قانونی اجازت مل گئی۔

قوانین میں تبدیلی کے بعد اب جاپانی ماہرین ابتدائی طور پر انسانی اعضاء کی چوہوں یا اسی طرح کے دیگر انتہائی چھوٹے جانوروں کے پیٹ میں پیوندکاری کریں گے، جس کے بعد ان اعضاء کو وہاں سے کسی اور جانور میں منتقل کرکے ان کی نشو و نما کی جائے گی۔

اس عمل میں کافی وقت لگ سکتا ہے اور یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ ماہرین کب تک بڑے پیمانے پر انسانی اعضاء کی پیوندکاری اور نشو و نما کرنے کے بعد تیار کیے گئے اعضاء کو کسی جانور یا انسان میں منتقل کریں گے۔

ابتدائی طور پر تیار کیے گئے نئے اعضاء کو ماہرین جانوروں میں ہی استعمال کریں گے۔

جانوروں میں انسانی اعضاء کی کامیاب ٹرانسپلانٹیشن کے بعد انہیں کسی بھی بیمار یا ضرورت مند انسان میں ٹرانسپلانٹ کرنے کے تجربات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب کئی ماہرین نے اس متنازع تجربے کو بڑے پیمانے پر قانونی قرار دیے جانے پر اعتراض بھی کیا ہے اور مستقبل میں انسانی صحت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ جانوروں میں پیوند اور نشو و نما کیے گئے اعضاء کو انسانوں میں منتقل کرنے سے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ان سے آنے والے وقت میں جانوروں سمیت انسان کی نسل کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور کامیاب تجربات کے بعد انسان و جانور کے اعضاء پر مشتمل ایک نئی نسل سامنے آ سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں