Daily Mashriq

ڈالر کی اُڑان ، مزیدمشکلات کا نقارہ

ڈالر کی اُڑان ، مزیدمشکلات کا نقارہ

ملکی تاریخ میں ڈالر کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ ملکی معیشت و اقتصادیات کیلئے پریشان کن صورتحال کا حامل معاملہ ہے۔ ڈالر142کی حدچھوکر 138روپے پر آگیا، اسٹیٹ بینک نے سود8.50سے بڑھا کر 10فیصد کردیا، سونے کی قیمت 64ہزار تولہ سے بڑھ گئی،سو نے کی قیمت میں ایک ہزار روپے فی تولہ اضافہ ہوا،اسٹیٹ بینک کاکہناہے کہ مالی سال 2019کے پہلے 4ماہ کے دوران مہنگائی میں مزید اضافے کا امکان ہے،ملکی زر مبادلہ کے ذخائربڑھ کر 14 ارب 57 کروڑ ڈالر ہو گئے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق ڈالر کی بڑھتی قیمت کو دیکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے کمرشل بینکوں سے رابطے کر کے صرف حقیقی خریداروں کو ڈالر فروخت کرنے کے احکامات جاری کیے جس سے ڈالر 142 روپے سے نیچے آگیا مگر ڈالر جمعرات کی نسبت 3.7روپے مہنگا ہوگیا ۔معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت آئی ایم ایف کے دبائو پر ڈالر کی قیمت کو مینج کر رہی ہے جس کی وجہ سے کرنسی مارکیٹ میںبے چینی اور عدم استحکام ہے، موجودہ معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے امپورٹرز ڈالر کی زیادہ سے ز یادہ خریداری کر کے ذخیرہ کر رہے ہیں۔ رواں سال ہی جون کے مہینے میں ڈالر مزید بڑھا اور ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح(اس وقت کی)یعنی 121 روپے پر پہنچ گیا تھا۔پاکستان میں نگران حکومت کے دور میں الیکشن کے انعقاد سے قبل امریکی ڈالر 118 روپے سے بڑھ کر 130 تک پہنچ گیا تھا لیکن الیکشن کے بعد ملک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر 122 روپے میں فروخت ہونے لگا۔مگر بات یہاں نہ رکی اور موجودہ حکومت کی جانب سے عالمی مالیاتی ادارے سے قرضہ لینے کے فیصلے کے فوراً بعد ہی ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھا دیکھا گیا اور انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 138 روپے تک پہنچ گیا لیکن پھر قدرے کم ہونے کے بعد 133 پر آکر رک گیا تھا۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے سے اشیائے خوردونوش کیساتھ بجلی ٹیرف میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے اور آنے والے دنوں میں ملک کے اقتصادی مسائل میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔ تازہ صورتحال سے اس امر کا عندیہ ملتا ہے کہ یہ صورتحال حکومت کی طرف سے آئی ایم ایف کو اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ بیل آئوٹ پیکج کے لیے اس کی سخت شرائط ماننے کو تیار ہے کیوں کہ اسٹیٹ بینک نے اوپن مارکیٹ میںامریکی ڈالر کی قیمت میں 8روپے تک اضافے کی اجازت دے دی ہے جو 141اعشاریہ5روپے تک پہنچ گئی ہے، جب کہ انٹر بینک مارکیٹ 5اعشاریہ 60روپے اضافے کے ساتھ 139اعشاریہ1روپے پر بند ہوئی۔اگر پاکستان آئی ایم ایف سے ڈیل کرلیتا ہے تو ڈالر کی قیمت 145روپے سے 150روپے تک جاسکتی ہے ۔اسٹیٹ بینک، وزارت خزانہ کے اشارے کے بغیر پاکستانی روپیہ کی قدر میں اتنی بڑی کمی کی اجازت نہیں دے سکتاتھا۔اس لیے یہ اقدام آئی ایم ایف کو یہ اشارہ دینے کے لیے کیا گیا ہے کہ وہ 6-7ارب ڈالرز کے پیکج کے حصول کے لیے سخت شرائط ماننے کو تیار ہے۔آئی ایم ایف کے وفد نے 20نومبر کو ختم ہونے والے مذاکرات میں بجلی ٹیرف میں 22فیصد اضافے کا کہا تھا اور حکومت کو تجویز دی تھی کہ وہ مارکیٹ قوتوں کو امریکی ڈالرز کی قیمتوں کا تعین کرنے دے۔حالانکہ وفاقی وزارت خزانہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط نہیں مانیں اوربیرونی زرمبادلہ کا بحران ختم ہو گیا ہے لیکن اس کے باوجود انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر ہی ڈالر کی بلند پرواز شروع ہو گئی۔جس سے اس دعوے کی عملی طور پر نفی ہوتی ہے۔اس بارے دورائے نہیں کہ تازہ صورتحال نہ صرف ملکی معیشت کیلئے نقصان دہ ہے بلکہ اس سے عام آدمی بھی بری طرح متاثر ہوگا۔ صنعتی پیداوار کی لاگت بڑھے گی معیشت سست روی اور جمود کا شکار ہوگی۔ اس سے ایکسپورٹ میں اضافے کا خواب بھی پورا نہیں ہوگا۔ روپے کے بارے میں آئی ایم ایف کے دبائو پر ڈی فلوٹ کی پالیسی ہماری معیشت کیلئے اچھی نہیں ہے اس کے نتائج ملکی معیشت اور حکومت کیلئے اچھے نہیں ہوں گے۔ اگرچہ شارٹ ٹرم کچھ فائدہ ہوگا مگر بعدازاں ایکسپورٹ کی لاگت بھی بڑھے گی۔ افراط زر اور انٹرسٹ ریٹ بڑھے گا۔ امپورٹ کی قیمت بڑھنے سے پیداواری لاگت بھی بڑھے گی۔ملک کی معاشی صورتحال کوئی سیاسی معاملہ نہیں اور نہ ہی اعدادوشمار سے کسی کو انکار ممکن ہے۔ خود وزیراعظم اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ 2013ء میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ ڈھائی ارب ڈالر کا تھا جو 2018ء میںساڑھے اٹھارہ ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا۔لیکن دوسری جانب افسوسناک امر یہ ہے کہ وزیراعظم کو اس صورتحال کا یا تو درست ادراک نہیں اور ان کی معاشی ٹیم ان کی درست سمت میں رہنمائی نہیں کررہی ہے یا انہوں نے پھر قوم کو طفل تسلیاں دینے کیلئے یہ بیان دیا ہے۔ ان کی اس بات سے کسی طور اتفاق نہیں کیا جا سکتا کہ کرنٹ اکائونٹ کے اس خسارے پر آگے جا کر قابو پایا جا سکتا ہے جو ممکن نظر نہیں آتا۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ ڈالر کی قیمت میں اس اچانک ا ضافے سے ایک ہی جست میں قوم پر واجب الادا قرضوں میں تقریباً سولہ سو ارب ڈالر کا اضافہ ہوا وزیراعظم نے محولہ طفل تسلیاںقبل ازیں اپنے ہی ان تین ماہ کی حکومت کے دوران ڈالر کی قیمت میں استحکام کے حوالے سے دی تھی جو غلط ثابت ہوا۔ وزیراعظم نے سعودی عرب چین اور متحدہ عرب امارات سے جن قرضوں کی امید پر محولہ بیان دیا تھا ان میں سے سعودی عرب سے صرف ایک ارب ڈالر ہی آئے جبکہ چین اور متحدہ عرب امارات سے کسی مالی امداد کا کوئی عندیہ نہیں ملا۔ وزیراعظم ملیشیا ء سے بھی کامیاب نہ لوٹ سکے۔ اس وقت جبکہ پوری دنیا کی معیشت خطرات سے دوچار ہے کسی ملک سے اس بحران سے نکلنے کے بقدر دستگیری حقیقت پسندانہ امر نہیں جسے سمجھنے اور اس کے مطابق اقدامات کی ضرورت ہے۔ایسا لگتا ہے کہ حکومت بالآخر انکار درانکار کے باوجود آئی ایم ایف ہی سے رجوع کررہی ہے اور حالیہ اقدامات اس امر پر دال ہیں کہ حکومت آئی ایم ایف سے سخت شرائط پر قرضے لے گی جس سے افراط زر میں مزید اور ہوشربا اضافہ ہوگا اور ساتھ ہی بیروزگاری بڑھے گی۔خدانخواستہ 2019ء پاکستانی عوام اور خاص طور پر عام آدمی کیلئے معاشی طور پر بہت براثابت ہوگا۔

متعلقہ خبریں