Daily Mashriq


مشترکہ ثقافتی ورثے کے تحفظ کی ضرورت

مشترکہ ثقافتی ورثے کے تحفظ کی ضرورت

پشاور میں کپورخاندان کی معدوم ومخدوش ہوتی حویلی کو بحال کر کے میوزیم بنانے کی اطلاعات پشاور کے شہریوں اور فلمی دنیا سے محبت رکھنے والوں کیلئے خوش خبری سے کم نہیں ۔ پاکستان اور بھارت میں ایسے قدرمشترک ورثے ہیںجن کا تحفظ کیا جائے اور توجہ دی جائے تو اس سے دونوں ممالک کے مشترکہ ورثہ کا نہ صرف تحفظ ہوگا بلکہ اس سے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ ہوگا اور سیاحت کے مواقع ملیں گے ۔ کرتارپور کی سرحد کھولنے کا معاملہ ہو یا پشاور میں کپور خاندان کی حویلی یا دلیپ کمار سے متعلق یادوں کو محفوظ بنانے کی سعی اس ضمن میں مشترکہ طور پر پیشرفت ہونی چاہیئے اور بھارت کوبھی اس میں حصہ ڈالنا چاہیئے۔ جہاں تک ان یادگاروں سے متعلق قانونی معاملات کا تعلق ہے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اتنے پیچیدہ نہیں کہ حکومت تنازعے کے کرداروں کو مصالحت پر راضی کر کے ان مقامات کا ثقافتی ورثہ کے طور پر تحفظ یقینی بنائے ۔ ان مقامات کوپبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے طور پر بھی تحفظ وبحالی کا بندوبست کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ ان کی اہمیت کو سمجھا جائے اور اس کیلئے اقدامات کئے جائیں۔

چترال میں سیاحتی مقامات کو فروغ دینے کا احسن منصوبہ

خیبر پختونخواکے سینئر وزیر برائے سیاحت، کھیل وامورنوجوانان محمد عاطف خان کی صوبے میں اور بالخصوص چترال کے دو اضلاع میں سیاحت کی ترقی پر سنجیدگی سے توجہ کوئی پوشیدہ امر نہیں ۔ انہوں نے محکمہ کھیل کے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ چترال میں موجود پولو گرائونڈز جلد ازجلد بحال کرکے تمام سہولیات سے آراستہ کئے جائیں۔ سینئر وزیر نے کہا کہ پولو چترال کا روایتی کھیل ہے جسے دیکھنے کیلئے غیر ملکی سیاح بھی آتے ہیں۔اس روایتی کھیل کو مزید ترقی دی جائیگی۔ علاوہ ازیں چترال میں پولو گراونڈز کی بحالی کے علاوہ پولو اکیڈمی بھی بنائی جائیگی جہاں سے پولو کے مایہ ناز کھلاڑی ابھر کر سامنے آئینگے۔ وطن عزیز میں سیاحت کے فروغ میں چترال کی اہمیت مسلمہ ہے جہاں غیر ملکی سیاح بڑی تعداد میں آتے ہیں۔چترال میں آباد کیلاش قبیلہ اپنی منفرد طرززندگی اور ثقافت رکھتا ہے۔جبکہ چترال میں کئی ایسے مقامات موجود ہیں جن کا سیاحوں کیلئے کشش کا باعث ہونا فطری امر ہے۔ چترال میں اب تک قدیم مقامات اور ورثے کو سامنے لانے پر توجہ نہیں دی گئی حالانکہ چترال کے طول وعرض اور پہاڑوں پر صدیوں پرانے کھنڈرات اور آثار موجود ہیںجن کا کھوج لگانے اور سامنے لانے کی ضرورت ہے ۔ چترال کی قدیم تاریخ ہے اور مختلف قسم کے ادوار گزرے ہیں جو مختلف تہذیبوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ صرف یہی نہیں چترال میں ایسی ایسی وادیاں اورسیاحوں کی دلچسپی کے مقامات ہیں جن کی سیاحت ہر سیاح کا خواب بنایا جا سکتا ہے۔ جولائی کے آخری ہفتے میں دنیا کا بلند ترین پولو گرائونڈ شندور کے مس جنا لی ہو یا کیلاش قبیلے کے تہوار اور ان کی ثقافت طرز حیات اور رہن سہن سے متعلق کھوج درجنوں ایسی دلچسپیاں ہیں جو اس پر امن اور یہاں کے مہذب باسیوں کی مہمان نوازی کے باعث سیاحوں کا دل جیتنے کیلئے کافی ہیں ۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ چترال کے قدیم پولو گرائونڈ تجاوزات کے باعث معدوم ہونے کے قریب ہیں جن سے تجاوزات کا خاتمہ کرکے پولو کے کھیل کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔توقع کی جانی چاہیئے کہ چترال میں سیاحت کے فروغ کیلئے نہ صرف محکمہ سیاحت اقدامات کرے گا بلکہ دیگر اداروں کو بھی سیاحوں کو آمدورفت ، تحفظ،بودوباش اور دیگر ضروری سہولیات مہیا کی جائیں گی جس کے نتیجے میں سیاحت کے فروغ کا مطلوبہ ہدف ممکن ہوسکے گا۔

متعلقہ خبریں