Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

عمران خان کے لوگوں کو مرغی کے انڈے اور چوزے دینے کے منصوبے کو شیخ چلی کا منصوبہ قرار دینے کا لوگوں کو پورا حق ہے اگر شیخ چلی کی طرح کے منصوبے بنیں گے اور اس پر شیخ چلی کی طرح کا عمل ہوگا تو منصوبہ شیخ چلی کا کہلائے گا۔ شیخ چلی انڈوں سے نفع کو خوبصورت خاتون سے شادی تک نہ لے جاجاتا اور خود روز گار تک رکھتے تویوںبدنام نہ ہوتے۔ جس منصوبے کو آج ہم شیخ چلی کا منصوبہ کہہ کر مذاق اڑارہے ہیں اس قسم کے منصوبے سے تو بل گیٹ کو بھی اتفاق ہے اور بنگلہ دیش کا گرا مین بنک اسی طرح تووجود میں آیا تھا۔ عمران خان اور ان کے بعض حواریوں نے سٹیج پر لوگوں کو جو خواب دکھائے تھے وہ شیخ چلی کے خواب ضرورتھے لیکن ککڑی اور کٹا دینے کا منصوبہ عملی ہے البتہ بھر پور میک اپ اور جدید لباس میں اٹھتی جوانیوں کے جس ماحول میں وزیراعظم نے چوزوں کے لفظ کی بجائے مرغی کے بچے دینے کا اعلان کیا وہ کچھ مضحکہ خیز تھا۔ چوزے پالنے اور مویشی پال کر اپنا گزارہ چلانے کا راز گائوں کی کسی خاتون سے پوچھیں۔ گائوں میں مویشی پال کر اور تھوڑی بہت کا شتکاری کر کے لاکھوں خاندان اپنا روزمرہ کا گزارہ چلارہے ہیں بابائے مشرقیات کے تئیں یہ منصوبہ بے نظیر انکم سپورٹ سے کہیں بہتر منصوبہ ہے ۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقوم اگر غریبوں کو چھوٹے چھوٹے روزگار مرغی پالنے ، مویشی پالنے ، دستکاری اور گھریلو طور پر اشیا تیار کرکے فروخت کرنے اور چھوٹا موٹا کاروبار وروزگار پیدا کرنے کیلئے دیا جاتا تو آج وطن عزیزکے قریہ قریہ میں لوگ خود روزگار کر رہے ہوتے ۔ ایسا تو ضرورہوا ہے کہ پی ٹی آئی والوں نے طرح طرح کے دعوے کئے لارے لپے دیئے اور پھر خود ہی پیچھے ہٹ گئے لیکن مذاق کا نشانہ بننے والا ان کا یہ منصوبہ اگر خلوص نیت سے چلا یا جائے اور اسے شیخ چلی کا منصوبہ بنانے کی بجائے عملی طور پر کامیاب بنانے کی کوشش کی جائے تو احسن ہوگا۔ موضوع کی خشکی سے نکلتے ہیں کہ تبدیلی سرکار کی چھتری تلے محکمہ تعلیم کی ایک خاتون افسر کے سکول میں ٹھمکے اور چاپلوسی کیلئے سکول پرنسپل کا اس پرنوٹ نچھاور کرنے کی ویڈیو کے وائرل ہونے کی شنید ہے فی الوقت شنید ہی ہے۔ اس لئے سیر حاصل تبصرہ ممکن نہیں پی ٹی آئی کلچر کے طور پر دھرنوں کے دنوں سے اس کی پریکٹس جاری ہے۔ مردوں کی گرلز سکولوں میں داخلے پر پابندی کے بعد ملنے والی آزادی کا فائدہ اٹھانا اچھی بات ہے لیکن طالبات کو تمیز سکھائیںٹھمکے نہیں ۔ایک وکیل عدالت میں اپنے ہی موکل کیخلاف دلائل دے رہے تھے معاون وکیل نے دو تین مرتبہ توجہ دلانے کی کوشش کی مگر اپنے ہی موکل کیخلاف وکیل دلائل دیتے رہے جب اختتام پر ابھی بیٹھنے ہی والے تھے کہ جونیئر وکیل نے بڑی زور سے اپنے استاد کا کوٹ کھینچاجس کے بعد وکیل نے پینترا بدلتے ہوئے کہا کہ می لارڈ یہ وہ دلائل تھے جو میرا مخالف وکیل دے سکتا تھا اب میرے دلائل سنیئے بابائے مشرقیات کے مخالفانہ دلائل کیلئے اگلے مشرقیات کا انتظار فرمائیں۔

متعلقہ خبریں