Daily Mashriq

ککڑی کٹے کی بحث

ککڑی کٹے کی بحث

وزیر اعظم عمران خان نے کم آمدنی والے لوگوں کے فائدے کے لیے مرغی اور کٹے پالنے کی جو بات کی تھی اسے طنزاً ’’ککڑی اور کٹے‘‘کی بحث بنا دیا گیا ہے۔ اس بحث میں عام آدمی شریک نہیں ہیں بلکہ متمول اہلِ سیاست بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اور اس خیال کو تضحیک کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ حالانکہ وزیر اعظم نے کوئی نئی بات نہیں کی تھی ۔ مرغیاں ہمارے ہاں غریب لوگوں کے گھروں میں پالی جاتی ہیں ‘ شہروں میں اب کم پالی جاتی ہیں لیکن دیہات میں اب بھی اس کا رواج ہے۔ اسی طرح یہ بھی سب جانتے ہیں کہ لوگ گایوں ‘ بھینسوں کے نر بچوں کو چند ماہ بعد ہی قصابوں کے ہاتھوں بیچ دیتے ہیں اور بچھیوں کٹیوں کو پالتے ہیں کیوں کہ یہ بڑی ہو کر گائے اور بھینسیں بنتی ہیں۔ یہ رواج اس زمانے سے چلا آ رہا ہے جب بڑا گوشت بالعموم بہت کم فروخت ہو تا تھا اور اس کے خریداروں کو غریب سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے بیلوں اور بھینسوں کا پالنا فائدہ مند نہیں سمجھا جاتا تھا۔ آج بچھڑے اور بھینسے کا گوشت بہت مہنگا ہے ۔ رنج کی بات یہ ہے کہ مرغبانی اور مویشی بانی کو صنعت تو کجا گھریلو صنعت کے طور پر بھی فروغ نہیں دیا جا سکا ۔ کچھ اس میں حکومتوں کی کم کوشی تھی اور کچھ سماجی تحفظات لیکن اس اہم شعبے کو نظر انداز کر کے بڑا نقصان کیا گیا۔ جیسا کہ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ مرغیاں پالنے سے غریب لوگوں کی آمدنی اور ان کی خوراک میں پروٹین کا اضافہ ہو گا ۔ اور بچھڑے کے پالنے سے متوسط طبقے کے مویشی بان منافع حاصل کر سکتے ہیں۔ بچھڑے اب بھی پالے جاتے ہیں لیکن عید قربان پر فروخت کرنے کے لیے حالانکہ مویشیوں کی افزائش پر حلال گوشت کی صنعت کے حوالے سے غور کیا جانا ضروری ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان کی نظر میں اس کا یہی پہلو ہے انہوںنے یہ بات کرنے سے پہلے کہا تھا کہ دنیا میں حلال گوشت کی صنعت میںپاکستان کا حصہ نہیں ہے جو ہونا چاہیے۔ جو وزیر اعظم عمران خان نے نہیں کہا وہ یہ تھا کہ اس کو صنعت کے درجے تک لانے کے لیے سسٹم بنایا جا سکتا ہے ۔ مرغیاں گھریلو صنعت کے طور پر پالنے کے لیے انہیں صحت مند رکھنے اور بااثر لوگوں سے محفوظ رکھنے کا بندوبست ہونا چاہیے‘ ان کی حفاظت ‘ انڈوں اور مرغوں کی خریداری کا بندوبست ہونا چاہیے ۔ بچھڑے اور کٹے دو سال میں تیار ہوتے ہیں‘ اس عرصے میں ان پر خرچ ہوتا ہے‘ اس کا تخمینہ اور ان کی خوراک اور انہیں صحت مند رکھنے کے لیے دوائیوں کی سپلائی کا بندوبست ہونا چاہیے۔ ان کی افزائش کے لیے مشاورت بہم پہنچانے کا بندوبست ہونا چاہیے۔ سندھ ‘ خیبر پختونخوا اور سب سے بڑھ کر بلوچستان میں بکریاں صدیوں پرانے طریقے سے پالی جاتی ہیں۔ جدید خطوط پر ان کی افزائش کے ذریعے حلال گوشت کی صنعت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ مرغیوں‘ بکریوں اور گایوں بھینسوں سے حاصل ہونے والی مصنوعات کی نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی بہت بڑی مارکیٹ ہے۔ وسطی ایشیاء میں نہ صرف پاکستان کی گندم کی بڑی مارکیٹ ہے بلکہ دودھ اور گوشت کی مانگ بھی اتنی ہے کہ سردست جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن ہمارے ہاں نہ پھلوں اور سبزیوں کو ڈبوں میں محفوظ رکھنے کی طرف توجہ دی گئی ہے ‘ نہ گوشت کو۔ ایک وجہ یہ ہے کہ نئے خیالات کو قبول کرنے کے لیے ہمارے دیہی لوگ تیار نہیںہوتے۔ اس کے لیے ایوب خان کے زمانے میں جس طرح صنعت کو فروغ دیاگیا ‘ اس کی مثال سامنے رکھی جانی چاہیے۔ اس زمانے میں پی آئی ڈی سی کے ذمے یہ کام تھا کہ وہ کارخانہ لگائے گی ‘ اسے منفعت بخش طور پر چلائے گی اور اس کے بعد پرائیویٹ سیکٹر میں دے دیا جائے گا۔اس زمانے میں مغربی پاکستان میںکپڑے کے صرف دو کارخانے تھے۔ پی آئی ڈی سی کے ذریعے اس معمولی شروعات کے بعد آج پاکستان میں کارخانوں پر غور کیا جائے تو یہ شرح کئی ہزار گنا بنتی ہے۔ پھلوں ‘ سبزیوں اور گوشت کی بند ڈبوں میں محفوظ کرنے کی صنعت کے لیے ان کے خام مال کی خریداری کا سسٹم بنانا ضروری ہو گا۔ آج بند ڈبوں میں دودھ فروخت کرنے والی کمپنیاں خود دیہات میں جا کر چلر لگا دیتی ہیں ‘ وہاں کے چھوٹے چھوٹے شیرفروش ان چلرز کو دودھ سپلائی کرتے ہیں ۔ اگر گوشت ‘ سبزیوں اور پھلوں کو بند ڈبوں میں محفوظ کرنے کے کارخانے دیہات میں جا کر خریداروں کا بندوبست کریں تو یہ صنعت چند سال میں بڑی صنعت بن سکتی ہے۔ شرط یہ ہو گی کہ خریداری اور تیاری میں بین الاقوامی معیار کی سختی کی پابندی کی جائے۔ مرغبانوں اور مویشی بانوں کو رعایتیں اور سہولتیں دی جائیں تو وہ بہتر ین پولٹری اور مویشی پیدا کر سکتے ہیں۔ ایک بار دیسی مرغی ‘ بکری اور بیل کا معیاری گوشت مارکیٹ میں آئے گاتو نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی اس کی طلب بڑھے گی ۔ شرط وہی ہے کہ خریداری اور تیاری میں بین الاقوامی معیار کی سختی سے پابندی کی جائے۔ بازار میں اس وقت جو فارمی مرغی فروخت ہو رہی ہے لوگ اس سے بیزار ہیں۔ بعض لوگوںکو اس کی خوراک کے حوالے سے بھی ‘ اس کے حلال ہونے کے بارے میں تحفظات ہیں۔ گوشت کے بارے میں بھی اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ کہیں یہ بیمار جانوروںکا گوشت تو نہیں ہے۔ اخبارات میں خبریں شائع ہوتی رہی ہیں کہ کتوں اور گدھوں تک کا گوشت فروخت ہو جاتا ہے اور مرے ہوئے جانوروں کا گوشت بھی فروخت کر دیا جاتا ہے۔ فارمی مرغی کا گوشت فروخت کرنے والی صرف ایک کمپنی یہ اشتہار دیتی ہے کہ اس کی مرغیاں اس کے اپنے فارموں میں تیار کی جاتی ہیں اور انہیں سبزیوں اور اناج پر پروان چڑھایا جاتا ہے۔ عام فارمر جو خوراک مرغیوںکو کھلاتے ہیں اس کی طرف فوڈ اتھارٹی والوں کا کبھی دھیان نہیں گیا۔ اگر بند ڈبوں میں معیاری گوشت مارکیٹ میں آئے گا تو لوگ اس طرح رجوع کریں گے۔ لیکن شرط یہی ہے کہ خریداری اور تیاری میں بین الاقوامی معیار کی سختی سے پابندی کی جائے۔ اور یہ صنعت زرِمبادلہ کے حصول کا باعث بنے گی۔

متعلقہ خبریں