Daily Mashriq

100روزہ حکومتی کارکردگی اور وزیر اعظم کا خطاب

100روزہ حکومتی کارکردگی اور وزیر اعظم کا خطاب

مجھے یاد پڑتا ہے کہ نوا ز شریف نے وزیر اعظم بننے کے بعد قوم سے اپنا پہلا خطاب دو ماہ کے بعد کیا تھا۔ بظاہر ان دو مہینوں میں چہرے سے وہ بڑے متفکر دکھائی دیتے تھے لیکن درحقیقت ان کے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا کیونکہ کچھ کرنے کی ان میں لگن تھی اور نہ ہی جستجو۔ عمران خان نے وزیر بنتے ہی قوم سے جو غیر رسمی خطاب کیا اس کو سن کر ہر کسی کویوں لگاکہ جو کچھ انہوں نے کہا ہے گویا یہ بھی میرے دل میں تھا۔ بعد ازاں اپنے رسمی خطاب میں جب وہ قوم سے مخاطب ہوئے تو پاکستانی قوم کو پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ ان کا وزیر اعظم ان سے باتیں کر رہا ہے ‘ قبل ازیں اس قوم سے روبوٹ خطاب کیا کرتے تھے۔ عمران خان لکھی تقریر نہیں پڑھتے ‘ ان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے ‘ وہ پاکستانی قوم کے مسائل سے بدرجہ اتم آگاہ ہیں ‘ وہ ہر موضوع پر گھنٹوں بول سکتے ہی ‘ انہوں نے مسائل کو نچلی سطح سے دیکھا اور سمجھا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ دنیا کے مہذب ممالک نے ان مسائل سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا؟ملکی اور غیر ملکی امور پر ان کا مطالعہ بہت وسیع ہے اور اس سے بڑھ کر ان کا عزم اور حوصلہ ہے جو اعلیٰ درجے کی قیادت کا خاصا ہوا کرتا ہے۔ اپوزیشن ان سو دنوں پر جیسی بھی تنقید کرے وہ اس کا حق ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نئے پاکستان کی جانب سفر کا آغاز ہو چکا ہے۔ ارباب شہزاد نے جن 18مکمل شدہ اہداف کی بات کی اُس پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالنے سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ نئے پاکستان کا نقشہ کیا ہوگا۔ گورننس کی اصلاح پاکستان کا مسئلہ نمبر ایک ہے اور یہ عمران خان کی ترجیحات میں بھی پہلے نمبر پر ہے۔ عمران خان اپنے پیش رو حکمرانوں کی طرح پاکستان کو ڈے ٹو ڈے کی بنیاد پر چلانا نہیں چاہتے بلکہ وہ نظام کی مکمل اوور ہالنگ کر کے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ مجھے یہ لکھنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ نظام کی اوور ہالنگ کیے بغیر پاکستان آگے بڑھ ہی نہیں سکتا۔ پاکستان نے آگے بڑھنا ہے تو ہمیں اس کرپٹ اور فرسودہ نظام کو درست کرنا ہو گا۔ گورننس کی اصلاح کی مد میں جو اہم کام اب تک سرانجام دیے گئے ہیں ان کی تفصیل جان کر حیرت ہوتی ہے کہ اتنے قلیل وقت میں کتنا کام کر لیا گیا ہے۔ احتساب کی مد میں کام تیزی سے جاری ہے‘ خاص طور پر بیرون ملک پڑی ہوئی غیر قانونی دولت کو پاکستان واپس لانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں ۔ اس ضمن میں ایک ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جو لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کے لیے کام کرے گی۔ میوچل لیگل اسسٹنس بل تیار ہے اور برطانیہ کے ساتھ جسٹس اینڈ اکاؤنٹیبلٹی پارٹنر شپ کا معاہدہ ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم نے کنونشن سنٹر میں اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ سوئٹزر لینڈ سے بھی ایک معاہدہ طے پا چکا ہے جس سے ان اکاؤنٹس تک رسائی ملے گی جن میں غیر قانونی دولت موجود ہے۔ تعزیرات پاکستان میں ضروری تبدیلیاں لانے کے لیے قانون سازی ہو چکی ہے۔ وزیر قانون نے کریمنل اور سول لاء میں ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے ایک بل تیار کر لیا ہے جن کی وجہ سے مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر ہوتی تھی۔ عوام کو نچلی سطح تک اقتدار منتقل کرنے کے لیے نیا لوکل گورنمنٹ ایکٹ لایا جا رہاہے جو پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اگلے سال نافذ العمل ہو گا۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب لوگوں کو مفت وکیل کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ہیومن رائٹس کی وزارت کے تحت لیگل ریڈ اتھارٹی قائم کی جا رہی ہے۔ کالم کی تنگ دامنی تفصیل کی متحمل نہیں مختصراً ذکر کرتا چلوں کہ ان سو دنوں میں عمران خان کی حکومت نے جہاں گورننس کی درستگی کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں وہیں انہوں نے ایگری کلچر کے فروغ‘ پانی کو ذخیر ہ کرنے‘ پاکستان کی قومی سلامتی‘ معیشت کی بہتری اور فیڈریشن کی مضبوطی کے لیے اپنے ویژن کے مطابق کام کی ابتداء کی ہے۔ اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور اعلان کیا کہ اگلے سال جون میں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ قائم کر دیا جائے اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی کا تقرر کر دیا جائے گا۔ کل کا مؤرخ وزیر اعظم عمران خان کے سو روزہ ایجنڈے کی بابت جب لکھے گا تو وہ ایک بات لکھے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا اور وہ یہ کہ پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ایسا حکمران آیا جس نے مسائل کو نہایت باریک بینی سے دیکھا اور ان کے احاطے کے بعد ان سے نمٹنے کی مخلصانہ تدبیر کی۔ مدینہ کی ریاست طرز حکمرانی میں عمران خان کی ماڈل حکومت ہے اور وہ بخوبی آگاہ ہیں کہ ریاست مدینہ دو بنیادی اوصاف کی حامل تھی‘انصاف اور رحم دلی۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں ان دو اوصاف کی خاص نشاندہی کی جس سے یہ سمجھنے کا موقع ملا کہ عمران خان اپنی حکومت کو کِن بنیادوں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے قبل ازیں قوم کے نام جو پہلا باضابطہ خطاب کیا تھا اُس میں بھی خاص طور پر ’’رحم دلی‘‘ (Compassion)پر زور دیا تھا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کو بے چھت لوگوں کی مدد کرنے کے لیے لاہور اور راولپنڈی میں شیلٹر ہومز بنانے کی ہدایت کے پیچھے یہی ’’رحم دلی‘‘ کا جذبہ ہے۔ مجھے یہ سطور لکھتے ہوئے اس بات کی خوشی ہے کہ عمران خان پاکستان کو ماڈل اسلامی ریاست بنانے کے اُس مشن پر گامزن ہیں جس کا خواب بانیانِ پاکستان نے دیکھا تھا۔ قائد اعظم ؒ اور علامہ اقبالؒ کے تصورات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پاکستان میں حقیقی معنوں میں پہلی بار درست سمت کی طرف جس سفر کا آغاز ہوا ہے اس کا سہرا بلاشبہ وزیر اعظم عمران خان کے سر ہے۔

متعلقہ خبریں