Daily Mashriq

مہنگائی سے پھیلی ابتری کا علاج کیاہے؟

مہنگائی سے پھیلی ابتری کا علاج کیاہے؟

مہنگائی کی بدترین صورتحال میں شہریوں کے لئے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرتے ہوئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 2روپے ‘مٹی کا تیل 3روپے‘ لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 5روپے کی کمی کردی ہے۔ اور ایل پی جی 14روپے سستی ۔ گویہ کمی بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی موجودہ قیمتوں کے تناسب سے بہت کم ہے اور اب بھی حکومت اور آئل کمپنیوں کا منافع بہت زیادہ ہے اس کے باوجود صارفین کو کچھ نہ کچھ ریلیف بہر طور ملے گا۔ اس طرح اگر حکومت گیس اور بجلی کے نرخوں میں بھی لوگوں کی قوت خرید کو مد نظر رکھتے ہوئے کمی کرے تو مہنگائی کے طوفان بلا کا علاج ممکن ہے۔ دوسری طرف جمعہ کے دن امریکی ڈالر کے انٹرا بنک ریٹ میں 8 روپے اضافہ ہوا۔ مارکیٹ کے اختتام پر پاکستانی روپے کی قدر میں تازہ کمی سے سونے کی قیمت میں ایک ہزار روپے اضافہ ہوا۔ زر مبادلہ کے ذخائر 14 ارب57 کروڑ ڈالر کی سطح پر آگئے۔ ڈالر کی قیمت میں پچھلے 100دنوں کے دوران مجموعی طور پر15 روپے کا اضافہ ہوا‘ یورو کی قیمت میں 21.50روپے برطانوی پائونڈ 24 روپے آسٹریلین ڈالر 15روپے۔ کینیڈین ڈالر ساڑھے 13روپے‘ سعودی ریال سوا5روپے‘ اماراتی درہم ساڑھے 5روپے اور کویتی دینار کی قیمت میں ساڑھے 35 روپے کا اضافہ ہوا۔ روپے کی قدر میں اس تناسب سے کمی یقینا پریشان کن ہے۔ بیرونی قرضوں کی شرح میں سوا دو کھرب کا اضافہ روپے کی قدر میں مسلسل ہوتی کمی کی وجہ سے ہوا۔

اس صورتحال میں یہ سوال دریافت کرنا نا مناسب نہیں ہوگا کہ کیا حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان غیر اعلانیہ طور پر کچھ طے پا گیا ہے؟ وزیر خزانہ اسد عمر کہتے ہیں کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے کا آئی ایم ایف سے کوئی تعلق نہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ عارضی مشکلات ہیں۔ بیرونی سرمایہ کاری آئے گی۔ روپیہ کی قدر میں جلد اضافہ ہوگا۔ عوام گھبرائیں نہیں۔ موجودہ معاشی صورتحال میں حزب اختلاف کی دونوں بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی جواب آں غزل پر توجہ نہ بھی دی جائے تو بھی یہ امر مسلمہ ہے کہ اصلاح احوال کی کوئی صورت فوری طور پر بنتی دکھائی دے رہی ہے نہ معیشت کے کھیت میں امیدوں کے ساتھ تبدیلی کاشت ہو پائی۔ ایک حیران کن امر یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی جو پچھلے کم از کم 10برسوں سے تواتر کے ساتھ یہ کہتی چلی آرہی تھی کہ ملک سے لوٹے گئے 200 ارب ڈالر بیرون ملک پڑے ہیں اس کی قیادت اب دو سو ڈالر کی بجائے 11ارب ڈالر بیرون ملک پڑے ہیں کی بات کر رہی ہے۔ باقی ماندہ 189 ارب ڈالر کیا ہوئے۔ کیا وہ محض الزاماتی سیاست کی جگالی کا حصہ تھے؟۔

جمعہ کے روز اپوزیشن کی ایک بڑی جماعت نون لیگ نے پی ٹی آئی حکومت کے اولین 100دنوں کا وائٹ پیپر جاری کیا جبکہ دوسری جماعت پی پی پی کے سربراہ بلاول بھٹو نے بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ حکومت کے سیاسی مخالفین معاشی صورتحال کے حوالے سے جو کہہ رہے ہیں اسے محض یہ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ مخالفین اس کے سوا اور کیا کریں گے۔ روپے کی قدر میں مسلسل کمی کے مرتب شدہ اثرات معاشی ماہرین‘ کاروباری اور شہری حلقوں کے سامنے ہیں۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ پچھلے سوا تین ماہ کے دوران مہنگائی کی شرح میں لگ بھگ 37 فیصد اضافہ ہوا۔ روز مرہ ضرورت کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی شرح سے عام طبقات سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ ریاستی بنک کے ذمہ داران یہ کہہ رہے ہیں کہ مہنگائی مزید بڑھے گی۔ ادھر سٹیٹ بنک نے شرح سود میں 1.5 فیصد اضافہ کردیا ساڑھے 8فیصد کی بجائے شرح سود اب 10فیصد کی سطح پر ہے۔ غور طلب امر یہ ہے کہ حکومت کے پاس ایسا کیا ہے جس سے وہ مہنگائی کے بڑھتے طوفان ‘ روپے کی قدر میں کمی‘ غربت اور بیروز گاری میں اضافے کو روک سکے؟ حکومت کے معاشی ماہرین کو ان سوالات سے آنکھیں چرانے کی بجائے عوام کو بتانا چاہئے کہ کیا آئی ایم ایف کی شرائط مان لی گئی ہیں؟ یہ سوال بھی اہمیت کا حامل ہے کہ چین کے حالیہ دورہ کے دوران وزیر اعظم اور چینی عمائدین کے درمیان کیا طے پایا۔ یہ سوال اس لئے بھی اہم ہے کہ حکومتی نمائندے کہہ چکے ہیں کہ آئی ایم ایف کو چینی معاہدوں کی تفصیلات سے دلچسپی ہے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ حکومت کو اپنی معاشی پالیسیوں سمیت چند دیگر امور پر از سر نو غور کرنا ہوگا تاکہ معاملات بہتری کی طرف بڑھ پائیں۔عام آدمی کی زندگی میں کیسے آسانیاں لائی جاسکتی ہیں اس حوالے سے یہ عرض کرنا از بس ضروری ہے کہ جب روز مرہ ضرورت کی اشیاء عام شخص کی قوت خرید میں نہ رہیں تو اس سے پیدا ہونے والی مایوسی طبقاتی تضادات کے ساتھ عدم اعتماد کی خلیج کو بھی بڑھاتی ہے۔ یہاں ہم یہ بھی عرض کرنا ضروری خیال کرتے ہیں کہ اب مسائل کی ذمہ داری کے حوالے سے ماضی کی گردان ختم کردی جانی چاہئے۔ تحریک انصاف ہمیشہ یہ تاثر دیتی رہی کہ وہ روایتی سیاسی نہیں بلکہ ایک ماڈریٹ سیاسی جماعت ہے اوراقتدار ملنے کی صورت میں ابتدائی طور پر اسے کیا کرنا ہے اس حوالے سے پالیسیاں وضع کرلی گئی ہیں۔ بد قسمتی سے اقتدار کے اب تک کے عرصہ میں اس تاثر اور دعوئوں کو تقویت نہیں ملی۔ دیگر امور میں بھی عملی اقدامات سے زیادہ پروپیگنڈے سے جی بہلایا جا رہا ہے۔ نرم سے نرم الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ مایوسی کو کامل نا امیدی میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لئے کسی تاخیر کے بغیر اقدامات کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں