Daily Mashriq

آبادیوں کے واسطے ویرانہ چاہئے 

آبادیوں کے واسطے ویرانہ چاہئے 

آج دسمبر کے مہینے کی 2تاریخ ہے اور آج ہم اس موضوع پر بات کریں گے جس کے خلاف ہمارے آباء سالہا سال سے بر سرپیکار رہے ، ان تھک محنت ، کوشش ، جہد مسلسل اور بے شمار قربانیوں کے بعدوہ کامیاب ہوگئے اس طوق غلامی کو اتار پھینکنے کے لئے کہ وہ لعنت سمجھتے تھے عہد غلامی کو ، کاٹ ڈالیں انہیں نے وہ زنجیریں کہ وہ یا ان میں سے کچھ شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے مردان مومن تھے ، وہ مردان مومن جن کے متعلق دانائے راز نے ڈنکے کی چوٹ پر کہ کہا کہ

نگاہ مرد مومون سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

ہم پا بہ جولان تھے ، ہم نے پہن رکھی تھیں یا ہم کو پہنا دی گئی تھیں غلامی کی زنجیریں ، ہم زندہ رہ کر بھی زندہ نہیں تھے کہ ہمارے گلے میں طوق غلامی تھا، ہمیں آزادی چاہئے تھی ، آزادی جو ہمارا پیدائشی حق تھا ، مگر اس حق کو سلب کیا ہوا تھا بدیشی قوتوں نے ، ہم آزادی کے نعرے لگا لگا کر شہادت کے جام نوش کرتے رہے ، اورکیا آپ جانتے ہیں ، شہادت ہی نام ہے آزادی کے متوالوں کی ابدی آزادی کا

شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن

نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی

ہمارے آباء غلامی کے خلاف نبرد آزما رہے اور جس کے بدلے میں انہوں نے لکھوکھا قربانیاں دے کر مملکت خداداد پاکستان حاصل کیا ، آج ہم بحیثیت مجموعی آزاد ملک پاکستان کے شہری کہلانے کے حوالے سے دنیا بھر میں پاکستانی کے نام سے یاد کئے جارہے ہیں ، یہ ایک استعارہ ہے ایک پہچان ہے ہمارے آزاد ہونے کی ، کہنے کو تو ہم آزاد ہیں لیکن سچ پوچھیں تو اب بھی ہم آزاد نہیں ہوئے ، عہد غلامی کی گھنگھور گھٹائیں اب بھی ہمارے ہر آسمان پر منڈلا منڈلا کر ہمارا منہ چڑا رہی ہیں ، ہم ہر نوعیت کی غلامی کا خاتمہ چاہتے ہیں ، ہم ہی نہیں آج 2دسمبر کو پوری دنیا کا ضمیر غلامی سے نجات کا دن منا کر غلامی کی جکڑن کے خلاف واویلا کررہا ہے ، غلامی اور آزادی زندگی گزارنے کے دو متضاد روئیے ہیں۔ اوردونوں ایک دوسرے کے دم سے قائم ہیں

جانتے ہیں اس راز کو ارباب حسن و عشق

آبادیوں کے واسطے ویرانہ چاہئے

اگر ویرانے نہ ہوتے تو آبادیوں کو کوئی کیسے پہچان سکتا۔ اس عالم اضداد میں روشنی کی وجہ سے ہمیں اندھیروں کی پہچان ہوتی ہے۔ دھوپ کے سبب ہم سائے کا ادراک کرتے ہیں۔ غلامی بھی ایسی ہی ایک صفت یا حالت کا نام جس کو پہچا ننے کے لئے ہمیں اس کی مخالف صفت آزادی سے واقف ہونا چاہئے اس تناظر میں ہم غلامی کے متعلق بات کرتے وقت بڑی آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ جو بندہ آزاد نہیں ہوتا وہ غلام ہوتا ہے۔ انگریز کی غلامی کے خلاف شمشیر بکف شیر میسور نے صرف ایک بار اتنا کہہ کر میدان کار زار میں چھلانگ لگا دی تھی کہ گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے، اور پھر ہم نے دیکھا کہ اس کی زبان سے ادا ہونے والا یہ جملہ رہتی دنیا تک کے لئے امر ہوگیا، کہنے کو تو آج ہم آزاد ملک کی آزاد فضاؤ ں میں زندگی کی سانسیں لے رہے ہیں لیکن ہماری اس بات کو کوئی فرد دانش جھٹلا نہیں سکتا کہ ہم اب بھی سو طرح کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں ، ہر اجیر اپنے آجر کا غلام ہے ، ہر ملازم اپنے باس کا فرماں بردار ہے ، آپ نے اینٹوں کے بھٹہ پر کام کرنے والے نسل در نسل طوق غلامی پہنے مزدوروں کے بارے میں تو سن رکھا ہوگا ، آپ نے دو وقت کی روٹی کے لئے پھول سے بچوں کو کسی تھڑے ہوٹل والے کی گالیاں تو سنتے دیکھا ہوگا، ہم میں سے بہت سے لوگ ہر روز محض اس لئے کنواں کھودنے پر مجبور ہیں کہ انہیں زندہ رہنے کے لئے دوگھونٹ پانی پینا ہے ، یہ جتنے دیہاڑی پر کام کرنے والے راج مزدور ہیں ، ہتھ ریڑھی لگا کر ، یا خون اور پسینہ بہا کر دو وقت کی روٹی کمارہے ہیں ، یا وہ لوگ جو کسی خان کے ہاں ملازمت کرنے پر مجبور ہیں ، یہ سب غلام ہی تو ہیں ، وہ جو کہتے ہیں کہ زبردست کا ٹھینگا سر پر ، ہم میں سے ہر کمزور اپنے سے زبردست کا ٹھینگا سر پر اٹھا کر زندگی کی سانسوں کا قرضہ چکا رہا ہے ، محض اس لئے کہ وہ اور اس کے زیر کفالت افراد نے زندہ رہنا ہے اور یوں ان کی یہ زندگی زندگی نہیں رہی ، طوق غلامی پہن چکی ہے ، چیخ لو کتنا چیختے ہو آج کے دن غلامی اور ہر طوق غلامی کے خلاف ، یہ غلامی یہ بے کسی یہ جکڑن تو اک ضرورت بن چکی ہے ، ہم عادی ہوگئے ہیں غلام بن کر جینے کے، کبھی ہم اپنی انا کے غلام بن جاتے ہیں کبھی نام نہاد غیر ت کے غلام بن کر ہسپتالوں جیلوں اور قبرستانوں کو آباد کرنے لگتے ہیں ، ہم غلام ہیں نام ونمود کے ، رسم و رواج کے ،حرص و ہوس اور لالچ کے ، ہم جدھر جاتے ہیں سو طرح کی غلامی ہمارا پیچھا کرنے لگتی ہے ، منشیات کے عادی لوگ اپنی چڑھتی جوانیوں کو داؤ پر لگا کر وہ زہر پھونکنے پر مجبور ہیں جو حرص و ہوس کے بے ضمیر اور ستم ایجاد غلاموں نے اپنے کھلے جبڑوں کو ان کے خون سے رنگنے کے لئے سارے معاشرے میں پھیلادی۔

متعلقہ خبریں