Daily Mashriq


بڑھتی ہوئی آبادی‘ ایک بڑا مسئلہ

بڑھتی ہوئی آبادی‘ ایک بڑا مسئلہ

میں انسانی آبادی کے حوالے سے مختلف مذاہب اور ملکوں میں مختلف نظریات و عقائد پائے جاتے ہیں۔ کسی زمانے میں مغرب میں بھی والدین کے ہاں یہ تصور شاید کسی منظم صورت میں موجود نہ تھا کہ بچے کتنے ہونے چاہئیں۔ اگرچہ سائنس و صنعت کی ترقی سے قبل پوری دنیا میں قبائلی معاشرت کے سبب یہ تصور ضرور موجود تھا کہ قبائلی عصبیت کی مضبوطی کے لئے افرادی قوت میں اضافہ ضروری ہے۔ یہی نظریہ بعد میں ابن خلدون نے بھی پیش کیا کہ عصبیت کے لحاظ سے مضبوط قبائل کو ارد گرد کے دیگر قبائل پر غلبہ و حکومت کاایک فطری حق حاصل ہوتاہے۔انیسویں صدی میں شاید پہلی دفعہ یورپ سے یہ نظریہ دیگر بہت سارے نظریات کی طرح ابھر کر سامنے آیا کہ دنیا کی آبادی جس تیز رفتاری کے ساتھ بڑھ رہی ہے موجود وسائل اس کا ساتھ نہیں دے سکیں گے لہٰذا آبادی پر کنٹرول کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ لیکن اس زمانے میں مالتھس وغیرہ کے اس نظریے کو خاطر خواہ توجہ حاصل نہ ہوسکی البتہ مغرب کی مادی ترقی نے جب تہذیبی انقلاب برپا کیا اور وہاں مادہ پرستی نے نفسا نفسی کی شکل اختیار کرلی تو میاں بیوی کے درمیان یہ حساب کتاب بھی ہونے لگا کہ کون کتنا کماتا اور کتنا خرچ کرتا ہے۔ اسی کے نتیجے میں اولاد کی تعلیم و تربیت‘ بود و باش‘ خوراک‘ لباس وغیرہ کا حساب بھی ماں باپ کے درمیان کھاتہ بہی کی بحث کا حصہ بنا۔ اگرچہ عوامل تو اور بھی تھے لیکن بنیادی طور پر مغرب کے صنعتی انقلاب کے نتیجے میں پر تعیش زندگی کے تصور اور خواب و مقصد نے وہاں معاشرے کی بنیادی اکائی خاندان ماں باپ‘ دادا دادی وغیرہ کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا۔ یہاں تک بوڑھے والدین اولڈ ہائوسز کی نذر ہو کر حکومت کے سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے رحم و کرم کے حوالے ہوئے اور ایک ہی گھر کے ادر میاں بیوی کے درمیان معاشرتی اور خاندانی تعلق کمزور پڑتا چلا گیا اور اس کے اثرات بالواسطہ اور بلا واسطہ اولاد کی تعداد اور نگہداشت پر بھی پڑے۔ کئی برسوں تک اولاد پیدا نہ کرنا اور پھر ایک یا دو بچوں کی پیدائش تک محدود رہنا اور وہ بھی سولہ اٹھارہ برس کے بعد اپنی راہوں پر چلنے کے لئے آزاد ہونا ایک عجیب و حیران کن تہذیب و ثقافت کی پہچان بنتا چلا گیا اور گزشتہ ایک صدی سے تو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ’’بچے دو ہی اچھے‘‘ کا سلوگن اتنا عام ہوا کہ چین جیسے ملکوں میں تو ’’بچہ ایک ہی اچھا‘‘ پر قانوناً عمل درآمد کرایاگیا کیونکہ چین کی آبادی جس شرح سے بڑھی تھی وہ خوراک و لباس کی شدید کمی کا باعث بن رہی تھی۔ چین میں زیادہ آبادی کے سبب شدید غربت اور منشیات کے استعمال کی کثرت تھی۔ چینی قوم کی کثیر آبادی افیون کا نشہ کرکے بے سدھ پڑی رہتی تھی۔ مائوزے تنگ نے آکر ان کو بیدار کیا اور یوں بعد میں آنے والے رہنمائوں نے ایک طرف آبادی پر قابو پانے کے لئے قانون سازی کی دوسری طرف سخت محنت کے ذریعے علوم و فنون میں ترقی کی۔ آج ایک ارب تیس چالیس کروڑ کی آبادی کے باوجود وہاں ہمارے ہاں کی طرح خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے کم ہیں۔ گزشہ نصف صدی میں چین کے حکمرانوں نے آبادی میں اضافے کو روک کر ستر کروڑ لوگوں کو غربت سے نکال کر متوسط زندگی گزارنے کے قابل بنایا۔لیکن اپنا یعنی پاکستان کا مسئلہ عجیب ہے اس لئے پیچیدہ اور مشکل ہے۔ پاکستان کا معاشرتی ڈھانچہ مرد کے غلبے کا حامل ہے۔ یہاں آج بھی نرینہ اولاد وراثت اور بعض دیگر حوالوں سے اس حد تک ضروری سمجھی جاتی ہے کہ اس کے لئے بعض اوقات شادیوں پر شادیاں ہوتی ہیں۔ اور عام طور پر ایک بیٹے کے آرزو میں پانچ چھ بیٹیوں کے پیدا ہونے کا سامنا بھی کرنا پڑ جاتاہے۔ اس کے علاوہ ہمارا معاشرہ نیم خواندہ ہونے کے سبب آج بھی قبائلی فطرت لئے ہوئے ہے۔ خاندانی اور قبائلی جھگڑوں اور تنازعات میں مرد افرادی قوت کی شدید ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ بڑے بوڑھے بعض اوقات اپنے باپ دادا کے وقتوں کے بھولے بسرے معاملات’’ سدھارنے اور سلجھانے‘‘ کے لئے بیٹوں اور پوتوں کی فوج ظفر موج کی ترغیب دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ غربت مٹانے کے لئے بھی غریب والدین چھ سات بیٹے بیٹیاں پیدا کرکے ہی کسی کو فوج‘ کسی کو دبئی وغیرہ میں بھیجنے کی خواہش و آس لے کر یہ مبارک کام سر انجام دیتے ہیں۔ میرے علاقے میں تو ایک باپ کو یوں بھی سناگیا تھا کہ بیٹے سات سے کم نہیں ہونے چاہئیں۔ کیونکہ زندگی کے مختلف امور نمٹانے کے لئے افرادی قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان سارے امور پر مستزاد پاکستان کی آبادی میں اضافہ کرنے میں اہم کردار مذہبی عقائد اور تعلیمات کا بھی ہے جس کی اکثر من مانی تاویل وتعبیر کی جاتی ہے۔ یہ جملہ ہمارے ہاں بہت عام ہے کہ ’’ اللہ تعالیٰ روزی رسان ہے‘‘ یعنی بچے کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں روزی ان کو بھی ملے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں لیکن کیا بھیک مانگ مانگ کر کھانے کے قابل نہ ہونے والی خوراک بھی کوئی روزی ہوتی ہے۔ ہاں فطری مجبوریاں الگ چیز ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم قیامت کے دن اپنی بہترین امت پر فخر فرمائیں گے نہ کہ میلے کچیلے‘ پھٹے پرانے لباس میں ملبوس‘ دیگر افراد اور اقوام کی بھیک اور قرضوں پر پلنے والے اور سڑکوں اور گندگی کے ڈھیروں پر پڑے نشوں میں دھت روزی چننے والوں پر۔ اسلام اعتدال کا دین ہے۔ لہٰذا اولاد کی تعداد میں بھی میانہ روی اختیار کرنا وقت کا تقاضا ہے ورنہ شدید خطرہ ہے کہ پینے کے لئے پانی بھی دستیاب نہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں