Daily Mashriq

الیکشن کمیشن کے ارکان اور سربراہ کی تعیناتی کا مرحلہ

الیکشن کمیشن کے ارکان اور سربراہ کی تعیناتی کا مرحلہ

حکومت اور اپوزیشن جب دومختلف محاذوں پر کھڑی ہوں تو ملک وقوم کے نقصان کیساتھ ساتھ اس کا سب سے زیادہ نقصان حکومت کو ہوتا ہے' کیونکہ حکومت اپوزیشن کے عدم تعاون کے باعث قانون سازی نہیں کر سکتی' اس طرح حکومت کو اُمور سلطنت چلانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار محمد رضا کی 5دسمبر2019ء کو 5سال کی آئینی مدت پوری ہو رہی ہے جبکہ الیکشن کمیشن کے دو ارکان کے منصب تاحال خالی ہیں اور الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن کا بنچ کم ازکم 3ارکان پر مشتمل ہونا چاہئے۔ اگر چیف الیکشن کمشنر' ایک یا ایک سے زائد ارکان کا تقرر نہ ہوا تو الیکشن کمیشن غیرفعال ہو جائے گا۔ الیکشن کمیشن چونکہ آئینی ادارہ ہے اس لئے اسے غیرفعالیت سے بچانے کیلئے چیف الیکشن کمشنر اور دو ارکان کی تقرری کا عمل ان کی ریٹائرمنٹ سے کچھ عرصہ پہلے شروع ہو جانا چاہئے تھا۔ یاد رہے الیکشن کمیشن پانچ افراد یعنی ایک چیف الیکشن کمشنر اور چاروں صوبوں سے ایک ایک رکن پر مشتمل ہوتا ہے' آئین کے تحت وزیراعظم کو چیف الیکشن کمشنر یا ارکان کی تعیناتی کیلئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سے مشاورت کرنا ہوتی ہے' اس کے بعد تین ناموں پر مبنی ایک فہرست پارلیمانی کمیٹی کے پاس بھیجی جاتی ہے جو ان تین ناموں میں سے کسی ایک پر اتفاق کرنے کے بعد انہیں منتخب کر سکتی ہے' جس کے بعد صدر ان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر سکتے ہیں۔ حتمی فیصلہ کرنے والی 12رکنی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل قومی اسمبلی کے سپیکر کو کرنا ہوتی ہے جس میں نصف ارکان حکومتی بنچز سے جبکہ باقی نصف ارکان اپوزیشن جماعتوں سے ہونے چاہئیں۔ وزیراعظم عمران خان اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اپنے طور پر اگرچہ تین تین نام پیش کر دئیے ہیں لیکن چیف الیکشن کمشنر اور دیگر ارکان کی تقرری کیلئے جس قسم کے اتفاقِ رائے اور افہام وتفہیم کی ضرورت درکار ہوتی ہے، حکومتی اور اپوزیشن کی سطح پر وہ اتفاق رائے دکھائی نہیں دے رہا کیونکہ وزیراعظم عمران خان اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کا کوئی موقع خالی نہیں جانے دیتے بلکہ اپوزیشن جماعتوں کیلئے ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جو حکومت اور اپوزیشن کے مابین مزید دوریاں پیداکرنے کا سبب بنتے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام کے حوالے سے لاہور میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ''مولانا فضل الرحمان ڈیزل کے پرمٹ فتح کرنے اسلام آباد آئے تھے'' انہوں نے مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ''تیس سال سے حلوہ کھانے میں مصروف مافیا کو ڈر لگا ہوا ہے کہ اگر عمران خان کامیاب ہوگیا تو ہماری دکانیں بھی بند ہوں گی اور ہمارے پیسے بھی پکڑے جائیں گے'' وزیراعظم عمران خان اپوزیشن کیخلاف تلخ نوائی ایک ایسے وقت میں کر رہے ہیں جب حکومت کو دو اہم ایشوز کو سلجھانے اور ایوان میں قانون سازی کیلئے اپوزیشن کی حمایت کی اشد ضرورت ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی تعیناتی کے حوالے سے سپریم کورٹ نے 6ماہ کی مشروط توسیع دی ہے' ان 6ماہ کے دورانیہ میں آئینی سقم کو دور کیا جانا نہایت ضروری ہے جو اپوزیشن کے تعاون کے بغیر مشکل ہوگا' اسی طرح الیکشن کمیشن کے ارکان اور چیف الیکشن کمشنر کی تقرری میں بھی اپوزیشن لیڈر کیساتھ اتفاقِ رائے ضروری ہے، آرمی چیف کی توسیع یا دوبارہ تقرری کے حوالے سے تاحال حکومت کی جانب سے حزب اختلاف کی جماعتوں سے مجوزہ ترامیم پر اتفاق رائے کیلئے مذاکرات کیلئے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ آرمی ایکٹ میں ترامیم جیسی ماتحت قانون سازی کی منظوری کیلئے حکومتی جماعت کی قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت ہے لیکن سینیٹ میں مطلوبہ عددی قوت میں کم ہے جس پر حزب اختلاف کی جماعتوں کو اکثریت حاصل ہے یعنی بظاہر ایسا کوئی راستہ نہیں ہے کہ اپوزیشن سے بالابالا حکومت تن تنہا ان دو مشکلوں کا حل نکال سکے' اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنے مخالفین بارے جارحانہ انداز سیاست کو ترک کر کے مفاہمت کی راہ اپنائیں' مفاہمت سے بحسن خوبی امور سلطنت کو چلایا جا سکتا ہے اور حکومت کی بقا بھی مفاہمتی عمل میں ہے۔

متعلقہ خبریں