Daily Mashriq

ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے ایف بی آر کا اقدام

ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے ایف بی آر کا اقدام

ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے ایف بی آر نے بینکوں کیساتھ ایک معاہدہ کیا ہے' اس معاہدے کی بنا پر کمرشل بینک اکاؤنٹ ہولڈرز کا ڈیٹا ٹیکس حکام کو دینے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ معاہدے کے تحت ان اکاؤنٹ ہولڈرز کی تفصیلات فراہم کی جائیں گی جو یومیہ 50ہزار روپے سے ماہانہ دس لاکھ روپے نکلواتے یا ایک کروڑ روپے جمع کراتے یا ماہانہ ڈھائی لاکھ روپے کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی یا 5لاکھ روپے سے زائد کا سالانہ نفع حاصل کررہے ہیں۔ سرمائے کے لین دین کو دستاویزی بنانے کیلئے حکومت کا بینکوں کیساتھ معاہدہ احسن امر ہے' اس اقدام سے ٹیکس نیٹ میں اضافہ کے قوی امکانات ہیں۔ ہم جن ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں دیتے ہیں وہاں سرمائے کی گردش دستاویزی ہے' ہم آج تک منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے روایتی حربے ہی استعمال کرتے رہے ہیں' اب اگر سرمائے کی گردش کو دستاویزی بنایا جارہا ہے تو اس میں چند امور کا خیال رکھا جانا بہت ضروری ہے۔ مثلاً یہ کہ ایف بی آر کے حالیہ اقدام سے تاجر برادری کی طرح اکاؤنٹ ہولڈرز میں ڈر اور خوف پیدا نہ ہو کیونکہ اگر اس دستاویزی عمل سے اکاؤنٹ ہولڈرز میں خوف پھیل گیا تو لوگ بینکوں کا رُخ کرنے اور اپنا سرمایہ بینکوں میں رکھنے سے گریز کرنے لگیں گے جس سے بینکوں کے دیوالیہ ہونے کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ اکاؤنٹ ہولڈز میں خوف پیدا نہ ہونے دیا جائے اور ابتدائی مرحلے میں نرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5لاکھ روپے کی حد کو بڑھایا بھی جا سکتا ہے تاکہ سرمائے کا بحران پیدا نہ ہو۔

ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کیلئے وزیراعلیٰ کے اقدامات

ترقیاتی منصوبے بروقت تکمیل تک نہ پہنچنے کی وجہ سے بیشتر مسائل جنم لیتے ہیں' بالخصوص جن منصوبوں میں زمین کی کھدائی کی جاتی ہے کیونکہ زمین کی کھدائی سے علاقہ مکینوں کو مستقل جبکہ راہگیروںکو روزانہ کی بنیاد پر مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو وزیراعلیٰ محمود خان نے صوبے میں تکمیل کے قریب ترقیاتی منصوبوں کیلئے درکار وسائل بروقت جاری کرنے اور منصوبوں کی جلد تکمیل یقینی بنانے کیلئے عملی اقدام اُٹھایا ہے۔ بیشتر منصوبے چونکہ فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچ پاتے اس لئے وزیراعلیٰ محمود خان نے فوری طور پر فنڈز جاری کرنے کی ہدایت کر کے اس رکاوٹ کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ وزیراعلیٰ محمود خان نے سخرہ سے گبین جبہ روڈ کے ترقیاتی کام میں حائل رکاوٹیں ایک ہفتہ کے اندر دور کرنے اور مٹہ بائی پاس کیلئے حقیقت پسندانہ الائنمنٹ یقینی بنانے اور مٹہ بازار سے ایک اضافی بائی پاس کی تعمیر کیلئے منصوبہ بندی کی ہدایت کی ہے تاکہ مٹہ بازار میں موجود رش کو کم کر کے شہریوں کو سہولت دی جا سکے۔ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے وزیراعلیٰ محمود خان کے اقدامات قابلِ ستائش ہیں تاہم فنڈز کی تقسیم میں شفافیت کیساتھ ساتھ یہ امر بھی ضروری ہے کہ فنڈز کا اجراء بلاتفریق ہو۔ کیونکہ ہمارے ہاں بالعموم حکومتی نمائندوں کے علاقوں کی تعمیر وترقی پر زور دیا جاتا ہے اور اپوزیشن کے نمائندوں کے علاقوں کو جان بوجھ کر فنڈز جاری نہ کرکے نظرانداز کر دیا جاتا ہے تاکہ عوام میں ان کی سیاسی ساکھ کو کمزور کیا جا سکے حالانکہ یہ عمل جمہوریت کے مسلمہ اصولوں کیخلاف ہے۔ ہم سمجھتے ہیں وزیراعلیٰ کی طرف سے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے فنڈز کا اجراء احسن عمل ہے لیکن پورے صوبے کی ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے بلاتفریق فنڈز کا اجراء کیا جائے تاکہ فنڈز کے اجراء میں صوبائی حکومت پر جانبداری یا حکومتی نمائندوں کو نوازنے کا تاثر قائم نہ ہو۔

پشاور کی نہروں کو گندگی سے بچانے کا احسن منصوبہ

پشاور ایک قدیم اور گنجان آباد شہر ہے جس کے بیچوں بیچ چھوٹے نالے اور نہریں گزرتی ہیں۔ ایک وقت تھا جب یہ نہریں پشاور کی خوبصورتی میں اضافے کا سبب تھیں لیکن اب ان نہروں میں سیوریج کا پانی اور کچرا شامل ہونے کی بنا پر نہروں کے پانی میں مہلک اور زہریلے اجزاء شامل ہو چکے ہیں۔ پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے اس کا نوٹس لیا گیا ہے' پشاور کی نہروں میں نکاسی آب اور کچرا پھینکنے والوں کیخلاف کارروائی کے احکامات کے بعد اب وزیراعلیٰ محمود خان نے بھی اس سے متعلق اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کر دی ہے' وزیراعلیٰ کی جانب سے سیکرٹری آبنوشی اور واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کمپنی پشاور کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ پشاور کی نہروں میں اب نکاسی آب نہ گرایا جائے' اسی طرح نہروں میں کچرا نہ پھینکنے کے حوالے سے بھی باقاعدہ طریقہ کار وضع کیا جائے۔ ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے پشاور ہائی کورٹ اور انتظامیہ کے اقدامات کو سراہا جانا چاہئے لیکن ہمارا من حیث القوم المیہ ہے کہ پہلے ایک خرابی کو خوب پھیلنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے اور جب اس خرابی سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلنا شروع ہو جاتی ہے تو متبادل کی طرف دیکھا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اگرچہ نکاسی آب کیلئے متبادل پلان ترتیب دینے کی ہدایت کردی ہے لیکن جو سیوریج کا پانی برسوں سے نہروں میں ڈالا جارہا ہے کیا اس کا متبادل کم ترین عرصہ میں تلاش کیا جا سکتا ہے، کیا متبادل کیلئے سالوں درکار نہ ہوں گے، اگر واقعی چند سالوں میں ہی اس کا متبادل تلاش کرلیا جاتا ہے تو تب تک خرابی کس قدر پھیل چکی ہوگی؟ بہرحال ''دیرآید درست آید'' کے مصداق اب اگر پشاور ہائی کورٹ کے نوٹس پر پشاور کی نہروں کو گندگی سے بچانے کیلئے سفارشات طلب کی جارہی ہیں تو اس کی تحسین کی جانی چاہئے اور اُمید کی جانی چاہئے کہ ہنگامی بنیادوں پر اس منصوبے پر عمل ہوگا اور بہت جلد پشاور کی نہریں گندگی سے پاک ہو جائیںگی۔

متعلقہ خبریں