Daily Mashriq

ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے

ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے

ریکارڈ ٹوٹنے اور توڑ دئیے جانے میں کچھ تو فرق ہوتا ہے مثلاً اکثر آپ نے سنا ہوگا کہ ڈالر نے روپے کے مقابلے میں اونچائی پر جاتے ہوئے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔ اگرچہ ہمارے کچھ مہربان اس میں بھی ''خیر'' کا پہلو یہ کہہ کر ڈھونڈ لیتے ہیں کہ بی آر ٹی کی لاگت میں اربوں کے اضافے کے باوجود ڈالر کی قیمت بڑھ جانے سے ہمیں فائدہ ہوگیا ہے۔ اس پر قوم کو یہی مشورہ دیا جاسکتا ہے کہ وہ اس نئے فلسفے پر دورکعت شکرانے کے نفل پڑھ لیں' اسی طرح کچھ ریکارڈ خودبخود ٹوٹ جاتے ہیں جیسے کہ کرکٹ کے کھیل کے دوران دوسری' تیسری' چوتھی' پانچویں وکٹ کی شراکت کے دوران کھلاڑی غیرمحسوس طور پر رنز کے ڈھیر لگاتے چلے جاتے ہیں اور یوں اچانک پتہ چلتا ہے کہ اتنے رنز بن گئے ہیں کہ پہلے کے (وہ بھی اتفاقاً) قائم زیادہ رنز کے ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔ اسی ریکارڈ ٹوٹنے اور توڑے جانے کے معمولی فرق کے دوران کبھی کبھی حکومت حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے بھی عوام کو خوش کرنے کیلئے سرپرائز کے طور پر اچانک جب پٹرول کی قیمت میں پورے 25پیسے کی کمی کا اعلان کر دیتی ہے تو خوشی سے عوام کی آنکھوں سے آنسو کی جھڑی لگ جاتی ہے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ ان کی حکومت ان پر کس قدر مہربان ہے۔ وہ ان کا کتنا خیال رکھتی ہے کہ بے چارہ حاتم طائی قبر کے اندر بھی شرمندہ ہوجاتا ہے کہ میرا نام ویسے ہی لوگوں نے سخاوت میں مشہور کر رکھا ہے اور اگر اس وقت گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ والے ہوتے تو یقینا میرا نام سخاوت کے لحاظ سے ان کے ریکارڈ کا حصہ ہوچکا ہوتا' بعد میں بے شک لوگ شامل ہوتے رہتے مگر اولیت کا درجہ تو مجھے مل ہی چکا ہوتا۔ حاتم کے اس نظرئیے یا آج کل کے لحاظ سے بیانئے سے اتفاق کرنا چاہئے یا نہیں مگر کم ازکم گنیز بک والوں کو ہماری تبدیلی سرکار کا نام ضرور اپنے ریکارڈ بک میں شامل کرنا چاہئے جس کی مہربانی سے پٹرول کی قیمت میں پورے 25پیسے کی کمی سے قوم نہال ہوگئی ہے۔ اس پر سوشل میڈیا پر کسی نے بطور شکرانہ ایک پوسٹ شیئر کی ہے جس کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں کہ ''پٹرول کی قیمت میں 25پیسے فی لیٹر کمی کے بعد بندہ ناچیز کو ایک مہینے میں 4روپے کی بچت ہوگی جسے جمع کرکے 5مہینے بعد ایک ٹماٹر خرید سکوں گا''۔ سبحان اللہ کیا نکتہ آفرینی ہے اور لگتا ہے کہ جس کسی نے بھی یہ پوسٹ شیئر کی ہے اسے حساب کتاب میں بہت دِرک ہے البتہ اتنی عرق ریزی اور باریک بینی سے ہندسوں کیساتھ کھیلنے والا ''اُردو میڈیم'' کی طرز پر کوئی موٹرسائیکل سوار ہی لگتا ہے کیونکہ اگر موصوف کے پاس کار ہوتی تو اس کی بچت ایک ٹماٹر سے آگے کی کیفیت ظاہر کرتے ہوئے ایک ٹماٹر کی بجائے کم ازکم آدھ پون کلو ٹماٹروں تک کا ضرور احاطہ کرتی' بہرحال اس جانفزا اور خوش کن اعلان کے بعد جو صورتحال بن چکی ہے اسے مرحوم دوست اور طرحدار شاعر سجاد بابر کے مطابق یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ

کرن اُترنے کی آہٹ سنائی دیتی ہے

میں کیا کروں مجھے خوشبود کھائی دیتی ہے

یہ الگ بات ہے کہ ہمارے بعض سیاسی رہنماء سرکار کی اتنی مہربانیوں کو بھی تسلیم نہیں کرتے یعنی اس ضمن میں حکومتی اقدامات پر اعتراض کرتے رہتے ہیں مثلاً قومی وطن پارٹی کے قائد اور سربراہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے گزشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ سولہ ماہ میں مہنگائی کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے گئے ہیں۔ ان کے بیان سے تو واضح ہوتا ہے کہ جن ریکارڈز کی بات انہوں نے کی ہے انہیں سوچ سمجھ سے توڑا گیا ہے۔ ویسے ہی جیسا کہ 25پیسے لیٹر کمی سے پیٹرول کی قیمت کا ریکارڈ توڑ کر گنیز بک والوں کو دعوت دی گئی ہے کہ اے خانہ برانداز چمن کچھ توجہ ہماری جانب بھی' ویسے اگر مہنگائی کے یہ ریکارڈ خودبخود ٹوٹ جاتے جن کی جانب آفتاب شیرپاؤ نے توجہ دلائی ہے تو پھر ہم مرزا غالب کے الفاظ میں یوں تبصرہ ضرور کرتے کہ

اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا

ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے

حالانکہ سرکار کے توڑے جانے والے سارے ریکارڈ بھی جام سفال ہی کی مانند ہیں جن کو ایک ایک کرکے وہ توڑتی رہتی ہے اور پھر بازار سے نئے جام لا لا کر اپنا شوق پورا کرتے ہوئے ایک ایک کرکے انہیں توڑے جانے کا شغل جاری رکھے ہوئے ہے، اس پر بھی عوام شکر بجا نہیں لاتی حالانکہ پہلے سرکار عوام پر کبھی بجلی گرانے کا ریکارڈ بناتی' کبھی گیس کے آنسو بہانے پر عوام کو مجبور کرتی اور کبھی ڈیزل بم گراتی رہتی تھی جو اگرچہ گیس کی قیمتوں میں سابقہ طریقہ کار کے برعکس جو ایم ایم بی ٹی یو کے حوالے سے قیمتوں میں رد وبدل کے تحت عوام کو بل بھیجے جاتے اور اب اسے تبدیل کرتے ہوئے سلیب کا نیا طریقہ ''دریافت'' کرکے ایک سلیب کے آخری ہندسے میں اگلے سلیب کا ایک نمبر بھی شامل ہو جائے تو اگلے سلیب کے تحت عوام کی چمڑی اُتارنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے' اسی طرح سوشل میڈیا پر کسی دل جلے نے عوام پر بجلی کے جھٹکوں کا حساب لگاتے ہوئے بجلی کی اصل قیمت کے مقابلے میں مختلف ٹیکسوں اور دیگر مدات میں شامل رقوم کا تجزیاتی مطالعہ کرکے بتایا ہے کہ اصل قیمت سے زیادہ تر سرچارج کی بھرمار سے بل کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہیں' گویا یہ بھی گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ والوں کی توجہ حاصل کرنے کا استحقاق رکھتے ہیں۔

ادھر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کے اجلاس میں پیمرا سے دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے جمع ہونے والے فنڈز کی پبلسٹی پر خرچ ہونے والی رقوم کی تفصیل مانگ لی ہے جس کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ جمع شدہ فنڈز سے زیادہ رقم تو اس کی پبلسٹی پر خرچ کی گئی ہے' یہ درست ہے یا غلط یہ تو تفصیل ملنے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا تاہم اگر اس میں بھی مبینہ طور پر ظاہر کئے جانے والے شکوک کا کوئی ثبوت ملتا ہے تو یہ بھی ایک نیا ریکارڈ ہوگا جس کے بعد یہی کہا جاسکتا ہے کہ اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے مگر اتنا تو ہے کہ نت نئے ریکارڈز تو قائم ہو رہے ہیں نا۔ یعنی بقول شاہ نصیر

خیال زلف دوتا میں نصیر جیتا کر

گیا ہے سانپ نکل اب لکیر پیٹا کر

متعلقہ خبریں