Daily Mashriq

ABC کا آدم خور اژدھا

ABC کا آدم خور اژدھا

چچا غالب نے کہا تھا

نامہ بر تو ہی بتا تو نے تو دیکھے ہوں گے

کیسے ہوتے ہیں وہ خط جن کے جواب آتے ہیں

غالباً چچا نے اپنی محبوبہ کو بیسیوںمحبت بھرے خطوط لکھے مگر ہماری حکومت کی طرح چچا کے بے پروا محبوب نے بھی پہلے تو پڑھے ہی نہیں اور اگر پڑھے بھی ہیں تو ان کا جواب کبھی نہیں دیا۔ اب تھک ہار کر اس نے نامہ بر سے ہی پوچھ لیا کہ بھئی میرا یہ بے وفا محبوب کسی کو تو جواب دیتا ہوگا اور تو نے تو وہ خطوط ضرور دیکھیں ہوںگے لہٰذہ تو ہی بتا دے کہ ان خطوط میں کیا خاص بات ہے جو ہمارے خطوط میں نہیں۔ کچھ اسی طرح کا حال ہماری حکومت کا بھی ہے وہ بھی غالب کے محبوب کی طرح بے وفا ہوگئی ہے، ہم نے اسے محبوب سے اس لئے مشابہت دی کہ کبھی ہم نے بھی اس حکومت سے دل کی گہرائیوں سے محبت کی ہے بلکہ طویل آمریت کے بعد ہم نے اسے یہ اختیار خود اپنے ہاتھوں سے دیا ہے لیکن وہی ہوا جو صدیوں سے ہوتا آیا ہے کہ محبوب بے وفا ہوگیا ہے۔ اب وہ ہمارے محبت ناموں کا جواب ہی نہیں دیتا۔ ادھر ہم اور ہمارے بچے بھوک سے بلک رہے ہیں مگر حکومت کو تو جیسے اس سے کوئی سروکار ہی نہیں۔

انہی حالات سے نالاں گزشتہ دنوں ایک غیرمعروف نمبر سے ایک مختصر پیغامایس ایم ایس آیا کہ پاکستان میںABCکی وجہ سے مہنگائی ہوگئی ہے۔ ہمارا تجسس بڑھا کہ آخر یہ ''اے بی سی ڈی'' کون ہے یا کیا ہے کہ جس کی وجہ سے مہنگائی نے ایک آفت یا اژدھا (Anaconda) کی شکل اختیا رکرلی ہے جو آدمی کو نہ صرف پورے پورے نگل رہا ہے بلکہ ہضم بھی کر رہا ہے۔ ہمارے ذہن میں جو پہلا نام آیا وہ یہ تھا کہ شاید یہ آئی ایم ایف کی کوئی شاخ ہے جس کا کام پاکستانی عوام کا خون چوسنا ہے کیونکہ یہ کام آئی ایم ایف بخوبی کر رہی ہے کہ پاکستان نے جو قرضے ان سے لئے تھے اب اس کے سود کے طور پر ہمیں اپنے ہی عوام کا خون چوسنا ہوگا۔ ہماری حکومتیں بھی چاہے وہ فوجی ہوں یا جمہوری اپنی عیاشیوں کیلئے آئی ایم ایف کے قرضے کی اگلی قسط کیلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں کیونکہ نیا قرضہ ملے گا تو انہیں بھی ماردھاڑ کا موقع میسر آئے گا لیکن پیغام بھیجنے والے نے اس کی تشریح کچھ یوں کی، اے سے آٹا' بی سے بجلی' سی سے چینی۔ ان کے بقول آج کل جو بھی مہنگائی کا عفریت ہے وہ ان تین چیزوں کے وجہ سے ہے۔ ٹماٹروں کا ذکر میں جان بوجھ کر نہیںکر رہا کہ یہ عارضی مہنگائی ہے کیونکہ کل یہی ٹماٹر دس روپے کلو بکے گا۔ اسی طرح ایک اور شاعر نے کہا کہ

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

جب غریب آدمی ''اے بی سی'' کے نرغے میں پھنستا ہے اور گھبرا کر یا تنگ آکر کہتا ہے کہ بس اب برداشت سے باہر ہے چلتا ہوں اور باہر شور مچاتا ہوں تاکہ ارباب اختیار کے کانوں میں میری صدا پہنچے لیکن یہاں وہ بات بھی ممکن نہیں کیونکہ اب تو احتجاج کرنے والوں کے درمیان بھی سیاست کرنے والے گھس آتے ہیں اور امپائر کے اُنگلی کے اشارہ پر احتجاج رول بیک کر دیتے ہیں اور غریب کا مسئلہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں سب اچھا کی خبر دینے والوں نے پاکستان میں غریب آدمی کی زندگی اجیرن بننے کی خبر پہلے تو سنی ہی نہیں، انہیں تو جیسے پتا ہی نہیں کہ ملک میں چینی کے بعد آٹا نہ صرف تاریخ کے مہنگے ترین نرخ میں فروخت ہو رہا ہے بلکہ اکثر جگہوں میں تو سرے سے آٹا ملتا ہی نہیں۔ یہی نہیں آٹا کیساتھ ساتھ دیگر اشیاء ضروریہ کا بھی حال پتلا ہے، یہ خبر دینے والے اپنے آقاؤں کو یہ علم ہی نہیں ہونے دیتے کہ رعایا پر کیا گزر رہی ہے۔ اسی طرح عوام کی رسائی ملک کی حکمرانوں تک ہوتی ہی نہیں تو ان کی شنوائی کیونکر ہوگی، سب اچھا کی رپورٹ دینے والے بتاتے ہیں کہ ملک میں آٹا یا کسی اور چیز کا کوئی بحران نہیں یہ صرف میڈیا کی اُڑائی ہوئی باتیں ہیں، یہ لوگ تو ''بڑھا بھی دیتے ہیں کچھ زیب داستاں کیلئے'' کے مصداق اسے دوگنا چوگنا کرکے پیش کر رہے ہیں۔ یہ دیکھیں سڑکیں سنسان پڑی ہیں کیونکہ اگر عوام کو تکلیف ہوتی، انہیں کسی قسم کے بحران کا سامنا ہوتا تو یہ سڑکوں پر نہ آتے، واویلا نہ کرتے، کیونکہ اس قوم کا وطیرہ رہا ہے کہ یہ تو چھوٹی چھوٹی بات پر وہ واویلا کرتے ہیں وہ احتجاج کرتے ہیں کہ صدارتی محل ہل کر رہ جاتے ہیں۔ ماضی میں ایک حکمران نے اقتدار کے نشے میں جب کہا کہ ''تھوڑی سی پی لیتا ہوں حلوہ تو نہیں کھاتا'' تو قصبہ قصبہ، گلی گلی اور شہر شہر حلوے کی وہ دیگیں پکیں یوں اسے اپنے قول پر پچھتانا پڑا اور پھر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ اسی وطن کی سرزمین پر ایک آنہ مہنگائی پر فوجی آمر کو جو اپنے آپ کو فیلڈ مارشل بھی کہتا تھا گھر جانے کے سوا کوئی چارہ دکھائی نہ دیا لیکن سچ اور حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی تو اب بھی کچھ اسی قسم کی ہے، عوام کو تکلیف تو اب اسی طرح کی ہے، چترال سے فیصل آباد تک اور خیبر سے کراچی تک ہر شخص اے بی سی کے بحران کا شکار ہے لیکن اب عوام میں وہ دم خم نہیں نظر آرہا، دم کہاں سے ہوگا جب غریب خوب جانتا ہے کہ اگر سڑکوں پر نکلے گا تو پھر اس کے آواز نکلنے کی بجائے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاموش ہوجائے گی لہٰذا گھر میں ہی دبک کر بیٹھ گیا ہے کہ اب کوئی غیبی امداد آئے گی۔

متعلقہ خبریں