Daily Mashriq

امت مسلمہ کے دو مماثل مسائل

امت مسلمہ کے دو مماثل مسائل

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے فلسطینی صدر محمود عباس نے کشمیر کے مسئلے پر پاکستانی موقف کی اپنی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کیا جائے۔ دوسری جانب وزیر اعظم محمد نواز شریف نے بھی پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطین کی 1967ء سے قبل کی سرحدیں بحال کی جائیں اور عالمی برادری اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرے۔ مغربی کنارے پر اسرائیل کی نا جائز تعمیرات اور بار بار کے مطالبات کے باوجود اسرائیل کی طرف سے ان مطالبات پر کان نہ دھرنا ہمیشہ سے مسئلہ چلا آرہا ہے تاہم امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بر سر اقتدارآنے کے بعد تو اسرائیل کو پر لگ گئے ہیں اور انہوں نے تین مقامات پر نا جائز یہودی بستیوں کی تعمیر شروع کردی ہے جس سے فلسطینیوں کو بالخصوص اور پاکستان سمیت امت مسلمہ کو بالعموم تشویش لاحق ہونا فطری امر ہے۔ اس ضمن میں عالمی برادری کا کردار بھی طاقتور کے ہاتھ روکنے اور اس پر پابندیاں لگانے کا نہیں جبکہ اسرائیل اخلاقی طور پر عالمی برادری کی اپیلوں پر کان دھرنے والا ملک نہیں۔ مغربی کنارے سے اسرائیلی آبادیوں کے خاتمے کی متقاضی سلامتی کونسل کی قرارداد پر عملدرآمد کا معاملہ کشمیر کے حوالے سے سلامتی کونسل کی منظور شدہ قرار داد سے مختلف نہیں۔ عالمی ادارے کی جانب سے دونوں مسلم ممالک کے حوالے سے بس قرار دادوں کی منظوری ہی پر اکتفا کیاجاتا ہے جبکہ علاوہ ازیں جہاں طاقتور ممالک کا مفاد اور دلچسپی ہوتی ہے وہاں پر اقوام متحدہ کی چھتری کا موثر استعمال ہوتا ہے۔ بعض صورتوں میں کارروائی پہلے ہوتی ہے اور چھتری کا سہارا بعد میں لیا جاتا ہے۔ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کا حل کئے بغیر نہ تو مشرق وسطیٰ میں امن ممکن ہے اور نہ ہی جنوبی ایشیاء کے امن کو لاحق خطرات کا ازالہ ممکن ہے۔فلسطین کے مسئلے کے حل کے ضمن میں پاکستان کا موقف بھی وہی ہے جو فلسطین کا ہے۔ پاکستان نے ہر فورم پر فلسطینی بھائیوں کی حمایت کا فریضہ نبھایا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسئلہ فلسطین اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر دیرینہ مسئلہ اور حل کا متقاضی تنازعہ ہے۔ مسئلہ فلسطین کا حل بین الاقوامی طور پر اتفاق سے طے طریقہ کار سے ہی ممکن ہوگا۔ ہمارے تئیں اس معاملے کا موزوں حل 1967ء کی سرحدوں اور القدس شریف کو فلسطینی ریاست کا دارالخلافہ بنا کر ایک موزوں اور آزاد ریاست کا قیام ہی مشرق وسطیٰ میں پائیدار حل کی ضمانت اور کشیدگی کے خاتمے کا بہترین طریقہ ہے۔ اوسلو معاہدہ بھی دو ریاستی حل کی حمایت میں امن اور بین الاقوامی برادری کے اتفاق کا راستہ پیش کرتا ہے۔ پاکستان کی حکومت اور پاکستان کے عوام کا فلسطینی بھائیوں سے ہر ممکن تعاون اور مدد کی سعی اور شدید خواہش کوئی پوشیدہ امرنہیں۔ پاکستان کی جانب سے اسلام آباد کے ڈپلو میٹک انکلیو میں فلسطینی سفارتخانے کے قیام کے لئے اراضی اور وسائل کی فراہمی کے ذریعے اس کا ممکن بنانا مثالی اخوت کا مظاہرہ ہے۔ عمدہ فن تعمیر کا نا در نمونہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی مجسم علامت ہے۔ پاکستان کے عوام کا قبلہ اول کی ساتھ قلبی و جذباتی وابستگی کے اعادے کی ضرورت نہیں۔ اگرچہ ہر امریکی حکومت ہی اسرائیل کے ناجائز اقدامات کی پشت پناہی اور حمایت کرتی رہی ہے جس کے بل بوتے پر مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کا ناپاک وجود نہ صرف موجود ہے بلکہ کھل کھیلنے میں بھی آزاد ہے۔ ٹرمپ حکومت کے قیام کے بعد گویا اسرائیل کو شہ مل گئی ہے اور وہ مقبوضہ علاقوں میں نئی یہودی بستیاں بسانے کے غیر قانونی کام میں مصروف ہے اور اس ضمن میں وہ کوئی بات سننے کو تیار نہیں جس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور پہلے سے مشکلات کا شکار خطے کا مزید مشکلات کا شکار ہونا فطری امر ہوگا۔ عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہئے اور اقوام متحدہ کو سلامتی کونسل کی قرار داد کے مطابق طے شدہ فارمولے کے تحت مسئلے کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ پاکستان کی طرح فلسطینی حکومت اور فلسطینی عوام نے بھی ہمیشہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے اصولی موقف کی ہر فورم پر حمایت کی ہے اور وہ اس امر کے بھرپور حامی ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کیا جائے ۔ اس امر کا اعادہ پاکستان کے دورے کے موقع پر فلسطینی صدر محمود عباس نے ایک مرتبہ پھر کیا ہے جس پر پاکستانی قوم ان کی شکر گزار ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین امت مسلمہ کے وہ دو ایسے اہم مسائل ہیں جن کا حل بین الاقوامی طور پر تائید و حمایت اور عالمی برادری کے غیر جانبدار اور حقیقت پسندانہ موقف اپنانے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد ہی سے ممکن ہے جس کے لئے دونوں ممالک بالخصوص اور امت مسلمہ کو سفارتی سطح پر ہر فورم میں مسلمانوں کی مشترکہ آواز کے طور پر اٹھانا چاہئے اور اسے امت مسلمہ کا بنیادی مسئلہ قرار دے کر حل کرنے میں کردار ادا کرنا چاہئے۔ ان دو معاملات پر امت مسلمہ یکجا ہو تو دوسری نوعیت کے مسائل کے دروازے خود بخود کھل سکتے ہیں۔

اداریہ