بالا تفاق ریاستی فیصلہ

بالا تفاق ریاستی فیصلہ

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے حافظ سعید کی نظر بندی کو دوٹوک انداز میں ریاست کا فیصلہ قرار دینے کے بعد اس ضمن میں ابہام کی گنجائش نہیں ۔ جماعت الد عوة کے حوالے سے اب تک جو تاثرات تھے اگر چہ پہلے بھی ان کی کوئی حقیقت نہ تھی مگر ا س کے خلاف حکومتی کارروائی کے بعد اب ان فرضی تاثرات کی بھی گنجائش باقی نہیں رہی اور نہ ہی بعض معاملات پر سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان انداز فکر کے تضا دات کے حوالے سے آراء کی کوئی گنجائش باقی رہتی ہے ۔بلا شبہ سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان معاملات پر مختلف الخیالی کی نوعیت خاصی سنجیدہ ہوا کرتی تھی لیکن ایسا لگتا ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ اب سیاسی و عسکری قیادت مکمل طور پر ہم آہنگ ہم خیال اور ایک صفحے پر ہے ۔ اس طرح کے ماحول ہی میں اتفاق رائے اور ہم آہنگ فیصلو ں کی توقع ہوتی ہے ۔جہاں تک دبائو کا تعلق ہے دنیا کے ممالک پر ان کی پالیسیوں کے باعث دبائو اور مشکلات کوئی اچنبھے کی بات نہیں فی الوقت امر یکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث جو حالات چل رہے ہیں اس طرح کی صورتحا ل کبھی پاکستان میں نہیں رہی ۔حافظ سعید کے حوالے سے بلا شبہ عالمی دبائو تھا لیکن پاکستانی قیادت کو اگر دبائو میں آکر فیصلہ کرنا ہوتا تو اسی قسم کا فیصلہ پہلے بھی ممکن تھا پاکستان کے اس فیصلے کے بعد اب بھارت سمیت دیگر ممالک کے پا س پاکستان کو خواہ مخواہ مطعون کرنے کا اب کوئی حیلہ بہانہ باقی نہیں رہا اب پاکستان کو عالمی فورم پر کسی انگشت نمائی کے خیال سے بالا تر ہو کر اپنامئو قف پیش کرنے میں آسانی ہوگی اور عالمی سطح پر پاکستان کے حوالے سے غلط فہمیوں کا خاتمہ ہوگا۔
سٹاک مارکیٹ سے رقم نکالنے کی وضاحت ضروری ہے
مالیاتی بحران کا شکار خیبر پختونخوا کی حکومت کے سٹاک مارکیٹ سے خطیر رقم نکالنے کے فیصلے کی مخالفت نہیں کی جاسکتی۔ سٹاک مارکیٹ میں خسارے کے باعث رقم نکالنے میں شبہ کی دووجوہات ہیں اولا ً یہ کہ اس وقت سٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان نہیں بلکہ سٹاک مارکیٹ میں تاریخ ساز اور ریکارڈ توڑ تیزی دیکھی گئی ہے اور عالمی سطح پرپاکستانی معیشت کے بہتر ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ عالمی جریدوں کی رپورٹس پاکستانی معیشت میں بہتری کی گواہی دے رہی ہیں۔ اس طرح کی صورتحال میں سٹاک مارکیٹ مستحکم ہوتی ہے اور سرمایہ کاروں کو سرما یہ لگانے کی ترغیب ملتی ہے۔ اس طرح کی صورتحال میں صوبائی حکومت کے فیصلے کی اصابت پر سوالات اٹھنا فطری امر ہے۔ دوم یہ کہ صوبائی حکومت ایک عرصے سے رقم کی متلا شی تھی اور ان کی جانب سے سرکاری ملازمین کے جی پی فنڈ اور پنشن فنڈ سے بھاری رقم قرض لینے کی سعی کی کوششوں کی خبریں اخبارات میں شائع ہوچکی ہیں۔ حکومت نے سٹاک مارکیٹ سے جو سرمایہ نکالا ہے اس میں پنشن اور جی پی فنڈ کی رقم شامل ہے۔ خدشہ اس امر کا ہے کہ کہیں حکومت نے ایک ہاتھ سے یہ رقم بینکوں میں رکھنے کے بعد دوسرے ہاتھ سے بنکوں سے بطور قرض حاصل نہ کی ہو جس سے سرکاری ملازمین اور پنشنروں میں بے چینی فطری امر ہے۔ ان خدشات کو دور کرنا اور معاملے کی صراحت سے وضاحت ہونی چاہئے۔ صوبائی حکومت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے فیصلے کے کوئی پس پردہ مقاصد نہیں بلکہ مالی منفعت ہے جس کے فوائد متعلقین ہی کو منتقل کئے جائیں گے اور ان کی رقم بھی محفوظ ہے۔
بروغل کے عوام کی فوری مدد کی جائے
ضلع چترال کے آخر ی سرحدی علاقہ بروغل میں دساڑھے تین فٹ برف پڑنے سے علاقے کے عوام کا مشکلات سے دوچار ہونانئی بات نہیں اس طرح کے موسم اور حالات میں بروغل اور ملحقہ دیگر علاقوں کے عوام کی مشکلات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔اخباری اطلاعات کے مطابق بروغل آمد ورفت کے راستے شدید برفباری کے باعث بندش کا شکار ہیں ۔علاقے میں خوراک ادویات اور جانوروں کے لئے چارے کی شدید قلت پیدا ہوچکی ہے سابق وزیر اعظم مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں جب اس طرح کی صورتحال وزیر اعظم کے علم میں لائی گئی تو انہوں نے چوبیس گھنٹے کے اندر خوراک ادویات اور جانوروں کیلئے چارہ سی ون تھرٹی طیاروں کے ذریعے پہنچا نے کے نہ صرف احکامات جاری کئے بلکہ امدادی آپریشن شروع ہونے تک ائیرپورٹ سے خود رابطے میں رہے ۔ اس وقت بھی صورتحال اس طرح کے اقدامات کی متقاضی ہے ۔ وفاقی حکومت ، صوبائی حکومت این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کو اپنی اپنی سطح پر فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔وزیر اعظم محمد نواز شریف اس ضمن میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی مثال دہرا سکیں تو بر وغل اور ملحقہ علاقوں کے عوام اس مشکل سے نکل سکتے ہیں ۔

اداریہ