سزا اور جزا کی بات

سزا اور جزا کی بات

ہم تھانے کچہریوں میں جو کچھ ہوتا ہے ان پر بات نہیں کرتے' کوشش ہوتی ہے کہ اپنے کالموں میں سیاسی معاملات پر بھی بحث نہ کی جائے کہ یہ ہمارے خیال میں لا یعنی بے نتیجہ اور فضول ہوتی ہے۔مذہب کی نزاکتوں کو بھی نہیں چھیڑتے کہ یہ ہمارا میدان ہی نہیں۔ البتہ ہم گلی کوچوں کے موضوعات پر دل کھول کر بات کرتے ہیں مثلاً یہی کہ ہماری بستی میں گندے پانی کی نکاس کا کوئی بندوبست نہیں۔ خالی پلاٹوں میں مچھروں کی افزائش کے لئے نرسریاں قائم ہیں۔ یہاں پر کتوں نے اپنی ایک متوازی حکومت قائم کر رکھی ہے۔ مہنگائی ہمارا مرغوب موضوع ہے۔ اشیاء خوردنی میں ملاوٹ پر بھی بحث کرتے ہیں۔ ہماری اس قلم گھسائی کا کیا نتیجہ نکلتا ہے اور ہمارا یہ سیاپا متعلقہ لوگوں پر اثر انداز ہوتا ہے یا نہیں ابھی تک ہمیں اس کا کوئی مثبت رد عمل نہیں ملا۔ آج ہم اپنے پسندیدہ موضوعات سے ہٹ کر ایک دوسرے مسئلے پر بات کرنا چاہتے ہیں جس کی وجہ لانڈھی کا ایک وقوعہ ہے۔ ہمارے ایک نہایت ہی مہربان بزرگ دوست رشید احمد باچا جو اب ہم میں نہیں رہے آکسفورڈ سے انہوں نے تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ معاشرے میں پھیلی ہوئی کرپشن اور نا انصافی پر ہمیشہ کڑھتے رہتے تھے۔ ایک روز کہنے لگے' کیا خیال ہے ' عدل کا وہ نظام جس کی ہم خواہش رکھتے ہیں اگر وطن عزیز میں نافذ کردیا جائے تو کیا ہوگا؟ جی بس چاروں طرف انصاف کے ڈنکے بجنے لگیں گے۔ اس پر بولے پھر اس کے نتیجے میں آپ کو بازار میں ہر دوسرا شخص ہاتھ کٹا دکھائی دے گا۔ اب ہم ان کی اس رائے پرکیا تبصرہ کرتے۔ یہ بات ہمیں اس لئے یاد آئی کہ کل پرسوں ایک انگریزی اخبار میں ڈاکو کوموقع پر سزا دینے کی خبر لگی ہے۔ خبر کے مطابق کراچی کے لانڈھی کے علاقے میں دو لٹیرے جو ایک دکان سے دودھ لوٹنے کی کوشش کر رہے تھے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔ سندھ پولیس کے ایک ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دو لٹیرے د ودھ کی دکان میں داخل ہوئے۔ بندوق کی آواز سن کر علاقہ مکین اس طرف دوڑ پڑے۔ ایک تو فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا دوسرا ڈاکو دھر لیا گیا اور لوگوں نے موقع پر ہی اس پر پٹرول چھڑک کر جلا دیا۔ انسانی حقوق کے علمبردار تو خیر ملک میں عدالتی کارروائی کے بعد کسی کو موت کی سزا دینے کے حق میں بھی نہیں۔ ہم اگرچہ اس معاملے میں ان سے اتفاق نہیں کرتے کہ قاتل کو کیفر کردار تک پہنچانا انصاف کا بنیادی تقاضا ہے۔ لانڈھی میں دودھ لوٹنے والا کا جو انجام ہوا چونکہ اس میں قانون کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے تھے اس لئے بپھرے عوام نے ہماری رائے میں سزا دینے میں جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہمارے ایک ذہین و فطین دوست نے اس وقوعے پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لانڈھی کے اس وقوعے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ علاقہ مکینوں کا ایک نکتے پر متفق ہونا کسی معجزے سے کم نہیں جبکہ ہمارے ہاں دو افراد کی بھی ایک رائے نہیں ہوتی۔ یہ عاجز تو خیر یہ تصور بھی نہیں کرسکتا کہ کسی دکان سے کوئی دودھ لوٹنے والا زندہ بھی جلایا جاسکتا ہے۔ اس سے پہلے بھی لوٹ مار کے واقعات میں ڈاکو عوام کے ہتھے چڑھتے رہے ہیں۔ مگر لٹیروں کو مارپیٹ کے بعد پولیس کے حوالے کردیا جاتا تھا۔ عوام کی عدالت سے دودھ لوٹنے والے کو موت کی سزا دینے کے بعد ہم سوچتے ہیں کہ وہ لوگ جنہوں نے ملک کے سارے نظام کو تو بد عنوانی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ روزانہ قومی خزانے کو کروڑوں اور اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ ان پر مقدمے بھی قائم ہوجاتے ہیں۔ لیکن پوری کارروائی کے بعد وہ سمجھوتے کے تحت آزاد بھی ہو جاتے ہیں۔ 

کیونکہ ان سے بس ذرا پلی بارگین ہو جاتا ہے۔ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ قانون میں جس کی گنجائش پہلے سے موجود ہے۔ اگر یہ لوگ عوام کے ہتھے چڑھ گئے' تو نہ جانے گلی کوچوں میں ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔ ہمیں خدشہ ہے کہ ملک میں اگر کرپشن کے طوفان بد تمیزی کی پیش بندی نہیں کی گئی اور وہ جو دہلیز پر انصاف پہنچانے کی بات کی جاتی ہے۔ اس کا کوئی عملی نمونہ سامنے نہیں آیا۔ تو پھر معاشرے میں موجود ایسے تمام لٹیروں کے گریبان تک بھی عوام کے ہاتھ پہنچ سکتے ہیں۔ لانڈھی کے وقوعے میں دودھ کے لٹیرے کو موقع پر سزا دینے میں ایک عبرت کا پہلو ضرور موجود ہے۔ لیکن ہم اسے درست اقدام نہیں سمجھتے۔ ہمارے ایک دوسرے پڑھے لکھے دوست نے اپنی رائے میں کہا ہے کہ اگر قانون کے تحت لوٹ مار کے مجرموں کو موت کی سزا دی جاسکتی ہے تو پھر لانڈھی والوں نے کوئی خلاف قانون کام نہیں کیا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لٹیرے نے دودھ کی دکان لوٹنے کی کوشش کی۔ حجام کی دکان پر دھاوا بولا۔ یا پھر سٹریٹ کرائم میں ملوث کسی شخص کو موقع پر گولی مار دی گئی۔ ان کا یہ بھی فرمانا تھا کہ قانون کی اخلاقیات اور انصاف کی فراہمی (Execution) کو اگر خلط ملط نہ کیا جائے تو یہ سزا جائز معلوم ہوتی ہے۔ بہر حال ہم ایک بار پھر اپنے مرحوم بزرگ دوست کی یہ رائے دہرانے پر مجبور ہیں کہ اگر ہماری خواہش کے مطابق ملک میں جزا و سزا کا قانون نافذ کردیا جائے تو پھر ہر دوسرا شخص چوری میں سزا یافتہ نظر آئے گا۔ یعنی ملک میں ہاتھ کٹے لوگوں کی کثرت ہو جائے گی۔

اداریہ