Daily Mashriq

فلسطینی سفارت خانے کی عمارت کا افتتاح

فلسطینی سفارت خانے کی عمارت کا افتتاح

آج کل کے بین الاقوامی سیاسی موسم میں جب سپر پاور امریکہ نے مسلمان اکثریت کے سات ممالک کے باشندوں کے لیے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ، اور پاکستان کو بھی شنوائی کر دی ہے کہ اسے بھی اس فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ اسرائیل میں امریکی سفارتخانے کو یروشلم میں منتقل کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اسلام آباد میں فلسطینی سفارت خانے کی نئی عمارت کا افتتاح ایک ایسی خبر ہے جس کی طرف لامحالہ دھیان جاتا ہے۔ یہ افتتاح اس موقع پر کیا گیا ہے کہ جب فلسطین کے صدر تین روزہ دورے پر پاکستان آئے۔ پاکستان کے صدر ممنون حسین نے خود ان کا استقبال کیا اور افتتاح کی تقریب کے دوران صدر محمود عباس اور وزیر اعظم نواز شریف نے مشترکہ طور پر افتتاح تختی کی نقاب کشائی کی۔ ڈپلومیٹک انکلیو میں یہ تقریب سفارتی اہمیت کی تقریب شمار کی جانی چاہیے۔ صدر محمود عباس اور وزیر اعظم نواز شریف نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب بھی کیا۔ مسئلہ فلسطین کے بارے میں پاکستان نے اصولی موقف کا اعادہ کیا کہ یہ دیرینہ مسئلہ حل کیے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ یہ کہ پاکستان فلسطین کی حمایت جاری رکھے گا۔ فلسطین کے صدر محمود عباس نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔ ایک زاویہ نگاہ سے دیکھا جائے تو فلسطین کے مسئلہ پر پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ امریکہ کے لیے ایک پیغام ہو سکتا ہے جس نے فلسطینیوں کی مخالفت کے باوجود اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو یروشلم میں منتقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں اس کا ذکر کرتے ہوئے صدر محمود عباس نے کہا کہ اس اقدام میں مضمر خطرات کا ذکر وہ کر چکے ہیں ۔ فلسطینی سفارت خانے کی نئی عمارت کے افتتاح اور اس تقریب میں صدر محمود عباس کی شرکت پاکستان کی طرف سے عرب دنیا کے ساتھ تعلقات کو ماضی کی طرح گرم جوشی اور باہمی محبت کی طرف لانے کی شروعات بھی ہو سکتی ہے۔ اس طرح یہ تقریب جس میں نئے امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسرائیل نواز پالیسیوں سے اختلاف کیا گیا ہے مسلمان ملکوں کے اتحاد کی جانب اشارہ شمار کی جا سکتی ہے۔ اس سوال کا جواب مشکل نظر آتا ہے کہ آیا مسلم ممالک ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف کوئی مشترکہ موقف اختیار کرنے کی طرف راغب ہوں گے۔ تاحال عرب دنیا سے ایسے کوئی اشارات نظر نہیں آتے ۔ سات مسلمان ملکوں کے باشندوں کے امریکہ میں داخلہ پر پابندی کے اعلان پر نہ اسلامی تنظیم نے کسی ردِ عمل کا اظہار کیا ہے نہ خلیجی ممالک کی کونسل نے۔ ایران نے امریکی باشندوں پر ایسی ہی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے لیکن ایران جانے والے امریکیوں کی تعداد بہت کم ہے۔ عراق نے بھی ایسا ہی اعلان کیاہے حالانکہ امریکی فوج کی ایک تعداد داعش سے جنگ کے لیے عراق میں موجود ہے۔ ظاہر ہے کہ حکومت عراق کی ایسی پابندیوں کا اعلان ان امریکیوں پرنہیں ہوگا۔ ابھی تک ڈونلڈ ٹرمپ کی امتیازی پالیسیوں کے خلاف کوئی مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کے لیے کوئی سفارتی کوششیں بھی ایسی نہیںجو نظر آتی ہوں۔ دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ کے امتیاز پر مبنی اقدامات کے خلاف خود امریکہ میں احتجاج جاری ہے۔ امریکی اٹارنی جنرل نے ٹرمپ کے اقدامات کو امریکی آئین کے منافی قرار دیا۔ جس کی پاداش میں انہیں اپنے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تاہم یہ بات نوٹ کرنے والی ہے۔ اٹارنی جنرل کا عہدہ سب سے بڑے سرکاری وکیل کا ہوتا ہے۔ صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ یورپ میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے امتیازی رویے کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے۔ برطانیہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ کی مخالفت کرنے والوں کی پٹیشن پر دس لاکھ سے زیادہ افراد دستخط کر چکے ہیں۔ فرانس میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو مسترد کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح یورپ کے دوسرے ممالک میں نئے امریکی صدر کے رویہ کے خلاف شدید احتجاج کیے جا رہے ہیں۔ گزشتہ روز تین سو شہروں میں بیک وقت ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ کی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ لیکن یہ سب کچھ زیادہ تر یورپی ملکوں میں ہو رہا ہے جہاں جمہوری قدریں مضبوط ہیں ۔ اس کے برعکس مسلمانوں کی اکثریت کے ممالک میں جو ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے اولین ہدف ہیں محض انتظار نظر آتا ہے کہ نئے امریکی صدر کی طرف سے اگلا فرمان کب جاری کیا جاتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ان ممالک کے امریکہ کے ساتھ معاشی اور سٹریٹجک مفادات وابستہ ہیں ۔ پاکستان کا کئی ارب زرِمبادلہ ہر سال امریکہ سے آتا ہے اور ہزاروں پاکستانی امریکہ میں مقیم ہیں۔ یہی حال دوسرے مسلمان ملکوں کا بھی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آیا خاموشی اختیارکرنے سے ان ملکوںکے لیے امریکہ سے وابستہ مفادات محفوظ رہیں گے۔ آج کی دنیا مزاحمت اور محاذ آرائی کی دنیا ہے۔ اس لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے امتیازی رویہ کے خلاف عالمی رائے عامہ کا ساتھ دینا صحیح سمت میں پیش رفت ہو گی۔ 

اداریہ