Daily Mashriq


وقت اور تعلیم کی اہمیت

وقت اور تعلیم کی اہمیت

لڑکپن بھی کیا خوشگوار زمانہ ہوتا ہے کھیل کو د ہنسی مذاق کھانا پینا گپ شپ فکر اور پریشانی کس چڑیا کا نام ہے کبھی اس طرف خیال جاتا ہی نہیں کل کرکٹ کا میچ ہے رات سے دعائیں مانگی جارہی ہیں کہ بارش نہ برسے ورنہ سارا مزا کر کرا ہوجائے گا۔ نصابی کتب زہر لگتی ہیں پڑھنے کو دل نہیں کرتا بس کھیل کود ہی واحد مشغلہ ہوتا ہے رات دن گزرنے کا احساس تک نہیں ہوتا غالباًکالج میں پہلا سال تھا نیا ماحول نئے دوست نئی دلچسپیاں بس مزے ہی مزے تھے دل چاہا تو کلاس میں جابیٹھے ورنہ کینٹین زندہ باد!ان دنوں یہ جملہ بہت مقبول تھا first year is the rest yearاور یہ وہ زمانہ ہوتا ہے جب ہر بات ہر جملے کی سچائی پریقین ہوتا ہے۔ ہم بھی کالج کے پہلے سال کو آرام کا سال سمجھتے ہوئے کتاب کی طرف نہیں آتے تھے اگر کسی نے کوئی اچھی بات بتادی کوئی نصیحت کردی تو وہ ہمیں بڑا دقیانوسی نظر آتا کیونکہ ہم اپنے آپ کو بڑا عالم فاضل سمجھتے ہمارا خیال تھا کہ کالج میں تعلیم حاصل کرنا کوئی مذاق تو نہیں ہے کیا ہم کسی سے کم ہیں!کالج میں اساتذہ کرام بھی مختلف مزاجوں اور علمیت کے ہوتے ہیں ایک استاد وہ ہوتا ہے جو کلاس میں آیا پڑھانا شروع کردیا کیا مجال ہے جو کتاب سے ہٹ کر ایک بات بھی کرے بس اس پر نصابی کتب پڑھانے کی دھن سوار ہوتی ہے ۔اس قسم کے اساتذہ کرام کی کلاس میں بیٹھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا جیسے کسی حبس زدہ ماحول میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ کالج کے سال دوم میں ہمارا واسطہ ایک غیر روایتی قسم کے استاد سے پڑا وہ کلاس میں کسی نہ کسی موضوع پر بات چیت کا سلسلہ شروع کردیتے بات سے بات نکلتی چلی جاتی چراغ سے چراغ جلتا اور روشنی دو ر دور تک پھیل جاتی پوری کلاس اس موضوع پر بات کرتی اگر کوئی لڑکا بے تکی بات کرتا جس کی موضوع سے کوئی مناسبت نہ ہوتی تو تمام کلاس ہنسنا شروع کردیتی تو اس وقت رضی صاحب طلبہ کو دوستوں کی طرح سمجھاتے کہ اس طرح نہیں ہنسا کرتے بلکہ دوسروں کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے یہ تو ان کی رائے ہے اس سے آپ کا اتفاق کرنا ضروری تو نہیں ہے۔ ہمیں نہیں یاد کہ انہوں نے کبھی کسی طالب علم کے لیے واحد کا صیغہ استعمال کیا ہو وہ ہر طالب علم سے آپ جناب کہہ کر بات کرتے!وہ طلبہ میں پڑھائی کی تحریک پیدا کرتے ان کا انداز کچھ اس قسم کا ہوتا: ۔ میں اپنے بیڈ روم میں اپنے سامنے ایک کتاب کھول کر مطالعہ شروع کردیتا ہوں بیڈروم کی سائیڈ ٹیبل پر دس پندرہ کتابیں پڑی ہوتی ہیں جب ان کتابوں پر نظر پڑتی ہے تو دل باغ باغ ہوجاتا ہے یہ کتابیں مجھے اپنے بچوں کی طرح عزیز ہیں سامنے نظر ڈالتا ہوں تو میز پر ترتیب سے پڑی ہوئی بیس پچیس کتابیں عجب بہار دکھلارہی ہوتی ہیں۔ چائے کی پیالی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دنیاکے بڑے بڑے دانش وروں سے محو کلام ہوتا ہوں تو ایک عجیب سی طمانیت کا احساس ہوتا ہے بس دل میں کچھ جاننے کچھ معلوم کرنے کی خواہش ہو تو بندہ ساری عمر طالب علم ہی رہتا ہے میں اپنے طلبہ کی صحبت میں بڑا اطمینان بڑی خوشی محسوس کرتا ہوں میرا خیال ہے کہ دنیا کے تمام پیشوں سے بڑھ کر درس و تدریس کا پیشہ ہے۔ صبح سویرے جب آپ لوگوں سے گفتگو کا موقع ملتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے تخلیق کا عمل ہورہا ہے کچھ اچھی اچھی باتیں آپ سے شیئر کرتا ہوں پھر آپ لوگ سوالات کرتے ہیں بات سے بات نکلتی ہے نئی باتیں سیکھنے کا موقع ملتا ہے اگر اس دوران کوئی لڑکا سوال کرتا کہ جناب اچھے استاد میں کن خوبیوں کا ہونا ضروری ہے تو پھر رضی صاحب اپنے مخصوص انداز میں یوں گویا ہوتے: دیکھیں یہ موضوع بڑی وسعت کا حامل ہے میں آپ کو اس حوالے سے دانش وروں کے کچھ اقوال سناتا ہوں ''ایک اچھا استاد وہ ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ اپنے آپ کو طلبہ کے لیے غیر ضروری بنادیتا ہے '' یہ استاد وہ ہوتا ہے جو طلبہ میں خود اعتمادی کا پودا اگاتا ہے ۔

Paluo Coelhoبڑا اچھا برازیلین ناول نگا رہے اس کے ناول اس کے معنی خیز جملوں کی وجہ سے پڑھے لکھے لوگوں میں بہت مقبول ہیں اس کا کہنا ہے کہ جب آپ کوئی کام مضبوط ارادے کے ساتھ شروع کرتے ہیں تو پھر فطرت کی طاقتیں آپ کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرنے کے لیے سرگرم عمل ہوجاتی ہیں اور بالآخر آپ اپنے کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔بہتر یہی ہے کہ طلبہ اپنی صلاحیتوں سے کام لیں اپنے آپ کو دریافت کریں کون سا مضمون ان کی طبیعت ان کے مزاج ذہنی میلان کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے اگر ایک مرتبہ یہ معلوم ہوجائے تو پھر آگے کا سفر آسان ہوجاتا ہے پھر کام کام نہیں رہتا بلکہ ایک مشغلہ بن جاتا ہے ۔للی ٹاملن کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ مجھے وہ استاد بہت پسند ہے جو ہوم ورک کے ساتھ ساتھ طلبہ کو کچھ ایسا دے جس پر وہ گھر جا کر سوچیں! اس کی کہی ہوئی باتیں ان پر سوچ کے نت نئے در واکردیں ان کے دل میں وقت اور تعلیم کی اہمیت پیدا ہوجائے اگر طلبہ وقت اور تعلیم کی اہمیت کو سمجھ لیں تو پھر ان کا وقت قیمتی ہوجاتا ہے وہ پھر کتاب کے ساتھ ساتھ اپنے اردگرد پھیلی ہوئی دنیا کا مطالعہ بھی شروع کردیتے ہیں اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب طالب علم حقیقی معنوں میں طالب علم بنتا ہے۔ وہ ہم سے مسکراتے ہوئے کہتے کہ آپ لوگوں کا خیال ہے کہ میں آپ کا استاد ہوںدرحقیقت ایسی بات نہیں ہے آپ بھی طالب علم ہیں اور میں بھی طالب علم ہوں بس دو چار سال عمر میں آپ سے بڑا ہوں میری باتوں کو کبھی بھی حرف آخر نہ سمجھنا اسے سوچ کے پیمانے میں رکھ کر ضرور تولنا خود سمجھ نہ آئے تو کسی دانا سے مشورہ کرنا ہر چیز کو بلا سوچے سمجھے تسلیم کرتے چلے جانا اچھے طالب علم کی نشانی نہیں ہے!

متعلقہ خبریں