کھرے اور کھوٹے کی پہچان

کھرے اور کھوٹے کی پہچان

تعلقات دوطرفہ اعتماد کی بنا پر ہی قائم رہ سکتے ہیں، یک طرفہ تعلق صرف وقتی مفاد کے لیے ہی ہو سکتا ہے،پائیدار ہرگز نہیں۔ امریکہ کے ساتھ ہماری دوستی ہر دور میں یک طرفہ ہی رہی ہے۔ پاک امریکہ دوستی پر ہم برسوں سے فخر کرتے آ رہے ہیں لیکن امریکہ نے ہمیشہ ہم سے ڈو مورکامطالبہ کیااور پاکستان کے بجائے بھارت کو ترجیح دی۔ پاک امریکہ دوستی کی پائیداری کا حالیہ دو واقعات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ایک یہ کہ امریکی صدر نے 7اسلامی ممالک کے شہریوں پر امریکہ آنے کی پابندی عائد کر دی ہے جبکہ دیگر 3ممالک جن میں افغانستان ' سعودی عرب اور پاکستان شامل ہیں ، ان ممالک کے شہریوں کے لیے بھی امریکہ آمد پر مکمل پابندی یا کم از کم کڑی شرائط عائد کرنے بارے غور کیا جارہا ہے۔ اگرچہ امریکی عدالت کے سٹے آرڈر سے ٹرمپ کے حکم نامے کے نتیجے میں وقتی طور پر ان لوگوں کی ملک بدری رک گئی ہے جواس کی زد میں آگئے تھے کیونکہ امریکی جج این ڈونیلی نے یہ حکم دیا ہے کہ پناہ گزینوں کو ہوائی اڈوں سے امریکہ بدر نہیں کیا جائے گا ، لیکن اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ انہیں امریکہ میں داخل ہونے دیا جائے گا، نہ ہی اس فیصلے میں صدر ٹرمپ کے انتہائی متنازع انتظامی حکم نامے کی آئینی حیثیت پر کچھ کہا گیا ہے۔ امریکی عدالت کی مداخلت اور اس حکم نامے کے خلاف مظاہروں کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ اپنے حکم نامے پر قائم ہے۔ دوسرا پاکستان پر پابندیاں عائد کرنے کی حالیہ امریکی دھمکی سے بھی پاک امریکہ تعلقات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ہمیں امریکہ کی دوستی کے سحر سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے اور ان دوستوں کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہیے جو ہمارا بھلا سوچتے ہیں۔ جیسے چین' ترکی' سعودی عرب' ایران' آذربائیجان اور دیگر پاکستان دوست ممالک۔

پاکستان چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کی صورت ایک سنگ میل عبور کرنے والا ہے۔ اقتصادی راہداری کی تکمیل کے بعد نہ صرف یہ کہ پاکستان کی معیشت مضبوط ہو گی بلکہ پاکستان کو بیرونی منڈیوں تک رسائل بھی حاصل ہو گی۔ اسی طرح سعودی عرب بھی پاکستان کی ہرمشکل گھڑی کادوست ہے، زلزلہ ہو یا سیلاب ۔سعودی عرب ہر مشکل میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا نظر آیا،صرف مقدس مقامات ہی نہیںبلکہ سعودی عرب میں مقیم لاکھوں پاکستانی ہرماہ کثیر زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں۔ ایران برادر اسلامی ملک ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارا پڑوسی ملک بھی ہے،دونوں ممالک کی یکساں تہذیب و ثقافت کے ساتھ ساتھ آپس میں دیرینہ تعلقات ہیں۔پیپلزپارٹی کے گزشتہ دور حکومت میں پاکستان کو جب توانائی کے شعبے میں بحران کاسامنا تھا تو ایران نے پاکستان کو توانائی اور گیس کی فراہمی میں پیش کش کی تھی۔ پاک ایران گیس پائپ لائن کا باقاعدہ معاہدہ بھی ہو گیا تھا جس کے تحت سینکڑوں میل پائپ لائن کا کام ایران نے مکمل کر لیا تھا لیکن حکومت بدلنے کے ساتھ ہی لیت و لعل سے کام لیا گیا اوردیگر منصوبوں کی طرح پاک ایران گیس منصوبہ بھی آنے والی حکومت کی ترجیح میں نہ رہا۔ ایران نے امریکی صدر کی جانب سے پابندی پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایسا اقدام اٹھایا ہے جو دیگر مسلم ممالک کوبھی اٹھانا چاہیے۔ ایران نے امریکہ پر واضح کر دیا ہے کہ اگر کوئی ایران کے شہریوں کو امریکی ویزہ نہ دیا گیا تو امریکی شہریوں کے لیے ایران کے دروازے بھی بند کر دیے جائیں گے۔
ترکی کے ساتھ بھی پاکستان کے دیرینہ اور خوش گوار تعلقات ہیں۔ ترکی کا شمار ان چند ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے بڑی تیزی کے ساتھ اپنی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ۔ ترکی کی مدد سے پاکستان میں متعدد منصوبے تکمیل کے بعد کام کر رہے ہیں اور کئی ایک منصوبے ابھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں،ترک صدر وہ واحد شخصیت ہیں جنہیں پاکستان کی پارلیمنٹ سے تین بار خطاب کا اعزاز حاصل ہے۔ اسی طرح آذر بائیجان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جنہیں ہم دوست ممالک سے تعبیر کرتے ہیں۔ آذر بائیجان کی خاتون اول عالیہ مہربان علیوف فلاحی کاموں میں عالمی شہرت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کئی بار پاکستان کا دورہ کیا اور خیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت اور حمزہ فاؤنڈیشن کے ساتھ مالی تعاون کے ذریعے تعلیم اور دیگر فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،گزشتہ سال صدر پاکستان جناب ممنون حسین نے انہیں نشان پاکستان کا اعزاز بھی دیا تھا ۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکہ کی دوستی پر فخر کرنے کے بجائے ہمیں سوچنا چاہیے کہ آج تک ہمیں امریکہ سے کیا ملا ہے۔ امریکہ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنے مفاد کی خاطر ممالک کو استعمال کرتا ہے اس دوران وہ مالی تعاون کے ساتھ ساتھ مختلف لولی پاپ بھی دکھاتا ہے لیکن جب وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھتا۔ خطے میںامریکہ اور بھارت کی بڑھتی قربتیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے ۔سو اس تناظر میں دیکھا جائے تو مضبوط سفارت کاری کے ساتھ ساتھ ہمیں نئے دوست تلاش کرنے کی ضرورت ہے اور وہ دوست جو واقعی ہمارے خیر خواہ ہیں، صرف وقتی مفاد کی خاطر نہیں بلکہ طویل عرصہ سے آزمودہ اور مشکل کی ہر گھڑی میں ہمارے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔

اداریہ