Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

ایک بوڑھا شخص حضرت عمر کے دور خلافت میں ملک شام سے مدینہ طیبہ حاضر ہوا ، 70یا 80سال کی عمر تھی ۔حضرت عمر نے دیکھا : دھوپ میں سفر کرنے کی وجہ سے بالکل سیاہ فام ہوگئے ہیں ۔ زمین کا رنگ ان کی رنگت سے زیادہ صاف ہے ۔ بال بڑھے ہوئے ہیں ۔ حضرت عمر نے پوچھا کہ یہ کیسے تشریف لائے ؟ اس ضعف اور بڑھاپے میں آپ نے اتنا طویل سفر کیوں کیا؟ بڑے میاں نے کہا کہ التحیا ت سیکھنے کے لیے آیا ہوں ۔ اتنی بات سن کر حضرت عمر ایسے روئے کہ صاحب حدائق کے الفاظ ہیں :اتنا روئے کہ داڑھی مبارک تر ہوگئی اور ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے ، دیر تک روتے رہے اور پھر قسم کھا کر فرمایا : قسم ہے اس ذات عالی کی ،جس کے قبضے میں میری جان ہے ، تمہیں عذاب نہیں دیا جائے گا ۔۔۔کیوں ؟دین کی ایک بات سننے اور سیکھنے کے لیے انہوں نے اپنے گھر کو چھوڑ ا اور اونٹ کی پیٹھ کے اوپر انہوں نے وقت گزارا ۔(بکھرے موتی )عمرو لیث کاایک غلام بھاگ گیا تھا ۔
لوگ اس کے پیچھے دوڑے اور اس کو پکڑ لائے ۔ وزیر کو اس سے ملال تھا ۔ اس کو قتل کرنے کا مشورہ دیا تا کہ دوسرے غلام ایسی حرکت نہ کریں ۔ غلام نے عمر و لیث کے سامنے زمین پر سر رکھ دیا اور کہا : جو کچھ میرے سر پر گزرے جب آپ پسند فرماتے ہیں تو جائز ہے ۔ جب حکم مالک کا (اختیاری ہے ) تو غلام (خلاف مرضی ) مالک سے دعویٰ کر سکتا ہے ۔ لیکن محض اس وجہ سے کہ اس خاندان کی نعمت میں پلا ہوں ۔ میں نہیں چاہتا کہ قیامت میں میرے خون کے مواخذے میں آپ گرفتار ہوں ۔
اجازت دیجئے کہ میں وزیر کومار ڈالوں ، پھر اس وقت اس کے قصاص میں خون بہا نے کا حکم فرمائیے تاکہ آپ مجھ کو حق پر ماریں ۔ بادشاہ کو ہنسی آئی ۔ ۔وزیر سے کہا کیا مصلحت دیکھتا ہے ۔ وزیر نے کہا مالک مصلحت تو یہی دیکھتا ہو ں کہ خدا کے لئے اور اپنے باپ کی قبر کے صدقے اس کو آزاد کر دیجئے تاکہ مجھ کو بھی یہ کسی بلا میں مبتلا نہ کرے ۔قصور تو میرا ہی ہے ۔اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جو دوسروں کیلئے گڑھا کھود تا ہے خود اس میں گرتا ہے ۔ (گلستان سعدی )
ایک بادشاہ شکار کرتے ہوئے کہیں دور نکل گیا ۔ وہاں اس کی ملاقات ایک دیہاتی شخص سے ہوئی ، اس نے عزت و اکرام کا معاملہ کیا ۔ بادشاہ نے کہا کہ میں بادشاہ ہوں ، اگر تمہیں کبھی کوئی ضرورت ہو تو دارالحکومت چلے آنا ۔ کافی عرصہ بعد وہ شخص دارالحکومت آیا ۔ دیکھا کہ بادشاہ مصلے پر بیٹھا دعا مانگ رہا ہے ۔ اس نے بادشاہ سے پوچھا تم کس سے مانگ رہے ہو ، جبکہ تم خود بادشاہ ہو ۔ اس نے بتایا کہ میں رب العالمین سے مانگتا ہوں ۔ یہ سن کر دیہاتی نے کہا کہ جب تم بادشاہ ہو کر خدا کے محتاج ہو تو میں بھی صرف اسی سے مانگوں گا اور اب مجھے تم سے سوال کرنے کی حاجت نہیں ۔
(انمول موتی ، جلد :6)

اداریہ