عوام کے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے

عوام کے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے

وفاقی حکومت ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ازسر نو تعین کرنے کی آڑ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو ہوشربا اضافہ کر رہی ہے اگر صورتحال یہی رہی تو موجودہ حکومت کے مینڈیٹ کی مدت کے اختتام تک عوام پیٹرولیم کی قیمتوں کے نیچے مکمل طور پر دب جائیں گے اور نظام حیات کا پہیہ رک جائے گا۔ جنوری کی پہلی تاریخ کے بعد اب فروری کی پہلی تاریخ کو بھی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی۔ جس کے مطابق پیٹرول2 روپے98 پسے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت84 روپے51 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں5 روپے 92 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد فروری کے مہینے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل95 روپے83 پیسے فی لیٹر میں فروخت کیا جائے گا۔ مٹی کا تیل5 روپے94 پیسے مہنگا کرنے کی منظوری دی گئی ہے جس کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت70 روپے26 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔ لائٹ ڈیزل5 روپے93 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد64 روپے30 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جاری کئے گئے نوٹیفیکیشن کے مطابق قیمتوں میں اضافہ عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں4 روپے6 پیسے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل3 روپے96 پیسے، لائٹ ڈیزل6 روپے25 پیسے فی لیٹر اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں6 روپے79 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔ حکومتی فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جبکہ پاکستان میں بنگلہ دیش، بھارت اور ترکی کے مقابلے میں پیٹرول کی قیمت سب سے کم ہے۔حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں گیارہ روپے75 پیسے تک کا اضافہ کرکے گویا عوام پر بجلی گرا دی ہے لیکن کمال معصومیت دیکھئے کہ وضاحت یہ کی جاتی ہے کہ وزیراعظم نے اوگرا کی سفارش پر قیمتوں میں رد وبدل کی منظوری دے دی ہے۔ کیا عوام کو یہ بھی معلوم نہیں رد وبدل کا مطلب اضافہ ہی ہے کمی بالکل نہیں۔ یہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ امر مسلمہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تازہ اضافہ مہنگائی کا سندیسہ لیکر آئے گا کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے تمام دیگر اشیاء کی قیمتیں خود بخود بڑھ جاتی ہیں خواہ ان کا پیٹرولیم مصنوعات سے کوئی تعلق ہو یا نہ ہو جن اشیاء کا بظاہر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کیسا تھ کوئی تعلق نظر نہیں آتا اس کے باوجود ان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور دلیل یہ دی جاتی ہے کہ چونکہ ٹرانسپورٹ سے نقل وحمل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں جن کا اثر لامحالہ تمام اشیائے ضرورت پر پڑتا ہے۔ ہمارے تئیں اگر حکومت اپنے حصے کے منافع میں معمولی کمی کی قربانی دینے کو تیار ہوتی تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ کیا یہ المیہ نہیں کہ ساڑھے چار سالوں کے دوران حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تین سو ارب روپے سے زائد کمائے۔ لیوی ٹیکس سے پچیس ارب روپے اکٹھے کئے گئے، اس کے باوجود یہ حکومتی اصرار بڑا دلچسپ ہے کہ حکومت نے عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں اٹھارہ ارب چھتیس کروڑ روپے کی سبسڈی دی۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے اگر کسی طبقے کو فرق نہیں پڑے گا تو وہ ہے حکمران یا بالا دست طبقہ، متوسط، زیریں متوسط اور خاص کر عوام الناس پر اس اضافے کے بہت برے اثرات مرتب ہوں گے۔ مہنگائی میں اضافے کا سلسلہ پہلے ہی سے جاری ہے اب اس کی رفتار مزید تیز ہوگی۔ چونکہ موخرالذکر طبقات کی آمدنی اور ذرائع آمدن محدود اور اخراجات زیادہ ہوتے ہیں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تازہ اضافے کے بعد اس تفاوت میں اور اضافہ ہوگا اور ان کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کا استعمال ٹرانسپورٹ میں بھی ہوتا ہے اس سے نقل وحمل کے اخراجات اور کرایوں میں اضافہ ہوگا جس سے گھر کے کرایوں سے لیکر دال روٹی تک مہنگی ہوگی۔ مٹی کے تیل کا استعمال انتہائی غریب طبقہ کرتا ہے اس کی قیمت میں اضافے سے ان کو بطور خاص مشکل ہوگی۔ اس امر کا بار بار مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا وفاقی بجٹ میں ایک ہی بار تعین کرے، بین الاقوامی منڈی میں اونچ نیچ کے فرق کو وصول ہونے والے لیوی اور جی ایس ٹی سے پورا کرے حکومت اگر اپنے حصے کی تھوڑی سی قربانی دینے پر آمادہ ہو جاتی تو ماہانہ بنیادوں پر عوام پر پیٹرول بم گرانے کی نوبت نہ آتی۔ ستم بالائے ستم یہ کہ پیٹرولیم مصنوعات کی تقریباً پچاس فیصد پیداوار ملکی ہوتی ہے جس کی بھی حکومت بین الاقوامی منڈی کی مصنوعات کے برابر ہی قیمت وصول کرتی ہے جو سراسر غیر قانونی اور عوام پر ظلم ہے۔ سال نو کے موقع پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے احتجاج کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پچاس فیصد کمی نہ کی گئی تو وہ عوامی سطح پر ملک گیر احتجاج کریں گے۔ علاوہ ازیں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی اسے عوام پر ظلم وزیادتی قرار دیا تھا مگر کسی بھی سیاسی جماعت نے نہ تو پارلیمنٹ میں اور نہ ہی عوامی سطح پر اس عوامی مسئلے پر احتجاج اور آواز اٹھانے کی زحمت گوارا کی۔ اب اگلے ماہ دوسری مرتبہ وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی پھر منظوری دے دی ہے۔ اس مرتبہ بھی سیاسی جماعتیں بیان بازی پر ہی اکتفا کریں گی اور عوام مزید مہنگائی کے بوجھ تلے دب جائیں گے۔ اس طرح کے حالات کا ملک میں عوام کیلئے تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق بننا فطری امر ہوگا۔ حال ہی میں ایران میں مہنگائی ہی کے خلاف عوامی احتجاج اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ وطن عزیز میں پہلے سے مہنگائی بجلی وگیس کی لوڈشیڈنگ اور گوناگوں مسائل کا شکار عوام کے پاس سوائے اس کے کوئی اور چارہ باقی نہیں رہ گیا ہے کہ وہ متحد ہوکر احتجاج کا راستہ اپنائیں۔

اداریہ