Daily Mashriq


کے پی پولیس پر تنقید بلا وجہ تو نہیں

کے پی پولیس پر تنقید بلا وجہ تو نہیں

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کے خیبر پختونخوا پولیس کے بارے میں سخت ریمارکس سے کے پی پولیس کی کارکردگی کا سوال اُٹھنا اور مخالفین کی تنقید میں اضافہ ہونا تو الگ بات تھی یہاں معاملہ اس کے برعکس اس لئے ہے کہ بدقسمتی سے یکے بعد دیگرے خیبر پختونخوا کے طول وعرض میں ایسے واقعات رونما ہوئے جو پولیس کی کارکردگی پر ازخود تنقید کا باعث بنے۔ ہمارے تئیں چونکہ خیبر پختونخوا پولیس کے حوالے سے دعوے زیادہ شدت سے ہوتے رہے ہیں اس لئے اس کی یکے بعد دیگرے ایسے جرائم میں ملوث عناصر کی گرفتاری میں ناکامی جو براہ راست عوام میں احساس عدم تحفظ کا باعث تھے تنقید کی لہرکی شدت فطری امر تھا۔ ہمارے ملک اور معاشرے میں پولیس خواہ وہ کے پی کی ہو یا پنجاب و سندھ کی، کسی طور بھی اپنی بنیادی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور جرائم کی روک تھام کی اہل نہیں ہو سکی ہے کجا کہ اس کی کارکردگی بارے بلند وبانگ دعوے کئے جائیں اور وقت آنے پر بھانڈا پھوٹ جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کسی سرکاری محکمے اور ادارے کی کارکردگی میں بہتری کوئی سیاسی وعوامی ایشو نہیں اور نہ ہی اسے کسی حکومت کے کارنامے میں شمار ہونا چاہئے۔ اسی طرح کسی محکمے یا ادارے کی کارکردگی میں نقص کو بھی اس زمرے میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ سرکاری اداروں اور محکموں کا کام اپنے فرائض کی بہتر انجام دہی ان کا فرض اور معمول ہوتا ہے۔ سرکاری ملازمین اس کی سرکار سے باقاعدہ تنخواہ وصول کرتے ہیں۔ اگر کوئی پولیس اہلکار اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے اور کسی محکمے کی کارکردگی اچھی ہوتی ہے تو اس کا سیاسی سٹیج پر تذکرہ سے زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ اس اہلکار اور محکمے کی حکومت عملی طور پر حوصلہ افزائی کرے، ان کی ضروریات کا خیال رکھے جبکہ خراب کارکردگی اور ناکامی پر اس کا حکومتی سطح پر دفاع کرنے کی بجائے جواب طلبی کی جائے اور مروجہ قوانین وضوابط اور طریقہ کار کا سہارا لے کر اصلاح پر مبنی اقدامات کئے جائیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے خیبرپختونخوا پولیس بارے ریمارکس اس لئے سخت نہیں کہ اگر سپریم کورٹ جیسا ادارہ بھی مصلحت سے کام لینے لگے تو عوام کس سے اُمید وابستہ کریں۔ بہتر ہوگا کہ خیبرپختونخوا پولیس کی آئے روز پیش آنیوالے نازک واقعات میں کمزوریوں کاجائزہ لیا جائے اور ان کو دور کرنے پر توجہ دی جائے۔ جن واقعات کے باعث کے پی پولیس تنقید کا نشانہ بن رہی ہے ان واقعات میں ملوث ملزموں کو گرفتار کرکے عدالت کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا جائے اور مظلوم خاندانوں کی داد رسی کی جائے۔

اُمیدواروں کا اعتماد کھوتا پبلک سروس کمیشن

خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے معاملات پر شکوک وشبہات کے باعث اُمیدواروں کا ادارے پر اعتماد پہلے سے متزلزل تھا، رہی سہی کسر امتحان شروع ہونے سے دوگھنٹے قبل پرچہ ہی آئوٹ ہونے کا واقعہ کمیشن پر رہا سہا اعتماد بھی اُٹھانے کا باعث بننا فطری امر ہوگا۔ خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن اور این ٹی ایس دونوں ہی اب یکساں طور پراُمیدواروں کا اعتماد کھو چکے ہیں جس کے باعث جہاں اہل اور قابل اُمیدواروں میں بے چینی پھیلنا فطری امر ہے۔ اس کے باوجود اصلاح احوال کیلئے کسی قسم کے اقدامات کا سامنے نہ آنا اس امر پر دال ہے کہ اس طرح کے واقعات میں کوئی منظم اور بااثر گروہ ملوث ہے جس کی پشت پناہی حکومتی سطح پر ہو رہی ہو۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ ہر دور حکومت کا مسئلہ نہ ہوتا اور اس ادارے پر اُمید واروں کے اعتماد کی بحالی کے اقدامات نظر آتے۔ حالیہ واقعہ سنجیدہ بھی ہے اور سنگین بھی اگر اس واقعے کا ہی سنجیدگی کیساتھ تحقیقات کی جائیں، ادارے کی غفلت اور تساہل کا جائزہ لیا جائے تو اصلاح احوال کیلئے سخت اقدامات کی ضرورت خود بخود سامنے آئے گی۔ حالیہ واقعہ جہاں پبلک سروس کمیشن کے ماتھے پر کلنک کا داغ ہے وہاں یہ میرٹ کی دعویدار حکومت کے دامن پر بھی دھبہ ہے جسے جتنا جلد دھویا جائے اتنا ہی بہتر ہوگا۔

متعلقہ خبریں