Daily Mashriq


افغان اعلیٰ سطحی وفد کی اسلام آبادآمد

افغان اعلیٰ سطحی وفد کی اسلام آبادآمد

میں گزشتہ دس روز کے دوران تین بڑے دہشت گرد حملوں کے بعد جن میں کم از کم چار امریکی فوجیوں سمیت ایک سو سے زیادہ افراد مارے گئے افغانستان کی حکومت نے حسب سابق پاکستان کی طرف انگشت نمائی کا رویہ اختیار کیا ہے جس الزام کو پاکستان مسترد کرتا ہے۔ افغانستان نے اس قدر برہمی کا اظہار کیا ہے کہ گزشتہ روز جب وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے افغانستان کے صدر اشرف غنی کے ساتھ ان واقعات میں جاں بحق ہونے والوںکی تعزیت کے لیے ٹیلی فون کیا تو کہا جا رہا ہے کہ اشرف غنی نے ٹیلی فون پر مخاطب ہونے سے انکار کر دیا ۔ افغانستان کی طرف سے پاکستان کے دفتر خارجہ کے اس بیان کی تائید نہیں کی گئی کہ پاکستان نے گزشتہ نومبر کے دوران طالبان اور حقانی گروپ سے تعلق رکھنے والے 27افراد افغانستان کے حوالے کیے تھے۔ تاہم افغانستان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد پاکستان آیا ہے جس میں افغان وزیر داخلہ وائس برمک اور افغان انٹیلی جنس کے سربراہ معصوم ستانکزئی شامل ہیں۔ اس وفد نے گزشتہ روز وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی اور یہ وفد فوجی حکام سے بھی ملاقاتیں کرے گا۔ کہا جارہا ہے کہ یہ وفد کابل میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے کچھ انٹیلی جنس لے کر پاکستان آیا ہے جو وہ پاکستانی حکام کے ساتھ شیئر کرے گا۔ یہ وفد امریکہ کے نائب وزیر خارجہ جان سلیوان کے حالیہ دورہ کابل کے بعد پاکستان آیا ہے۔ نائب وزیر خارجہ جان سلیوان نے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے ملاقاتیں کی ہیں اور اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھیں گے۔ ہم حکومت افغانستان سے بھی کہیں گے کہ وہ پاکستان کے ساتھ دو طرفہ گفتگو جاری رکھے۔ پاکستان کے مسئلے کے حل کا حصہ ہونا ضروری ہے‘‘۔ اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ افغان اعلیٰ سطح وفد کی پاکستان آمد امریکہ کے اسی مشورے کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ افغان وفد کے آنے کی درخواست افغانستان کی طرف سے کی گئی تھی۔ افغان اعلیٰ سطح وفد کے دورۂ پاکستان کا پس منظر بیان کرنے کا مقصد یہ بات سامنے لانا ہے کہ افغانستان میں جو بھی خرابی ہوتی ہے افغانستان کی حکومت اس کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دیتی ہے اور اس طرح وہ یہ سمجھتی ہے کہ اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہو گئی ہے۔ پاکستان پر یہ ذمہ داری ڈالنا امریکی مؤقف کی تائید میں ہوتا ہے۔ افغان حکومت کا یہ رویہ خود اس کی عملداری کے لیے باعث تقویت نہیں ہے۔ افغان حکمران ہونے کے ناطے یہ افغان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ افغانستان میں افغانوں کو جان و مال کا تحفظ دے خواہ ان کا تعلق کسی بھی سیاسی نقطۂ نظر سے ہو۔ افغان عوام افغان حکومت کو ہمدرد اور ذمہ دار سمجھیں گے تو افغان حکومت اپنا مؤقف مضبوط بنیاد پر بیان کر سکے گی۔

افغان اعلیٰ سطحی وفد کس معیار کی انٹیلی جنس لے کر آیا ہے اس کا اندازہ تبھی ہو سکتا ہے جب پاکستان کے حکام سے اس وفد کے مذاکرات کے بعد کوئی اقدامات نظر آئیں گے۔ اگر یہ وفد کوئی نئی فہرست لے کر آیا ہے یا کوئی ایسی شہادتیں لے کر آیا ہے جو حالات و واقعات سے لگا نہیں کھاتیں تو یہ بھی افغانستان کی طرف سے الزام تراشیوں میں اضافہ ہی قرار پائے گا جن کو پاکستان بار بار ناقابلِ یقین ہونے کی بنا پر مسترد کر چکا ہے۔ افغان حکومت شاکی رویے پر اس قدر راسخ ہے کہ اس نے پاکستان کے اس اقدام کی تائید نہیں کی کہ گزشتہ نومبر میں پاکستان نے 27ایسے افراد کو افغانستان کے حوالے کیا تھا۔ حوالگی کا یہ اقدام اس وقت روبہ عمل آیا تھا جب پاکستان کے آرمی چیف نے اس سے چند روز پہلے افغانستان کا دورہ کیا تھا اور افغان حکام سے مذاکرات کیے تھے۔ اور اس کی حساس نوعیت کے حوالے سے اس کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن افغان سفیر عمر ذاخیلوال نے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل کے اس بیان پر حیرت کا اظہار کیا ہے اور افغانستان میں ایک ’’باخبر ذریعہ‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے افغان خبر رساں ایجنسی نے ایسی کسی حوالگی کی تردید کی ہے۔ ممکن ہے افغان دفتر خارجہ یا پاکستان میں افغان سفیر کو اس اقدام کے بارے میں خبر نہ ہو۔ تاہم افغانستان کے صدارتی محل کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی تردید نہیں کی گئی ہے۔ تاہم دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے تعاون کی کسی کارروائی کو پوشیدہ رکھنا اور ہر خرابی کا الزام پاکستان پر لگا دینا خود افغان حکومت پر افغان عوام کے اعتماد کو کمزور ہی کر سکتا ہے۔ اس پالیسی کا نتیجہ ہے کہ افغانستان میں افغان حکومت کی عملداری سمٹتی جا رہی ہے۔ افغان حکومت کے حلیف صدر ٹرمپ کا مسئلہ افغانستان میں امن کے قیام کی بجائے افغانستان میں فتح کے ذریعے امریکیوں کے لیے فخر حاصل کرنا ہے۔ چونکہ ستر فیصد افغان علاقے پر افغان حکومت کی عملداری نہیں ہے اس علاقے کے لوگوں کی وفاداریاں افغان حکمرانوں کے مخالفین کے ساتھ ہیں اس لیے امریکیوں کے لیے زمینی حملہ کا آپشن ترک کر دیا گیا ہے ، اس کی بجائے صدر ٹرمپ نے افغانستان میں ایک ہزار امریکی کمانڈوز بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ سوات پر طالبان کے حملے کے دنوں سے امریکی میڈیا میں ایسی خبریں آ تی رہی ہیں کہ امریکہ ایسے کمانڈوز تیار کررہا ہے جو ’’مقامی لوگوں کی شکل و شباہت رکھتے ہوں ‘ انہی جیسا لباس پہنتے ہوں اور انہیں کی طرح زمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہوں۔‘‘ تاہم افغانستان مربوط آبادی کا ملک ہے جہاں ہر قسم کے اجنبی کی پہچان آسانی سے ہو جاتی ہے۔ اس لیے ان کمانڈوز کی کامیابی پر انحصار نہیں کیا جانا چاہیے لیکن افغان حکومت کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ایسی کارروائیوں سے قتال افغان آبادی کا ہو گا۔ اس کی ذمہ دار افغان حکومت ٹھہرے گی اور اس کے مختلف الخیال افغان گروپوں سے مذاکرات مزید مشکل ہو جائیں گے۔

متعلقہ خبریں