Daily Mashriq


پاکستانی معاشرہ اور خواتین

پاکستانی معاشرہ اور خواتین

خواتین کو عام طور پر صنف نازک کہا جاتاہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس شاہکار مخلوق کو جسمانی طور پر مرد کے مقابلے میں اپنی حکمت کی بنیاد پر ذرا کمزور پیدا کیا ہے۔ اسی بناء پر تاریخ کے مختلف ادوار میں اس کی اسی کمزوری سے ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے حضرت مرد نے اس کا بہت زیادہ استحصال کیا ہے۔ یونانی‘ رومی‘ مصری‘ ہندی اور ایرانی تہذیبوںمیں تو ان بے چاریوں پر ایسا وقت بھی آیا ہے کہ یہ ایک قابل فروخت چیز بن کر رہ گئی تھی۔ اب جبکہ دنیا ترقی کے حوالے سے چاند اور مریخ پر قدم رکھ کر سمندر کے پاتالوں کو کھنگال رہی ہے پھر بھی ان کے بارے میں آج تک دنیا میں وہ دور نہیں آیا ہے کہ یہ مظلوم وکمزور مخلوق بھی سینہ تان کر بحیثیت انسان اپنے بنیادی انسانی حقوق حاصل کرکے ایک پر امن خود دارانہ اور باوقار زندگی گزار سکے۔ میری ناقص رائے میں تاریخ انسانیت میں دو ادوار ایسے ضرور آئے ہیں جس میں عورت ذات کو توجہ دی گئی ہے لیکن دونوں میں عورتوں کے حقوق کے حوالے سے بہت بڑا فرق ہے۔ ایک دور جناب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہے جس میں عورت کو ماں‘ بہن‘ بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے وہ سارے حقوق ملے جن کا اس سے پہلے کسی نے تصور تک بھی نہیں کیا تھا۔ قرآن وحدیث میں حقوق نسواں کے حوالے سے جو تعلیمات اور احکام نازل اور وارد ہوئیں ان کے نتیجے میں ایک ایسا معاشرہ وجود میں آیا جس میں عورت کی طرف کوئی میلی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ عورت کو اتنا اعتماد ووقار ملا کہ حضرت عمر فاروقؓ جیسی شخصیت نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عرض کیا ’’یا رسول اللہ ﷺ! اب تو ہماری خواتین ہم سے دو بدو بات کرنے لگی ہیں اور ترکی بہ ترکی جوا ب دینے لگی ہیں! یہی وہ دور تھا جس میں عورت کو ہر شعبہ زندگی میں کماحقہ مقام ملا، لیکن پھر بتدریج انسانیت دور رحمت اللعالمین ﷺ سے دور ہوتی چلی گئی اور وہ منور وتاباں تعلیمات جن کے ذریعے عورت گویا مضبوط قلعے میں محصور تھی ان کی نظروں سے اوجھل اور مدہم ہوتی چلی گئیں اور پھر ایک وقت وہ آیا کہ مغرب آگے بڑھنے لگا۔ وہاں صنعتی ترقی کیساتھ ہی ایسا انقلاب آیا جس کے سبب یورپ میں عورت کی کایا ہی پلٹ گئی لیکن ایسی کایا۔۔کہ وہ عورت جو کبھی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی اتنی آزاد ہوئی جس کا کبھی تصور بھی نہیں تھا۔ اب اگرچہ یہ بات قابل بحث ہے اور یہ بحث ایک طویل مدت سے جاری ہے کہ عورت کیلئے ان دو ادوار میں سے کون سا زیادہ بہتر رہا ہے۔ اس وقت دنیا میں ان ہی دو تہذیبوں کے درمیان بحث ومباحثہ ‘ کشمکش‘ معاملہ اور مقابلہ جاری ہے۔ مختلف دانشور‘ فلاسفر اور صاحبان علم ودانش اس بارے آج بھی اپنی آراء کا اظہار مسلسل کر رہے ہیں لیکن ہمارے لئے ایک مسلمان کی حیثیت سے اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ دنیا میں قرآن وحدیث کی تعلیمات سے بڑھ کر کوئی چیز ہو ہی نہیں سکتی اور ان تعلیمات پر مبنی تہذیب و تمدن دنیا کی بہترین تہذیب ہے اور آج بھی اگر کوئی ان تعلیمات پر عمل کرے تو نتیجہ وہی ہوگا جو چودہ سو سال پہلے تھا۔ پاکستان کا قیام اس لئے عمل میں لایاگیا تھا کہ یہاں ایک ایسے معاشرے کی تشکیل ہوگی جس میں چادر‘ چار دیواری اور عزت و آبرو اور بالخصوص حقوق نسواں کا بہت اہتمام کیا جائے گا لیکن عورت بے چاری کو نہ ہی مغرب میں جائے امان ملی اور نہ ہی مسلمانوں کے معاشرے میں پناہ ملی۔ مغرب میں ترقی‘ حقوق نسواں اور مرد و زن میں مساوات کے نام پر عورت کا استحصال ہوا اور ہو رہا ہے اور یہاں پسماندگی‘ جہالت اور بعض اوقات مغرب کی بھونڈی نقالی کے نام پر لوٹا گیا۔ گزشتہ کئی مہینوں سے پاکستان میں خواتین بالخصوص بچیوں کیساتھ جو کچھ ہو رہا ہے یہ کسی طور بھی قابل برداشت نہیں۔ معصوم بچیوں کیساتھ زیادتی اور پھر بہیمانہ قتل یقینا درندوں کی درندگی سے بھی کوئی گری ہوئی چیز ہی ہو سکتا ہے۔ اس قسم کے بھیانک‘ گھنائونے اور انسانیت سوز جرائم کا ارتکاب کرنے والے عرب جاہلیت سے بد تر، دور جدید کی جاہلیت کے بدترین مظاہر ہیں۔ لیکن حیرانی اس بات پر ہے کہ ہماری جامعات اور تعلیمی اداروں کو کیا ہوگیا ہے کہ وقفے وقفے سے ملک کے مختلف علاقوں کی جامعات میں کبھی توہین رسالتؐ کے نام پر لوگ قتل ہو جاتے ہیں اور کبھی بچیوں پر چاقو چھریوں کے وار کئے جاتے ہیں۔ کبھی طلبہ و طالبات دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں اور کبھی کسی بد معاش کیساتھ شادی سے انکار پر گولیوں کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے اور اپنے قاتل کا نام ڈوبتی آنکھوں کیساتھ لے کر بھی قاتل قانون کی گرفت سے بچ نکلتا ہے۔ یہ تو وہ جرائم ہیں جو میڈیا کے زور پر عوام کے سامنے آجاتے ہیں ورنہ ہمارے معاشرے میں کتنے بھیانک جرائم اور گناہ اور ظلم و زیادتیاں ہیں جو مظلوم، کمزور اور غریب طبقات کے افراد کیساتھ دن رات ہوتے رہتے ہیں۔ احمد ندیم قاسمی مرحوم کے بقول ’’ جب خدا کسی غریب سے ناراض ہو جاتا ہے تو اسے خوبصورت بیٹی عطاکرتا ہے‘‘ اور پھر معاشرے کے درندے اور راجہ گدھ اس خوبصورت بنت حوا کو نوچنے کیلئے منڈلانے لگتے ہیں اور پھر عاصمہ رانی جیسی بچیاں ان کی درندگی اور انسانیت سوز خواہشات کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔پاکستان کے قیام کے مقاصد کے حصول اور انسانیت بالخصوص صنف نازک کو حفاظت و سلامتی دلانے کیلئے کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ پارلیمنٹ کے ذریعے شریعت مطہرہ کا نفاذ کرایا جائے جو پوری انسانیت کیلئے راہ نجات ہے۔

متعلقہ خبریں