میڈیاکھلاڑی یا تماشائی؟

میڈیاکھلاڑی یا تماشائی؟

قصور کے روح فرسا زینب قتل کیس میں میڈیا کا کردار ایک بار پھر موضوع بحث بن گیا۔ میڈیا کھلاڑی ہے یا تماشائی یہ سوال بہت شدومد کیساتھ اُٹھایا گیا۔ زینب کیس میں اہم موڑ اس وقت آیا جب عمران علی نامی ایک شخص کو پورے ثبوت اور شواہد کیساتھ گرفتار کر لیا گیا اور ملزم نے اپنے جرائم کا اعتراف بھی کیا اور جدید سائنسی طریقوں سے بھی اس کا مجرم ہونا ثابت ہوگیا۔ یہ کیس اب اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا تھا کہ ملک کے ایک جانے پہچانے ٹی وی اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود کچھ دعوؤں اور انکشافات کیساتھ میدان میں کود پڑے۔ ان کا مؤقف تھا کہ عمران علی تنہا وارداتوں کا مجرم نہیں بلکہ وہ قصور میں سرگرم ایک بااثر گروہ کا کارندہ ہے جس کے ڈانڈے بین الاقوامی چائلڈ پورنوگرافک انڈسٹری سے ملتے ہیں۔ اس صنعت سے کروڑوں روپیہ وصول کیا جاتا ہے۔ جن اکاؤنٹس کے ذریعے رقم آتی جاتی ہے ڈاکٹر شاہد مسعود نے ان کی تفصیل موجود ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے عدالت میں طلب کئے جانے اور مؤقف سننے کی استدعا بھی کی، جس کے بعد عدالت نے انہیں طلب کیا اور ان سے تمام تفصیلات حاصل کیں۔ سٹیٹ بینک اور دوسرے تمام بینکوں نے عمران علی کے بینک اکاؤنٹس موجود نہ ہونے کی رپورٹ دے کر ڈاکٹر شاہد کے دعوے کو جھٹلا دیا۔ جس کے بعد ان کی پوزیشن کمزور ہوتی چلی گئی۔ عدالت میں بھی اینکر پرسن اپنے دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکے۔ جس سے میڈیا کے کردار کے حوالے سے کئی سوالات پیدا ہوئے۔ عدالت نے ڈاکٹر شاہدکے دعوے کو جھٹلانے والے کئی دوسرے صحافیوں کو بھی طلب کر کے ان کا مؤقف سنا۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اینکر پرسن کی طرف سے اپنے دعوے کے حق میں ثبوت پیش نہ کرنے پر اظہار برہمی کیا ہے۔ جب ڈاکٹر شاہد مسعود اپنے دعوے پر قائم رہے تو عدالت کو معاملے کی آزادانہ تحقیقات کے لئے ایک نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینا پڑی جو ایک ماہ میں اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کرے گی۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کے الزامات شاید نمایاں ہونے اور ازخود ایک خبر بننے کی خواہش کا آئینہ دار ہو۔ خودنمائی کی خو ہر انسان میں کم یا زیادہ موجود ہوتی ہے۔ کوئی اس خو خصلت پر حاوی ہوتا ہے اور خودنمائی کی موجوں کو کنٹرول میں رکھنے میں کامیاب ہوتا ہے تو کوئی اس عادت کے ہاتھوں یرغمال بن کر رہ جاتا ہے۔ اس لئے ڈاکٹر شاہد نے اگر موقع سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ اصل حیرت ڈاکٹر شاہد پر چڑھ دوڑنے والے میڈیا وابستگان اور حکومت کے روئیے پر ہے۔ شاہد مسعود کے انکشافات پر ان کا سیخ پا ہو جانا خاصا عجیب معلوم ہو رہاتھا۔ عمران علی کی صورت میں کیس کا اہم اور مرکزی ملزم ہاتھ آگیا ہے۔ عمران علی کے مجرم ہونے میں دورائے نہیں اور نہ ہی کسی نے عمران علی کو مجرم قراردینے والے شواہد کو جھٹلایا۔ شاہد مسعود کے انکشاف نے بلاشبہ کچھ لوگوں کے لئے اس حوالے سے پنڈورہ باکس کھولنے کی کوشش کی یعنی یہ کہ عمران علی اپنے فعل میں تنہا ہے یا اس کے پیچھے کوئی منظم گروہ یا بااثر شخصیت موجود ہے؟۔ یہ سوال اُٹھانا اس قدر جرم بھی نہیں تھا کہ جو بنا دیا گیا۔ قصور کے ماحول اور واقعات کے تسلسل اور زمانے کی بدلتی ہوئی ہواؤں اور رواج پانے والی قباحتوں کے تناظر میں یہ ایک جائز سوال تھا۔ بینک اکاؤنٹس کی کہانی کیا ہے؟ یہ تفصیل کہاں سے ٹپکی؟ اس پر بحث ہو سکتی ہے مگر اس واقعے کاکردار ایک یا بہت سے؟ اس پر ناک بھوں چڑھانے کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ میڈیاکے ایک حلقے نے تو عمران علی کی بجائے ڈاکٹر شاہد کو سارے کیس میں ’’ولن‘‘ بنا کر پیش کر دیا۔ وفاقی حکمران جماعت اور اس کا سوشل میڈیا ونگ تو شاہد مسعود کے حوالے سے ’’لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا‘‘ کے مصرعے کی عملی تصویر بن بیٹھا۔ پاکستان میں میڈیا کے ایک بڑے حصے نے اپنا اصل کردار یعنی غیر جانبدارانہ رپورٹنگ اور احتساب کا کام چھوڑ کر سیاسی تنازعات میں فریق بننے کا کام سنبھال لیا ہے۔ بالخصوص الیکٹرانک میڈیا اور پرائیویٹ چینلز کی آمد کے بعد میڈیا انڈسٹری میں پیراشوٹ کے ذریعے اُترنے کا رجحان عام ہوا۔ جس کے بعد خود میڈیا سے وابستہ لوگوں میں میڈیا میں ’’اِن‘‘ رہنے کا جنون بڑھ گیا۔ ذمہ دارانہ صحافت کے تقاضے فراموش ہونے لگے۔ اب یہ سلسلہ باقاعدہ میراتھن کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ میڈیا انڈسٹری کو دوبارہ اپنے اصل کام اور فرض کی طرف لانے کے لئے مجموعی طور پر کچھ کام کرنا ہوگا۔ صحافتی تنظیموں کو بھی ہر معاملے میں ’’آزادیٔ اظہار‘‘ کا پھریرا لہرا کر احتجاج کرنے کا شوق ترک کرنا ہوگا اور اس پروفیشن کو بھی جواب دہی کے کسی عمل سے گزارنے کی معاونت کرنا ہوگی۔ جس صحافی یا سیٹھ کو سیاست کا شوق ہو تو اسے صحافت اور کارکن صحافیوں کے پیچھے چھپ کر یہ شوق پورا کرنے کی بجائے کھل کر کسی سیاسی جماعت کا حصہ بن کر دل کے ارمان پورے کرنے چاہئے۔

اداریہ