پردہ اُٹھنے کی منتظر ہے نگاہ

پردہ اُٹھنے کی منتظر ہے نگاہ

کسی بھی بڑی شخصیت کی کہی ہوئی بات سے‘ جسے عرف عام میں اقوال زریں بھی کہا جاتا ہے‘ ہم جیسے ہیچمدان اپنی تحریروں کو وزنی بنانے کی کوشش اس لئے کرتے ہیں تاکہ تحریر میں وزن پیدا کیا جاسکے۔ سو آج ہم بھی کیوں نہ اپنی تحریر کے آغاز میں کنفیوشس کے ایک قول کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے پڑھنے والوں کو مرعوب کرنے پر مجبور کردیں۔ اور وہ قول فیصل کچھ یوں ہے کہ اگر آ پ سے کوئی مذاق کرے تو اسے زیادہ سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ مسکرا کر ٹالنے کی کوشش کریں۔ اب یہ آپ کی مرضی ہے کہ اس قول پر بھی سنجیدگی سے توجہ دیتے ہیں یا پھر آپ اسے بھی مسکرا کر اس کے اندر چھپے ہوئے پیغام پر مسکراہٹ کے پھول نچھاور کرتے ہیں کیونکہ خود ہمیں بھی یہ معلوم نہیں کہ کنفیوشس نے یہ بات کس موقع پر کہی تھی اور اگر آپ کے دل کا زور بہت ہی زیادہ ہو تو اُٹھائیے کتابیں‘ تلاش کیجئے کہ واقعی یہ قول کنفیوشس کا ہے بھی یا ہم نے ویسے ہی اپنی طرف سے یہ قول کنفیوشس سے منسوب کر دیا ہے۔ زیادہ امکان تو دوسری بات کا ہی ہو سکتا ہے اور اس حوالے سے ہم دو دوستوں کی اس جوڑی کا تذکرہ کرکے آپ کو حقیقت حال سے آگاہ کرنے کی جرأت کریں گے۔ ان دونوں میں سے ایک تو بہت ہی مشہور شخصیت ہیں بلکہ بہت بڑے خانوادے سے بھی ان کا تعلق ہے۔ وہ پشاور یونیورسٹی میں طالب علمی کے زمانے میں بہت اعلیٰ پائے کے مقرر (Debator) تھے۔ ان دونوں دوستوں کی جوڑی پورے ملک میں مختلف تعلیمی اداروں میں منعقد ہونے والے تقریری مقابلوں میں شرکت کرکے عموماً مقابلے جیت بھی لیتے اور لاتعداد ٹرافیاں ان کے پاس جمع ہوگئی تھیں۔ تقریری مقابلے کے دوران ان کا طریقہ واردات یہ ہوتا تھا کہ وہ کسی بھی فرضی نام کے کسی دانشور‘ مصنف یا مشہور تاریخی شخصیات کے نام سے کوئی کتاب منسوب کرکے اس میں سے اپنے موضوع کے حوالے سے اس فرضی کتاب کے اندر سے فرضی قول کا تڑکا اپنی تقریر میں لگا کر مخالفین کو چاروں شانے چت کرکے مقابلہ جیت جاتے اور اسی کلئے کو استعمال کرتے ہوئے ہم نے بھی کنفیوشس کے قول کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آپ سے کوئی مذاق کرے تو اسے زیادہ سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ مسکرا کر ٹالنے کی کوشش کریں۔ بقول غنی دہلوی 

ترے جواب کا اتنا مجھے ملال نہیں
مگر سوال جو پیدا ہوا جواب کے بعد
اور وہ سوال یہ ہے کہ دم تحریر سندھ حکومت نے عوام کے ساتھ جو مذاق کیا ہے اسے سنجیدگی سے لیا جائے یا پھر مسکرا کر ٹالنے کی کوشش کی جائے۔ مذاق یہ ہے کہ سندھ حکومت نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ شادی کی تقاریب کے موقع پر جہیز کی مالیت پچاس ہزار سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے اور لڑکے والے لڑکی والوں کو زیادہ مالیت کے جہیز دینے پر مجبور نہ کریں، ورنہ قید وجرمانے بھرنے پڑیں گے۔ اسے ہم نے مذاق اس لئے قرار دیا ہے کہ اس قسم کے مذاق ماضی میں بھی کئی مواقع پر حکومتیں عوام کے ساتھ کرتی رہی ہیں اور عوام نے ان کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا بلکہ مسکرا کر ٹالنے کے لئے ان حکمناموں اور قوانین سے نمٹنے کے کئی طریقے نکال کر اپنا الو سیدھا کرتے رہے ہیں۔ ماضی کو جانے دیجئے۔ آج کے حالات دیکھئے‘ مختلف ٹی وی چینلز پر ملک کے بڑے شہروں میں منعقد ہونے والے فیشن شوز کی جو جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں ان میں جہاں موسم کی مناسبت سے ملبوسات کی نمائش مرد وخواتین ماڈلز ریمپ پر کیٹ واک کرتے ہوئے کرتی ہیں وہ ایک جانب جبکہ ان فیشن شوز میں عروسی ملبوسات یعنی دولہوں اور دلہنوں کے پہناوے بھی نمائش کے لئے پیش کئے جاتے ہیں، ان ملبوسات کی قیمتیں لاکھوں تک میں ہوتی ہیں اور پھر ملک کے بڑے اور مالدار لوگ اپنے خاندانوں کی شادیوں کے مواقع پر یہی ملبوسات آرڈر دے کر تیار کرواتے ہیں۔ ان میں مردانہ اور زنانہ ہر قسم کے لباس شامل ہیں۔ یوں صرف ایک جوڑے یا شیروانی‘ شلوار قمیض اور پگڑی پر اس قدر رقم خرچ کی جاتی ہے کہ غریب خاندانوں کی کئی شادیاں صرف ایک مردانہ اور زنانہ جوڑے پر اُٹھنے والے اخراجات سے کرائی جاسکتی ہیں۔ دیگر اخراجات کا تو ہم نے تذکرہ ہی نہیں کیا جو کروڑوں تک میں جا پہنچتا ہے۔ کراچی‘ لاہور‘ فیصل آباد‘ اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں میں شادیوں پر اس قدر خرچے کئے جاتے ہیں جو اسراف کی بھی انتہائی حدوں کو چھو لیتے ہیں۔ کئی روز تک تقاریب جاری رہتی ہیں اور انواع واقسام کے کھانوں سے مہمانوں کی تواضع کو سٹیٹس سمبل سمجھ کر برداشت کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے عام متوسط گھرانوں میں بھی اس قسم کی قباحتیں سرایت کر چکی ہیں اور وہاں بھی اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کیا جاتا ہے خواہ اس کے لئے بھی بھاری قرضوں تلے خود کو دبانے کی کوشش ہی کیوں نہ ہو رہی ہو، کیونکہ سوسائٹی میں ’’ناک اونچی رکھنے‘‘ کی قباحت جو موجود ہے۔ دراصل مردوں سے زیادہ یہ ناک اونچی رکھنے کی بیماری خواتین کو لاحق ہوتی ہے جس نے معاشرے کو بربادی کے راستے پر گامزن کر رکھا ہے۔ اس لئے حکومت اسے نمائشی طور پر ختم کرنے کی کوشش ضرور کرتی ہے مگر جب تک قانون کو حقیقی معنوں میں سختی سے نافذ کرنے کی سعی نہیں کی جائے گی۔ اسے مذاق سے زیادہ اہمیت کوئی بھی نہیں دے گا۔
یہ ڈرامہ دکھائے گا کیا سین
پردہ اُٹھنے کی منتظر ہے نگاہ

اداریہ