Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا تخت جو ہوا پر چلتا تھا اس کی کیفیت یہ بیان کی ہے کہ حضرت سلیمانؑ نے لکڑی کا ایک بہت وسیع تخت بنوایا تھا جس پر خود مع اعیان سلطنت اور مع لشکر اور آلات حرب کے سب سوار ہوجاتے۔

پھر ہوا کو حکم دیتے‘ وہ اس عظیم الشان وسیع و عریض تخت کو اپنے کاندھوں پراٹھا کر جہاں کاحکم ہوتا وہاں جاکر اتار دیتی تھی۔ یہ ہوائی تخت صبح سے دو پہر تک ایک مہینہ کی مسافت طے کرتا تھا اور دوپہر سے شام تک ایک مہینہ کی‘ یعنی ایک دن میں دو مہینوں کی مسافت ہوا کے ذریعے طے ہوجاتی تھی۔

ابن ابی حاتم نے حضرت سعید بن جبیرؒ سے نقل کیا ہے کہ اس تخت سلیمانی پر 6لاکھ کرسیاں رکھی جاتی تھیں جس میں حضرت سلیمانؑ کے ساتھ اہل ایمان انسان سوار ہوتے تھے اور ان کے پیچھے اہل ایمان جن بیٹھتے تھے پھر پرندوں کو حکم ہوتا تھا کہ وہ اس پورے تخت پر سایہ کرلیں تاکہ آفتاب کی تپش سے تکلیف نہ ہو۔ پھر ہوا کو حکم دیا جاتا تھا وہ اس عظیم الشان مجمع کو اٹھا کر جہاں کا حکم ہوتا وہاں پہنچا دیتی تھی اور بعض روایات میں ہے کہ اس ہوائی سفر کے وقت پورے راستے میں حضرت سلیمانؑ سر جھکائے ہوئے اللہ کے ذکر و شکر میں مشغول رہتے تھے۔

دائیں بائیں کچھ نہ دیکھتے تھے اور اپنے عمل سے تواضع کااظہار فرماتے تھے۔ (ابن کثیر بحوالہ معارف القرآن‘ جلد 6‘ صفحہ212:)

ایک فقیر تنہا ایک صحرا کے گوشہ میں بیٹھا تھا‘ ایک بادشاہ کااس کے پاس سے گزر ہوا۔

فقیر نے اس وجہ سے کہ بے فکری قناعت کی سلطنت ہے‘ اس کی طرف توجہ نہیں کی اور بادشاہ اس وجہ سے کہ حکومت میں قہر و غضب ہوتا ہے‘ رنجیدہ ہوگیا‘ کہا یہ کفنی پہننے والوں کی جماعت چوپایوں جیسی ہے‘ صلاحیت اور آدمیت نہیں رکھتے‘ اس (فقیر) کے پاس آکر وزیر نے کہا: اے جوانمرد! روئے زمین کا بادشاہ آپ کے پاس آیا‘ آپ نے تعظیم نہیں کی اور ادب کی شرائط پوری نہیں کیں؟

فقیر نے کہا: بادشاہ سے کہہ دو کہ تعظیم کی امید اس شخص سے رکھے جو بادشاہ سے نعمت کی امید رکھتا ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ بادشاہ رعیت کی نگہبانی کے لئے ہے نہ کہ رعیت بادشاہ کی خدمت کے لئے۔

بادشاہ کو فقیر کی باتیں درست دکھائی دیں۔ کہا: کچھ مجھ سے طلب کرو‘ کہا: میں چاہتا ہوں کہ دوبارہ (تشریف لا کر) مجھ کو زحمت نہ دیں۔ بادشاہ نے کہا کہ مجھے نصیحت کر۔

فقیر نے کہا: (دین ودنیا کی نیکی) حاصل کرلے‘ اب دولت تیرے ہاتھ میں ہے کیونکہ یہ دولت و سلطنت ہاتھوں ہاتھ چلی جائے گی۔ دنیاوی جاہ و حشمت سب عارضی ہے ایک دن یہ ہاتھ سے چلی جاتی ہے اس پر اترانا نہیں چاہئے۔ اصل دولت عجز و انکساری ہے۔

(گلستان سعدی)

متعلقہ خبریں