Daily Mashriq

جب شعیب ملک پہلا اوور پھینک رہے تھے

جب شعیب ملک پہلا اوور پھینک رہے تھے

ٹی ٹونٹی وہ فارمیٹ ہے جس میں پاکستان اس قدر تواتر سے جیتتا ہے کہ اس کی جیت کبھی ’خبر‘ محسوس نہیں ہوتی۔ کل جب کہ پاکستان ایک ٹی ٹونٹی میچ ہارا ہے تو یہ ایسی ہی حیران کن خبر محسوس ہو رہی ہے جیسے گجومتہ سے تانبے کے ذخائر نکل آئے ہوں۔

ٹاس پہ شون پولک نے شعیب ملک سے پوچھا کہ وہ کیوں اس ٹریک پہ پہلے بولنگ کرنا چاہتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ اس وکٹ سے بولرز کو کچھ ایسی مدد نہیں ملنے والی لیکن پھر بھی ہم پہلے بولنگ کرنا چاہتے ہیں۔ بس یوں سمجھیے کہ یہ ہماری چال ہے۔

جس وقت وہ یہ بات کہہ رہے تھے ، فاف ڈوپلیسی کے چہرے کے تاثرات دیکھنے لائق تھے ۔ کیونکہ جو ’چال‘ شعیب ملک نے چلی تھی، شاید وہی چال فاف بھی چلنا چاہتے تھے ۔

پاکستان کا دورہ جنوبی افریقہ!

شعیب ملک کی یہ چال کچھ ایسی دقیق بھی نہیں تھی۔ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں بالعموم ٹاس جیت کر بولنگ ہی کی جاتی ہے اور جب میچ ڈے نائٹ ہو تو کسی بقراط سے پوچھنے کی ضرورت نہیں کہ رات میں بولنگ کرنا مشکل کیوں ہوتا ہے۔

لیکن شعیب ملک کی چال اگر صرف ٹاس تک ہی محدود رہتی تو پاکستان کا بھلا ہوتا۔ انھوں نے فوراً ہی ایک اور چال بھی چل دی اور نجانے کیوں خود ہی پہلا اوور بھی پھینکنے آ گئے۔ چلیے محمد حفیظ اگر کھیل رہے ہوتے تو ان سے اٹیک کروانا قابلِ فہم بھی ہوتا۔

لیکن کیا کوئی ضد تھی کہ بائیں ہاتھ کے بلے باز کے سامنے آف سپن سے ہی اٹیک کرنا ہے؟ بلاشبہ شعیب ملک بھلے وقتوں میں اچھے بولر رہے ہیں لیکن اس وقت ان کی بولنگ فارم کیسی ہے، یہ ہم سے بہتر وہ خود جانتے ہیں۔

پچھلے ڈھائی سال میں پاکستان کی ٹی ٹونٹی کامیابیوں کی سب سے بنیادی وجہ اس کی بولنگ ہے جو اس قدر مہارت، تنوع اور باریکی سے بھری ہوئی ہے کہ کسی بھی بیٹنگ لائن کے لیے دردِ سر بن جاتی ہے۔

اور سرفراز کی کپتانی میں خوبی یہ رہی ہے کہ انھوں نے مخالف بلے باز کو ترجیح دینے کی بجائے اپنے اٹیک کی ترتیب خود سے طے کر رکھی ہوتی ہے۔ کوئی سی بھی ٹیم ہو، کیسی بھی وکٹ ہو، اٹیک لیفٹ آرم سپنر ہی کرے گا۔

بھلے وہ نواز ہوں یا عماد وسیم۔ مڈل اوورز میں شاداب خان کب آئیں گے، ڈیتھ اوورز میں کون پھینکے گا، تقریباً ایک سانچہ سا ہے جو وہ ہر میچ پہ لاگو کر دیتے ہیں اور جیت بھی جاتے ہیں۔

لیفٹ آرم سپنر سے اٹیک کا نفع یہ ہوتا ہے کہ پاور پلے میں رنز کی اشتہا کے آگے بند باندھ دیا جاتا ہے۔ اور جب دوسرے اینڈ سے پیسر آتا ہے تو وکٹیں ملنے کے مواقع بڑھ جاتے ہیں۔ کل کے میچ میں بھی لیفٹ آرم سپنر تو موجود تھا مگر اٹیک آف سپن سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

شعیب ملک نے بالکل درست کہا کہ اس وکٹ پہ یہ ہدف کچھ زیادہ نہیں تھا۔ لیکن جب پاکستان کے بولنگ اٹیک کی گذشتہ دو سالہ کارکردگی کو سامنے رکھا جائے تو پاکستان نے اپنے اوسط سے کوئی بیس رنز زیادہ دیے۔ اور اس بولنگ آرڈر کا ردھم ان دو اوورز نے بگاڑا جن میں سے ایک شعیب ملک اور دوسرا حسین طلعت نے پھینکا۔

میچ کے بعد شعیب ملک کا خیال تھا کہ پاکستانی بیٹنگ کو یہ ہدف حاصل کر لینا چاہیے تھا۔ بس قسمت سے وہ ایک دو باؤنڈریز پیچھے رہ گئے۔ ممکن ہے یہ بات درست ہو مگر شاید ایک دو باؤنڈریز پیچھے وہ تب نہیں ہوئے جب وہ بیٹنگ کر رہے تھے ۔

پاکستان تبھی اس میچ میں ایک دو باؤنڈریز پیچھے رہ گیا تھا جب شعیب ملک پہلا اوور پھینک رہے تھے ۔

متعلقہ خبریں