Daily Mashriq

حج اخراجات میں بے تحاشااضافہ

حج اخراجات میں بے تحاشااضافہ

نئی حج پالیسی کے تحت حج اخراجات میں ڈیڑھ لاکھ روپے کا اضافہ اور سبسڈی نہ دینا اگرچہ حکومت کا ایک ایسا فیصلہ ہے جسے سراہنے کی تو گنجائش نہیں لیکن ملک کی معروضی معاشی صورتحال میں اس اقدام پر تنقید کی بھی زیادہ گنجائش نہیں۔ حج مصارف 4لاکھ 36ہزار روپے مقررکئے گئے ہیں۔ سرکاری کوٹہ60 اور نجی ٹورز آپریٹرز کا کوٹہ40 فیصد ہوگا۔ اس سال ایک لاکھ84ہزار210 پاکستانی فریضہ حج ادا کریں گے۔ وفاقی کابینہ نے اراکین کے اختلافات کے باوجود حج پالیسی 2019 کی منظوری دیتے ہوئے وزارت مذہبی امور کی سبسڈی دینے کی تجویز مسترد کر دی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں چند وزرا نے حج پیکج پر حکومتی سبسڈی کی مخالفت کی۔ وزارت کی جانب سے45 ہزار روپے فی حاجی سبسڈی کی تجویز دی گئی تھی۔ تاہم عہدیداران کے مطابق دیگر وزرا نے سبسڈی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ صاحب استطاعت افراد حج کریں، جو نہیں جاسکتے نہ جائیں۔ حکومت کے اس اقدام کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب حج پالیسی کا وزارت مذہبی امور نے اعلان نہیں کیا۔ وفاقی وزیر مذہبی امور کی سبسڈی نہ دینے پر ناراضگی اور حج پالیسی پر پریس کانفرنس سے گریز ان کی جانب سے فطری ردعمل کا اس لئے اظہار تھا کہ ایک عالم دین اور وزارت مذہبی امور کے وزیر ہونے کی حیثیت سے ان کی دلی خواہش ہوگی کہ وہ حج اخراجات بڑھنے نہ دیں اور حاجیوں کو رعایت دی جائے۔ ویسے بھی ایک اسلامی مملکت ہونے کے ناتے عام طور پر یہاں غیرمسلم پڑوسی ریاست بھارت کی مثال دی جاتی ہے کہ حکومت مسلمانوں کو حج کیلئے سبسڈی دیتی ہے جبکہ ہمارے ہاں الٹا معاملہ ہے، یہاں حج پروازوں کا کرایہ معمول کی فلائٹس سے چار پانچ گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ جہاز کی سیٹیں تنگ کر دی جاتی ہیں‘ سواریوں کی تعداد بڑھانے کے بعد بجائے اس کے کہ کرائے میں رعایت دی جائے اُلٹا کرایوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے جس کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کی جا سکتی۔ جہاں تک کابینہ میں حاجیوں کو سبسڈی نہ دینے کا سوال ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اگر اس معاملے پر ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے تو کابینہ میں سبسڈی کی مخالفت معروضی معاشی حالات کے تناظر میں بے جا نہیں۔ وطن عزیز جس طرح قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور معاشی صورتحال خدانخواستہ ملکی بقا کیلئے خطرہ اور من حیث المجموع ملک میں عوام کیلئے سخت مہنگائی، افراط زر اور قحط وبھوک جیسی صورتحال کا خطرہ ہے ایسے میں یہ کیسے دلیل دی جائے کہ حج مصارف میں کمی کی جائے اس دلیل میں شرعی طور پر وزن ہے کہ جو مصارفِ حج اُٹھا نہیں سکتا ان پر حج فرض بھی نہیں لیکن چونکہ یہ روحانی عقیدت اور دینی لحاظ سے جذبات کا معاملہ ہے اس لئے اس دلیل سے عوام کو مطمئن کرنا ممکن نہیں۔ جہاں تک حج مصارف کا سوال ہے سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ اگر نوے ہزار یا لاکھ روپے میں پندرہ پندرہ دن کا عمرہ پیکج ملتا ہے تو پھر حج کیلئے اس پر چار پانچ گنا زیادہ مصارف کیسے آتے ہیں۔ اس مصرف کو دو گنا کر دیا جائے تین گنا کرنے کی گنجائش رکھی جائے چار پانچ گنا اخراجات کیسے اور کیوں کر بڑھ جاتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت اپنی مشکلات کے باعث حاجیوں کو سبسڈی نہیں دے سکتی تو نہ دے لیکن حج کے سفر کو حکومت کاروبار اور نفع کا ذریعہ بھی نہ بنائے بلکہ اس پر حقیقی معنوں میں جتنے اخراجات آتے ہیں حکومت اس سے احتیاطً دس بیس چالیس زیادہ سے زیادہ پچاس ہزار روپے اضافی رقم بطور امانت لے اور بعد ازاں جس طرح پہلے حاجیوں کو رقوم کی واپسی کا طریقہ کار رہا ہے وہ باقی ماندہ رقم واپس کر دے تاکہ اچانک اخراجات کا بوجھ حکومت پر نہ پڑے مگر یہاں یکمشت طور پر حاجیوں سے گزشتہ سال کی بہ نسبت ڈیڑھ لاکھ روپے اضافی وصول کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ ڈالر کے ریٹ میں اضافہ کی شرح کو شامل کرکے گزشتہ سال کی رقم ہی وصول کی جانی چاہئے یا پھر اس سے قدرے زائد۔ حکومت عازمین حج کو ایک بڑی مشکل سے باآسانی بچا سکتی ہے جس پر نہ صرف اضافی اخراجات آتے ہیں بلکہ سفر کی تکلیف بھی اُٹھانا پڑتی ہے۔ حکومت اگر سعودی عرب سے حاجیوں کو بائیو میٹرک تصدیق کے لاحاصل اور بلاوجہ کی زحمت سے نجات دلانے کیلئے اعلیٰ سطح پر رابطہ کرے اور یہ شرط ساقط کروا سکے تو اس کا بھی خیرمقدم کیا جائے گا۔ اس ضمن میں وفاقی وزیرمذہبی امور خاص طور پر جدوجہد کریں تو ممکن ہے کوئی صورت نکل آئے اور عازمین حج کی مشکلات کا مداوا ہو۔ حکومت کو حج اخراجات حقیقت پسندانہ بنانے کیلئے ایک مرتبہ پھر غور وخوض کرنے کی ضرورت ہے۔ بھاری اخراجات کی سکت نہ ہونے اور کاروبار وروزگار کے متاثر ہونے کی بنا پر اس سال حج درخواستوں کی تعداد میں کمی تو متوقع ہے۔ نجی کمپنیوں کے توسط سے حج کا کوٹہ گزشتہ سال ہی ادھورا رہ گیا تھا۔ امسال اس کے پوری طرح نامکمل رہنے کا قوی امکان ہے۔ اس امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی کوئی حکمت عملی وضع ہونی چاہئے خواہ وہ کوٹے میں کمی کی صورت میں ہو یا عین وقت پر فیصلے کی صورت میں۔

متعلقہ خبریں