Daily Mashriq

گورنر کا اعتراف ‘سوال اصلاح احوال کا ہے

گورنر کا اعتراف ‘سوال اصلاح احوال کا ہے

ورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان کی جانب سے سرکاری سکولوں کے معیار کے خراب ہونے‘ این ٹی ایس سمیت ایٹا کا معیار نہ ہونے بارے خیالات برحق اور حقیقت حال کا درست ادراک ہے۔ حکمران اس قسم کی حق گوئی کا مظاہرہ کبھی کبھار ہی کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حقیقت حال کا درست ادراک اور اعتراف کسی بھی سنگین مسئلے کے حل کی طرف پہلا قدم ہے۔ ہمارا نظام اس قدر پیچیدہ اور لا قانونیت کا ہے جو قانون شکنوں اور قانون کا مذاق اڑانے والوں کیلئے تو کمزور اور ناقص ہے لیکن احترام قانون اور تحفظ قانون پسندان میں لاکھ کمزوریاں ہیں جب تک اس قسم کی صورتحال رہے گی اس وقت تک بہتری کی ہر کوشش مثبت نہ ہوگی۔ محکمہ تعلیم ہی کا جائزہ لیا جائے تو بائیو میٹرک کے ذریعے حاضری لگانے کا نظام ہی بند کر دیا جاتا ہے۔ کیوں صرف اس لئے کہ اس طریقے کا توڑ مشکل ہے اور حکام بالا صورتحال بروقت اور باریکارڈ ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ مانیٹرنگ کا نظام لایا گیا تو اس کا توڑ باہمی مشاورتی طریقہ کار کے تحت جعلی درخواستیں موقع پر پیش کرکے نکالا گیا۔ اس طرح سے سرکاری سکولوں میں بہتری کی مساعی رائیگاں گئیں۔ گورنر نے ایٹا اور این ٹی ایس بارے جو حقیقت بیانی کی ہے وہ زبان زدخاص وعام ہے۔ گورنر نے ان طلبہ کی ترجمانی کی ہے جو اس نظام کے ڈسے ہوئے ہیں جبکہ پبلک سروس کمیشن کا نظام امتحانات بھی فرسودہ ہے جس کی خامیوں اور ناانصافیوں کی مفصل نشاندہی اسی ہفتے اسی صفحے پر شائع شدہ ایک کالم میں ہوچکی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ گورنر کو بھی اتفاق ہے کہ جو بھی نظام لایا جاتا ہے وہ ملی بھگت‘ اقرباء پروری اور بدعنوانی کے باعث ناکام ہوتا ہے۔ ہمارے تئیں اس کا واحد حل قسم قسم کے تجربات نہیں بلکہ سیدھے سبھاؤ معیار تعلیم کی بہتری اور نظام امتحانات کی بہتری یقینی بنانا ہے۔ قسم قسم کے ٹیسٹ لینے اور وقت کے ضیاع کی بجائے اگر میٹرک کے امتحانات کے نتائج کو ملکی مشینری چلانے کیلئے شعبہ جاتی تقسیم کرکے میٹرک میں حاصل کردہ نمبروں اور گریڈز کے مطابق طلبہ کو مختلف شعبوں کی تعلیم دے کر ان کو اس خاص شعبے کیلئے تیار کیا جائے تو نہ تو این ٹی ایس نہ پبلک سروس کمیشن نہ آئی ایس ایس بی نہ سی ایس ایس اور نہ ہی ایٹا کی ضرورت باقی رہے گی۔ رہا سوال میٹرک امتحان کی شفافیت کا اسے سو فیصد شفاف بنانا ہوگا تاکہ میرٹ متاثر نہ ہو۔

انصاف اور صرف انصاف

ساہیوال واقعے میں گرفتار سی ٹی ڈی اہلکاروں کی دوران تفتیش گاڑی پر فائرنگ کے معاملے پر ’’یوٹرن‘‘ اور فائرنگ کرنیوالوں کو ذیشان کا ساتھی قرار دینا آنکھوں میں دھول جھونکنا نہیں بلکہ قانون اور قوم کیساتھ بھونڈا مذاق کرنے کے مترادف ہے۔ ستم یہ کہ ان کی کہانی سننے والوں اور ان کیلئے راستہ تلاش کرنے والوں ہی کی کامیابی کا خدشہ ہے۔ مشاہدہ بھی اس بات کا رہا ہے کہ وطن عزیز میں بالادست قوتوں کا ہر ظلم حساب طلب ہی رہا ہے کسی ایک کا بھی حساب لیا جاتا تو آج اس قسم کا بھونڈا مذاق کرنا تو کجا اس واقعے کی بھی نوبت نہ آتی۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے سی ٹی ڈی اہلکاروں کا پہلے فائرنگ سے انکار اور موٹرسائیکل سوار ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے جانے کی گھڑی کہانی جے آئی ٹی سے مذاق سے کم نہیں جبکہ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا کے سوال پر بھی ملزمان نے فائرنگ میں پہل سے انکار کیا اور کہا کہ ہمیں کسی نے حکم نہیں دیا، صرف جوابی فائرنگ کی تھی۔صرف یہی نہیں بلکہ پہلے تو مقتول خاندان کو دہشتگرد قرار دینے کی کوشش ہو چکی مگر بھلا ہو اس جدید ٹیکنالوجی کا جس نے کیمرے کی آنکھ سے شواہد محفوظ کرکے دنیا کو دکھا دیا مگر اس کے باوجود قانون کے مطابق گواہی دینے اور مقدمہ قانون کے مطابق چلانے اور اسے انجام تک پہنچانے کا تعین نہیں۔ اس ضمن میں حکومت اور ریاست اگر ماں کا کردار ادا نہیں کرے گی اور بلاامتیاز انصاف نہ ہوگا تو حکومت اور اس نظام کیخلاف لوگوں میں نفرت اور بغاوت کے جذبات کا تلاطم خیز ہونا عجب نہ ہوگا۔ اس صورتحال سے بچنے کا واحد طریقہ انصاف اور صرف انصاف ہے۔

ایف آئی اے ٹیموں کی مشکل ذمہ داری

گرمیوں کی تعطیلات کی وصول شدہ فیسیں نجی سکول مالکان سے والدین کو واپس دلوانے اور نجی سکولوں کے اساتذہ کی تنخواہیں اور سہولیات کے جائزے کیلئے ایف آئی اے کی ٹیموں کی تشکیل خوش آئند اور والدین کیلئے امید کی کرن کا باعث ہے ساتھ ہی اس سے نجی سکولوں کے بدحال اساتذہ کی جانب سے امید کی کرن ڈھونڈنا فطری امر ہوگا لیکن نجی سکولوں کے بااثر مالکان جس قسم کے مافیا کا کردار ادا کر رہے ہیں اس کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ ایف آئی اے کی ٹیموں کو کامیابی ملے گی یا پھر وہ اپنا کام آزادانہ ماحول میں کر سکیں گی۔ اس ضمن میں عدالت عظمیٰ سے ہی توقعات وابستہ ہیں کہ وہ اس عمل کی کامیابی عدالتی نگرانی کے ذریعے یقینی بنا کر والدین کو انصاف اور نجی سکولوں کے اساتذہ کو ان کا حق دلائے۔

متعلقہ خبریں