Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

صبح گھر سے نکلتے وقت مشرقیات کا موضوع ذہن میں تھا کہ حج کے اخراجات میں اس قدر اضافہ کے بعد پیسہ پیسہ جوڑ کر حج کا قصد کرنے والوں کے ارادوں کو کیا ہوگا۔ پرائیویٹ حج آپریٹرز تو رل گئے گزشتہ سال بھی ان کا کوٹہ اضافی ثابت ہوا تھا اس سال تو اس سے بھی بری حالت ہوگی۔ سوچتے سوچتے سواری کے انتظار میں پارک کی بنچ پر آیا تو بزرگ سفید ریش بھی اسی چھپر کے نیچے تشریف فرما تھے۔ علیک سلیک کے بعد پہلا موضوع ہی یہی چھڑ گیا کہ ایک بزرگ کا امسال حج کا قصد ہے خیر ان کے پاس اسباب سفر دستیاب ہیں اور وہ ہر قیمت پر حج کی ادائیگی کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں۔ باقی اوپر والے کی منظوری اور منشاء درکار ہے۔ اسی اثناء میں دوسرے بزرگ نے ترغیب کے طور پر ایک واقعہ بیان کیا کہ ایک ضعیف العمر خاتون نے نوجوان بیٹے سے حج کی فرمائش کر رکھی تھی بیٹے نے شادی کرکے گھر بسانے کی بجائے ماں کی خدمت اور زاد راہ سفر حج کے لئے خود کو وقف کئے رکھا۔ عین وقت پر ان کے ساتھ کچھ اسی قسم کا واقعہ پیش آیا کہ ان کے اندازے سے رقم کوئی لاکھ روپے مزید کی ضرورت پڑی اسی اثناء میں قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ پڑوسی جو انہی کے ساتھ ایک دفتر میں بھی ملازم تھے ان کا بچہ چھت سے گر گیا ان کے آپریشن و علاج کے لئے ایک لاکھ روپے کی فوری ضرورت پیش آئی ان کے فوری علاج و آپریشن پر ہی ان کی جان بچ سکتی تھی اور رقم کسی کے پاس نہ تھی اور نہ ہی اس کا جلدی میں انتظام ان کیلئے ممکن تھا۔ نوجوان نے لمحہ بھر سوچا کہ میری والدہ کے حج کیلئے تو قم ویسے بھی کم ہے ایک لاکھ روپے اگر ان کو دے دوں تو آئندہ کی امید بھی ختم سمجھو تھوڑی سی کشمکش کے بعد نوجوان نے فیصلہ کیا کہ وہ لاکھ روپے دے کر بچے کی زندگی بچانے کو ترجیح دیں گے سو انہوں نے لاکھ روپے پڑوسی کو دے دئیے۔ علاج ہوا اور بچے کی جان بچ گئی اسی اثناء میں ان کے دفتر میں حج کی قرعہ اندازی ہوئی او ر دفتر کی طرف سے جن خوش نصیب دو افراد کے نام نکلے وہ یہ دو پڑوسی تھے جس کے بچے کے علاج کے لئے نوجوان نے رقم دی تھی وہ با اختیار افسرکے سامنے پوری صورتحال بیان کرکے عرضی رکھ دے کہ وہ ان کے ہمسایہ کی والدہ ماجدہ کو ان کی جگہ حج پر بھیجنے کی منظوری دے سو ایسا ہی ہوا اور یوں نوجوان کی نہ صرف والدہ نے حج ادا کیا بلکہ وہ خود بھی ان کی خدمت کے لئے مامور رہا دورا ن حج ایک متمول شخص نے نوجوان کے جذبہ خدمت سے متاثر ہو کر واپسی پر ان سے اپنی بیٹی کا نکاح کردیا اور گھر کیساتھ کاروبار کے لئے بھی رقم دی۔ اب وہ نوجوان ہر سال ایک شخص کو اپنے خرچ پر حج کرواتا ہے۔

معلوم نہیں یہ کہانی تھی یا حقیقت لیکن بعید نہیں کہ ایسا ہی ہوا ہوگا جو لوگ حجاز مقدس کے سفر کا قصد کرتے ہیں ان کا عزم ہی ان کی نیت اور خلوص کا آئینہ دار ہوتا ہے۔سرکار نے کتنی رقم بڑھا دی اس سے کچھ لوگوں کو مشکلات کا سامنا ضرور ہوگا لیکن جس کا بلاوا اوپر سے ہوگا وہ ضرور اور خوا مخواہ حج کرکے ہی لوٹے گا۔

متعلقہ خبریں