Daily Mashriq

قانون تک رسائی‘ فوائد ونقصانات

قانون تک رسائی‘ فوائد ونقصانات

انسانی معاشروں کی تہذیب وتحسین‘ نظم وترتیب اور خاص کر عدل وانصاف کو عام کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کرامؑ کے ذریعے مختلف زمانوں اور مکانوں میں اپنی کتابوں اور صحائف کے ذریعے قوانین نازل فرمائے۔ انبیاء کرامؑ نے ان قوانین پر خود پہلے عمل کرکے عملی نمونہ (اسوۂ حسنہ) کی صورت میں دوسرے لوگوں کیلئے پیش فرمایا۔ اس سلسلے کی ہر لحاظ سے تکمیل جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور قرآن کریم کی بعثت ونزول کی صورت میں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر جو کچھ نازل ہوا وہ آپؐ نے بنی نوع انسان کو ایسی صورت میں پیش فرمایا کہ اپنے اسوۂ کاملہ ومبارکہ کے ذریعے بنی نوع انسان کیلئے قیامت تک شرح وبسط کیساتھ کوئی چیز اخفا میں نہیں رہی اور نہ ہونی چاہئے تھی۔ یہی وجہ تھی کہ آپؐ اور خلفائے راشدین کے ادوار مبارک میں ایک عام آدمی خلیفہ وقت سے کسی بھی چیز کے بارے میں سوال کر سکتا تھا اور خلیفہ وقت کو تفصیل کیساتھ جواب دینا ضروری ہوتا تھا لیکن جب خلافت ملوکیت میں تبدیل ہوگئی توشاہی دربار‘ بیت المال‘ شہزادوں اور شاہزادیوں کے علاوہ بڑے بڑے درباریوں اور مقربین بادشاہ کے معاملات بتدریج عوام کی نگاہوں اور معاملات سے اوجھل ہونے لگے اور پھر عوام اور حکمرانوں میں فاصلے بڑھنے لگے۔ بادشاہوں‘ ان کے درباروں اور خاندان کے افراد کے بارے میں عوام میں چہ میگوئیاں سینہ بہ سینہ اور زبان در زبان‘ سچ اور جھوٹ کی آمیزش اور مبالغوں کیساتھ پروپیگنڈوں کی شکل میں تبدیل ہونے لگیں۔ بنی اُمیہ میں عمر بن عبدالعزیزؒ کے علاوہ جتنے بھی حکمران آئے ان کے معمولات و معاملات سے عوام بے خبر رہے۔ کسی کو یہ حق نہ رہا کہ ان کے بارے میں یا اپنے کسی حق کے ضائع ہونے کے بارے میں کسی سے سبب معلوم کرے۔ یہی حال بنو عباسیہ کا رہا۔ اگرچہ ان ادوار میں عدلیہ کے قضاۃ کے ذریعے کسی نہ کسی حد تک عوام کے آپس کے معاملات کے حوالے دادرسی بھی ہوتی رہی لیکن عوام اور دربار کے معاملات کے حوالے سے کسی کو بہت حوصلہ ہوتا کہ وہ کوئی معلومات حاصل کرنے کیلئے کسی سے سوال کرتا اور اس کا نتیجہ آخرکار وہی نکلا جو فطرت کا تقاضا ہوتا ہے کہ دنیا میں مسلمانوں کی جہاں بھی حکومت تھی زوال کا شکار ہوئی اور استعمار نے اقتدار سنبھال لیا۔ استعماری قوتوں نے بھی مسلمان علاقوں پر حکومت کے دوران اسی چیز کو اور بھی مضبوط کیا کہ آخر مسلمان غلام بن گئے اور ان کے محکوم ٹھہرے لہٰذا ان سے تو کوئی گلہ نہیں لیکن جب ڈیڑھ صدی کی طویل غلامی کے بعد مسلمان ملکوں کو استعمار سے بظاہر تو آزادی مل گئی لیکن نظام حکومت ومعاملات کم وبیش وہی رہا اور آج تک یہ سلسلہ چہروں کی تبدیلی کے علاوہ ایک ہی طرح جاری ہے۔ موجودہ صوبائی حکومت اپنے گزشتہ دور اقتدار میں اسمبلی کے ذریعے چند ایک قوانین ایسے بنائے جن پر اس کو فخر بھی ہے اور تحریک انصاف کے سربراہ اپنی تقریروں میں اس کا تسلسل کیساتھ برملا مکرر ذکر بھی کرتے رہتے ہیں۔ ان قوانین میں سے ایک تو پولیس کی اصلاح ہے یعنی ان کو غیرسیاسی بنانا اور میرٹ پر بھرتی کرنا۔ اگرچہ اس کا تھوڑا بہت اثر ہے لیکن یہ پورا سچ نہیں ہے۔ ساٹھ برسوں کے عادی محکمے پانچ برسوں میں اپنی کایا کہاں پلٹتے ہیں۔ دوسرا محکمہ جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ خیبر پختونخوا میں بنایا گیا وہ ’’قانون تک رسائی‘‘ (The right of access to information) ہے۔ اس قانون اور شعبے کا مقصد یہ تھا کہ ایک تو کرپشن کا خاتمہ ہو اور دوسرا عوام کو اپنی حق تلفی یا زیادتی کی تلافی کیلئے ساری معلومات بہ آسانی دستیاب ہوں۔ اس قانون کی افادیت سے انکار ممکن نہیں لیکن اس کی ابتداء سے لیکر آج جو کارکردگی ہے وہ شاید اس پر دفتر اور ملازمین کی صورت میں اخراجات کے مقابلے میں کوئی زیادہ قابل ستائش نہیں کیونکہ اس کی تعمیر میں کئی خرابیاں بھی مضمر ہیں۔ ایک آدمی کی کسی بھی دفتر میں ذاتی کام کے حوالے سے کوئی حق تلفی ہوئی ہے یا اسے شک ہے کہ فیصلے میرٹ کے مطابق نہیں ہوئے تو اس کو بعض ضروری معاملات فراہم کرنا تو مستحسن ہے لیکن بعض اوقات ایک انفارمیشن فراہم کرتے وقت جو دفتری ڈاکومنٹ ہوتا ہے اس میں اور لوگوں کے بارے میں بھی معلومات ہوتی ہیں جن کے افشاء ہونے سے دیگر مسائل پیدا ہونے کے خدشات ہوتے ہیں۔ ایک موقع پر میں نے کمشنر صاحب سے پوچھا تھا کہ اگر کوئی راہگیر آپ کے دفتر کے سامنے سے گزر رہا ہو اور اس کے دل میں سوال اُٹھے کہ آخر رائٹ ٹو انفارمیشن آفس میں جو لوگ کام کرتے ہیں ان کی تعیناتی کس قانون اور کس پراسس کے تحت ہوئی ہے۔ پوسٹیں کس طرح مشتہر ہوئی تھیں‘ امیدواروں کی سکروٹنی اور انٹرویوز وغیرہ کے مراحل سے لیکر میرٹ پر تعیناتی تک کے سارے کاغذات وغیرہ دکھائے جاسکیں گے۔ اور اگر کوئی درخواست گزار اسی معلومات فراہم کرنے والے شعبے کے دفتر میں درخواست دے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ تعیناتیاں کس اصول وقانون کے تحت ہوتی ہیں۔ کیا ریٹائرڈ لوگوں کو دوبارہ معقول مشاہروں‘ گاڑیوں اور دیگر مراعات کیساتھ نوکریاں دلانے سے پاکستان کے نوجوان تعلیم یافتہ افراد کی کہیں حق تلفی تو نہیں ہوتی اور یوں معاشرے میں دل جلنے سڑنے کی بیماریاں تو جنم نہیں لیتیں اور اسی محکمے کا حوالہ دیتے ہوئے ایک دفعہ ایک راہگیر نے ایک اہم محکمے کے سربراہ سے ان کو اپنا بجٹ دکھانے کو کہا تھا تو وہ برا مان گئے تھے اور اسی لئے تو ہمارے بیوروکریٹ بھی اس کو برا مانتے ہیں۔

متعلقہ خبریں