Daily Mashriq

روبہ زوال شعبہ زراعت

روبہ زوال شعبہ زراعت

صنعت، زراعت اور سروسز کسی ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ گزشتہ سال گنے کے سیزن میں کسان مل مالکان کا گنا نہ لینے کی صورت میں یہ فصلیں جلاتے تھے۔ پنجاب کے مختلف علاقوں میں کسانوں نے آلو کے فصل کو مناسب قیمت پر نہ لینے پر اسے سڑکوں کے کنارے پھینک کر احتجاج کیا۔ اسی طرح گندم کے موسم میں حکومت کسانوں اور ہاریوں سے گندم نہیں خریدتی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان زرعی ملک کہلاتا ہے مگر ہماری حکومت کسان، ہاری اور زمیندار کیساتھ کیا سلوک کرتی ہے۔ ابھی خیبر پختونخوا میں گڑ کا سیزن ہے مگر گڑ کی قیمت نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک تو زراعت بہت مہنگی ہو چکی ہے اور دوسری بات یہ کہ جو فصل پیدا ہوتی ہے کسان اس کو احتجاجاً جلاتے اور ضائع کرتے ہیں۔ پاکستان کی آبادی تقریباً 21کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ پاکستان کے تقریباً 60فیصد لوگ زراعت سے وابستہ ہیں۔ زراعت کے شعبہ سے وابستہ چار کروڑ لوگوں کو روزگار میسر ہے مگر بڑے دکھ کی بات ہے کہ وطن عزیز میں زراعت کیساتھ سوتیلی ماں والا سلوک کیا جاتا ہے۔ پاکستان چکپیا کی پیداوار میں دنیا میں تیسرے نمبر پر، خوبانی کی پیداوار میں چھٹے، کاٹن یعنی روئی کی پیداوار میں چوتھے، دودھ کی پیداوار میں چوتھے، کھجور کی پیداوار میں پانچویں، پیاز کی پیدوار میں ساتویں، کینو کی پیداوار میں چوتھے اور گندم کی پیدوار میں ساتویں جبکہ چاول کی پیداوار میں 11ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان میں اعلیٰ معیار کا ٹوبیکو اور ورجینیا بھی صوابی اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان کا گنا بھی دنیا میں اعلیٰ قسم کا ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان کا کل رقبہ8لاکھ مربع کلومیٹر ہے۔ جس میں صرف 2یا ڈھائی لاکھ مربع کلومیٹر پر شہر اور زرعی زمینیں ہیں جبکہ 5لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبہ بنجر ہے یا اس میں پہاڑ ہیں۔ بھارت اپنے کل آمدنی کا 2.5فیصد جبکہ پاکستان زراعت پر اپنی کل آمدنی کا 0.4فیصد خرچ کر رہا ہے جو بھارت سے 7گنا کم ہے۔ بھارت اپنے کسانوں کو 40ارب ڈالر کی سبسڈی دے رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھارت کی زرعی اجناس کی قیمتیں پاکستان کی نسبت 15سے لیکر 20فیصد تک کم ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان بھارت کی کم لاگت پر حاصل کی گئی زرعی مصنوعات کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ بھارت میںکسانوں کیلئے ٹیوب ویلوں کو مفت بجلی دی جاتی ہے۔ بھارت میں ڈی اے پی کھادکی قیمت 1100 روپے ہے جبکہ پاکستان میں ڈے اے پی کھاد کی قیمت 3500روپے ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں زراعت کیلئے بجلی، کھاد، بیج بہت مہنگی ہیں اور اس پر بہت زیادہ انڈائریکٹ ٹیکس عائد ہے جس کی وجہ سے کسان اور زمیندار پر مزید بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ زراعت کی طرف توجہ نہ دینے کی صورت میں زرعی زمینیں ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں تبدیل ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے پراپرٹی کی قیمتوں میں انتہائی اضافہ ہوا ہے۔ کسانوں کو زراعت میں کوئی مستقبل نظر نہیں آ رہا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی زمینوں کو پراپرٹی کے بزنس میں تبدیل کر رہے ہیں اور یہی حال آج کل ملک میں صنعتکاروں کا بھی ہے۔ وہ بھی صنعتوں کے فروع کے بجائے پراپرٹی بزنس میں لگے ہوئے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کے 60فیصد پارلیمینٹیرین کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے مگر بدقسمتی سے یہی قانون ساز دیہاتی علاقوں اور زراعت سے وابستہ لوگوں کی حقوق کا تحفظ نہیںکر رہے ہیں اور وہ شہری علاقوں کے لوگوں کے حقوق کا تحفظ کر رہے ہیں۔ اگر ہم تجزیہ کریں تو پاکستان کی مینوفیکچرنگ اور زرعی صنعتیں حکومت کی منفی پالیسیوں کی وجہ سے زوال اور ابتری کا شکار ہیں۔ پاکستان باہر اور بالخصوص بھارت سے زرعی اجناس منگوا رہا ہے۔

جب تک حکومت کسانوں کو سبسڈی نہیں دے گی اس وقت تک زرعی مصنوعات کی قیمتیں کبھی بھی کم نہیں ہوںگی اور ہم اپنے پڑوسیوں اور بالخصوص بھارت سے کبھی بھی عالمی مارکیٹ میں مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ آج سے کچھ عرصہ پہلے پاکستان کی کپاس، چاول، کینو، آم، تمباکو اور دوسری زرعی اجناس باہر بھیج کر قیمتی زرمبادلہ کمایا جاتا تھا مگر بدقسمتی سے خراب اور ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ سے اب ان اشیاء کی ڈیمانڈ میں انتہائی کمی ہوئی ہے اور اس طرح پاکستان قیمتی زرمبادلہ سے محروم ہو رہا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران کسانوں کو سبسڈائز ریٹس پر کھاد اور دوسری ضروری اشیاء دیں اور بجلی، پٹرول اور ٹریکٹر کی قیمتوں میں کمی کرے تاکہ زراعت سے وابستہ لوگ اس پیشے اور صنعت سے نہ بھاگنے پائیں اور اپنی زمینوں کو پلازوں میں تبدیل کرنے سے باز رہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سبسڈائز چیزوں کی وجہ سے بھارت میں فی ایکڑ پیداوار پاکستان سے کافی زیادہ ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ زرعی مد میں کسانوں کو زیادہ سے زیادہ مراعات دے اور ان کو مجبور نہ کریں کہ وہ اس اہم پیشے کو چھوڑیں۔

متعلقہ خبریں