Daily Mashriq

چراغ بجھ رہے ہیں ایک ایک کر کے

چراغ بجھ رہے ہیں ایک ایک کر کے

سیف اللہ سیف رخصت ہوئے جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے سیف دھرتی ماں کی آغوش میں گہری نیند سو چکا ہوگا۔ آپ سیف اللہ سیف کو یقینا نہیں جانتے ہوں گے۔ اس ناشناسائی کے ذمہ دار آپ ہرگز نہیں۔ جس ملک میں جمہوریت کے نام پر طبقاتی نظام کا سودا بیچا جا رہا ہو، وہاں ایک اُجلے سفید پوش پُرعزم سیاسی کارکن کی زندگی یہی ہے۔ پیدا ہوا‘ جدوجہد کی اور ایک دن خاموشی سے منوں مٹی کی چادر اوڑھ کر سوگیا۔ سب سے زیادہ شکوہ مجھے پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سے ہے، دوسری جماعتیں بھی ذمہ دار ہیں۔ سب نے ملکر یا اپنی اپنی جماعت کی سطح پر ایسا کوئی ادارہ قائم نہیں کیا جو اس ملک میں جمہوریت کیلئے جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکنوں کی تاریخ مرتب کرتا۔ اُجلے سیاسی کارکن مشترکہ سرمایہ ہوتے ہیں۔ دنیا کے مہذب ممالک میں ایسے ادارے قائم ہیں جن میں خدمات سرانجام دینے والے سکالرز سماج سدھاروں کی سوانح عمریاں لکھتے ہیں۔ ہمارے یہاں تو بس لیڈر ہوتے ہیں نسل درنسل قیادتوں کا طوق کارکنوں کے گلوں میں ڈالنے والے‘ مارشل لاؤں‘ جرنیلی جمہوریتوں اور طبقاتی نظام کی مجاور جماعتوں نے ٹھیکیداروں کے سوا ہمیں کیا دیا۔ سیف رخصت ہوئے‘ پُرعزم سیاسی کارکنوں کی نسل کے باقی ماندہ چراغ ایک ایک کرکے بجھتے چلے جا رہے ہیں۔ پچھلی شب ایک دوست نے سوال کیا شاہ جی! سیف اللہ سیف جیسے کارکنوں کا ان کے مرنے کے بعد ہی کیوں پتہ چلتا ہے۔ آنسو پونچھتے ہوئے عرض کیا مردہ پرستوں کے سماج میں زندوں کی اوقات کیا ہے۔

سیف اللہ سیف عملی سیاست کے میدان میں 1960ء کی دہائی میں نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے اُترے، لاہور کے مضافاتی ضلع قصور کے معروف قصبے کھیڈیاں سے ان کا تعلق تھا۔ شعلہ بیان مقرر اور راست فکر طالب علم رہنما کی شہرت لاہور اور اس کے مضافاتی اضلاع میں چند مہینوں کے دوران پھیل گئی۔ وہ اس نسل کا فخر تھا جس نے ایوبی آمریت‘ یحییٰ کی فرعونیت اور جنرل ضیاء الحق کے عہد ستم میں مستانہ وار جمہوریت زندہ باد آمریت مردہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے وحشیانہ تشدد ثابت قدمی سے برداشت کیا۔ بھٹو صاحب کے دور میں جب توقع کے برعکس سارے پیرزادے‘ مخدوم‘ سردار‘ وڈیرے‘ چودھری ہزاروں ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی میں بھرتی ہونے میں جت گئے تو سیف نے این ایس ایف کے ساتھیوں کیساتھ ملکر لاہور کے لیگل چوک پر ایک مظاہرہ کیا۔ پولیس نے ان ترقی پسندوں کے پلے کارڈ چھین لئے‘ لاٹھیاں برسائیں۔ سیف سمیت کچھ طلباء گرفتار ہوئے۔ لڑتے بھڑتے جولائی 1977ء آگیا۔ جنرل ضیاء الحق نے شب خون مارا منتخب حکومت کا تختہ اُلٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ سیف اللہ سیف اپنے ساتھیوں سمیت پھر میدان عمل میں اُترا۔ اس کے نعروں اور تقریروں نے فوجی حکومت کو پریشان کر دیا۔ اگلے مرحلہ پر اے آر ڈی قائم ہوئی سیف ضیائی اپوزیشن کے اس اتحاد کے صوبائی رہنما کے طور پر معروف ہوا‘ سادہ اطوار‘ مہذب‘ شعور کی دولت سے مالامال سیاسی کارکن نے اپنی بساط سے بڑھ کر قربانیاں دیں۔ لاہور‘ جھنگ‘ بہاولپور کی جیلوں میں قید وبند کی صعوبتیں جھیلیں۔ سیف جمہوریت پسندوں کے اس قافلے کا رکن تھا جس نے لاہور کے شاہی قلعہ اور بدنام زمانہ سی آئی اے سٹاف چونا منڈی میں تشدد برداشت کیا۔

سیف اللہ سیف نے ایک دن اے آر ڈی کی جماعت مسلم لیگ (ملک قاسم گروپ) میں شمولیت اختیار کرلی پھر آخری سانس تک اس جماعت میں رہا۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے دونوں ادوار میں اس کے پاس درجنوں مواقع تھے جب وہ دوسروں کی طرح سیاست کو کاروبار کا ذریعہ بنا سکتا تھا مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ قناعت پسند‘ دوست نواز‘ عوامی جمہوریت پر یقین کامل رکھنے والے سیف اللہ سیف نے نصف صدی سے کچھ اوپر میدان سیاست میں جمہوریت کا پرچم بلند رکھا۔ پچھلے چند برسوں سے وہ مسلم لیگ کے ملک قاسم گروپ کا سربراہ تھا گروپ کیا تھا بس سیف اللہ سیف کی ذات تھی اس کی جدوجہد اور جمہوریت سے وفاداری۔ کاش اس ملک کے عام طبقات کے سیاسی کارکنوں کی پُرعزم داستانوں کو محفوظ کرنے کا کوئی ادارہ ہوتا۔ عذاب کی طرح مسلط ہوئی جعلی مڈل کلاس جو منہ بھر کے سیاسی عمل کو گالیاں دیتی ہے یہ جان پاتی کہ سیاسی کارکن بنتے کیسے ہیں اور ہوتے کیسے۔ سیف اللہ سیف اب نہیں رہے، ان کی نسل معدوم ہوتی جا رہی ہے‘ بچی کھچی نشانیاں باقی ہیں‘ چراغ سلسلہ وار بجھ رہے ہیں۔ اپنے گریبانوں کو پرچم بنائے سڑکوں‘ تھانوں اور جیلوں میں تشدد برداشت کرنے والی نسل نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ میری ان سے پہلی ملاقات سال 1983ء میں بہاولپور جیل میں ہوئی تھی۔ پچھلی دو دہائیوں کے دوران‘ ارشاد امین، میں اور سیف اللہ سیف انگنت بار ملے اورگھنٹوں سیاست کے کاروبار بن جانے پر کڑھتے رہے۔ چند دن قبل پاکستانی صحافت کے روشن کردار راجہ اورنگزیب رخصت ہوئے، اب سیف اللہ سیف کے سانحہ ارتحال کی خبر ہے۔ رانا یٰسین بھی شہر خموشاں میں جامقیم ہوئے، چراغ ایک ایک کرکے بجھ رہے ہیں۔حق تعالیٰ مغفرت فرمائے ان آزاد مردوں کی لاریب رخصت ہونے والے اس سماج کے زمین زادوں کے ماتھے کا جھومر تھے۔

متعلقہ خبریں