Daily Mashriq

وزیرستا ن میں’سکول کے باہر طالبان پھرتے تھے,طالبات

وزیرستان کی تحصیل سراروغہ کی ایک سڑک پر سکارف اوڑھے کم سن لڑکیوں سے میں نے پوچھا کہ وہ کہاں جارہی ہیں تو جواب ملا مدرسے، میں نے کہا اور سکول کہاں ہے تو ننھی بچیوں نے حیرت سے میری جانب دیکھا اور کہا سکول تو نہیں ہے۔

ایسا نہیں کہ وہاں سکول بالکل نہیں ہیں جنڈولہ سے سراروغہ پھر رزمک اور میران شاہ سے ہوتے ہوئے میر علی تک کے تمام سفر میں مجھے چھوٹے بڑے سکولز کی پختہ عمارتیں دکھائی دیں اور بہت زبردست کیڈٹ کالجز بھی نظر آئے۔ اگر میں یہ کہوں کہ بہت سے سکولز کی عمارتیں بڑے شہروں کے سکولز سے بھی اچھی ہیں تو یہ غلط نہیں ہوگا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ یہ سکولز کتنے ہیں اور کن کن علاقوں کے طلبا و طالبات کی ان تک رسائی ہے۔

جنوب میں تعلیمی اداروں کی تعداد 689 بتائی گئی جن میں لڑکیوں کے دو ڈگری کالجز اور فقط نو ہائی سکولز سمیت کل 263 تعلیمی ادارے ہیں۔ ان میں چھ انڈسٹریل ہومز شامل ہیں۔

فوج نے 80 تعلیمی اداروں کی تعمیر کی ہے۔

شمال میں ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہاں تعلیمی اداروں کی کل تعداد 910 ہے جن میں سے 854 میں معمول کی تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں۔

جبکہ فوجی حکام کے مطابق ان کی جانب سے تعمیر کیے جانے والے 780 تعلیمی اداروں میں سے 80 فیصد فعال ہیں۔

شمال اور جنوب میں مردوں میں تعلیم کا تناسب 30 فیصد سے کم ہے جبکہ خواتین میں پانچ فیصد بھی نہیں۔

فوج کی جانب سے تعمیر کیے جانے والے گولڈن ایرو آرمی پبلک سکول گئے تو دتہ خیل کے عبد السلام سے ملاقات ہوئی۔ وہ یہیں ہوسٹل میں رہتے ہیں اور ساتویں جماعت میں پڑھتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ یہاں تعیلم ڈی آئی خان سے بھی اچھی ہے جہاں انھیں آئی ڈی پی بن کر رہنا پڑا تھا۔ لیکن انھوں نے دتہ خیل میں موجود اپنی بہنوں کے لیے فکر کا اظہار کیا جو لڑکیوں کا سکول نہ ہونے کی وجہ سے گھر ہی رہتی ہیں۔عبدالسام نے بتایا کہ یہاں پر دوسرا سال شروع ہوا ہے۔ پہلے تو یہاں پہ طالبان تھے جو اس سکول کے گیٹ پر ادھر ادھر گھومتے تھے ۔ ابھی تو حالات آرمی کی وجہ سے بہت ٹھیک ہیں۔

’دتہ خیل میں ہم پڑھتے تھے ۔ وہاں پر بہت ڈرون ہوتے تھے ۔ اس وجہ سے ہم سکول نہیں پڑھ سکتے تھے ۔ جب سکول جاتے تھے تو طالبان ادھر آ جاتے تھے ۔ ہمارے نزدیک سکول بن گیا ہم وہاں پہ پڑھتے تھے اس کے بعد۔ کھیلتے تھے گھر کے اندر کھیلتے تھے باہر نہیں جا سکتے تھے ڈر لگتا تھا۔ وہاں پہ ابھی کوئی چیز نہیں ہے سر جی۔‘

یہاں مجھے لڑکیوں کے ایک سکول اور وکیشنل سینٹر جانے کا موقع ملا۔

میران شاہ میں موجود ویمن وکیشنل سینٹر کی جدید عمارت واقعی متاثر کن تھی لیکن اس کے عقب میں موجود دو کمروں پر مشتمل عمارت کے گیٹ پر جب مجھے یہ کہا گیا کہ یہ سکول ہے تو مجھے کچھ حیرت ضرور ہوئی۔ کیونکہ اب تک جنوب سے شمال تک مرکزی شاہراہ کے کنارے میں نے جتنے بھی سکول دیکھے وہ شاندار تھے ۔ یہاں بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پرائمری سکول کی لڑکیاں جن کی تعداد 40 کے لگ بھگ تھی صحن میں کرسیاں لگائے پڑھ رہی تھیں۔

داخل ہوتے ہی جب میں نے یہ سوال کیا کہ کیسی ہو خوش ہو تو ان کا جواب تھا ہاں ٹھیک ہیں۔ پڑھائی کیسی ہے کہا کہ پڑھائی ٹھیک ہے لیکن ساتھ ہی سیٹ سے اٹھ کر ایک بچی نے کہا کہ 'یہ سکول گندا ہے، یہاں بو آتی ہے یہ دیواریں دیکھو۔ ہمیں سفید عمارت جیسا ( سکول ) چاہیے۔'اس کے بعد سبھی لڑکیوں نے یہی کہنا شروع کر دیا کہ دوسرا سکول چاہیے۔

کچھ ایسی ہی شکایت اس علاقے میں سنہ 1992 سے تدریس کے فرائض سرانجام دینے والی زرولی کوٹ سکول کی پرنسپل شکیلا نے بھی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سکول کی چاردیواری صحیح نہیں ہے۔ ابھی سکول کا آغاز ہے مجھے بچوں کے لیے جگہ چاہیے ابھی اور بچیاں آ رہی ہیں شوق سے آرہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی کارروائیوں کے دوران ان کا سکول بھی تباہ ہوا تھا تاہم نئئ بلڈنگ بنانے کے بعد اسے وکیشنل سینٹر میں تبدیل کر دیا گیا۔

چونکہ مجھے لڑکیوں کے ایک ہی سکول میں جانے کا موقع ملا تھا جبکہ لڑکوں کے جن سکولز میں گئی وہاں کی عمارت اور سہولیات بہتر تھیں۔ لیکن شمالی وزیرستان کی انتظامیہ کے فیس بک صفحے پر موجود تصاویر سے بھی یہی معلوم ہوا کہ ابھی یہاں تعلیم کے لیے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

شمالی وزیرستان کی انتظامیہ کے فیس بک پیج پر موجود معلومات کے مطابق سکولز میں حاضریوں اور دیگر سہولیات کے لیے مانیٹرنگ ٹیم مختلف علاقوں کا دورہ کرتی ہے۔

ان تصاویر اور دی گئی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں اساتذہ کی کمی ہے اور سکولز میں فرنیچر اور دیگر ضروری سہولیات کے لیے بھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ضلعی انتظامیہ کا موقف ہے کہ فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام سے سب سے زیادہ فائدہ تعلیمی نظام کو ہو گا۔

پاکستانی فوج کے مطابق گیارہ ستمبر کے بعد سے شمالی وزیرستان کی مرکزی شاہراہ پر کبھی کرفیو نافذ نہیں کیا گیا۔ اب صبح سویرے آپ کو بچے سکول جاتے اور دن ڈھلے اپنا من پسند کھیل فٹ بال کھیلتے ہوئے دکھائی دیں گے۔یہ نظارہ آپ کو صرف میران شاہ میں نہیں بلکہ جنوبی وزیرستان سے شمالی وزیرستان کی طویل شاہراہ کے گرد آباد چھوٹے چھوٹے دیہاتوں میں بھی دیکھنے کو ملے گا۔ نیٹ، فٹ بال، والی بال،یہاں کرکٹ نہیں فٹ بال کا جنون دکھائی دیتا ہے۔شمالی وزیرستان میں میران شاہ کے یونس خان سٹیڈیم میں کھیل میں مگن بچوں اور نوجوانوں سے بات کرنے کا موقع ملا۔

بہت ہی شوق سے ہمیں انٹرویو دینے کی خواہش کا اظہار کرنے والےننھے مصطفیٰ نے بتایا کہ میں فورتھ کلاس میں پڑھتا ہوں اور ہم یہاں سے لکی مروت چلے گئے تھے بس دو سال ہوئے واپس آئے ہیں۔ جب میں نے پوچھا شام کے اس وقت آپ گھر سے اکیلے آگئے ہو امی کچھ نہیں کہتی تو فوراً جواب ملا نہیں امی تو کہتی ہیں جاؤ کھیلو۔

فٹ بال کھیلنے کے شوقین عبداللہ ڈانڈے درپہ خیل سے سائیکل پر میران شاہ میں کھیلنے آتے ہیں۔

وہ یہاں کے گورنمنٹ سکول میں پڑھتے ہیں وہ کہنے لگے'تقریباً ڈھائی سال ہوئے ہیں واپس آئے ہوئے یہ سال بہترین گزرا، پہلے ایسا نہیں تھا۔ اور پڑھائی بالکل پرفیٹک جارہی ہے۔'

وہ کہتے ہیں کہ اب جب کبھی کچھ ہو تو ہم تھوڑا ڈر جاتے ہیں اور گھر والے بھی کہتے ہیں کہ 'تھوڑا سنھبل کے چلنا اگر آپ کو کوئی کہے کہ یہ سامان ذرا اٹھائیں ذرا ادھر نزدیک لے جائیں تو ایسا نہیں کرنا، کسی کے ساتھ گاڑی میں جانا نہیں،بس تھوڑا یہ ڈر ہوتا ہے پیرنٹس کو۔'

لیکن ساتھ ہی عبداللہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ گھر کا کوئی فنکشن ہوا تو میں بنوں اور پشاور سے اپنے دوستوں کو بلاؤں گا یہاں پر ابھی امن و امان ہے اس لیے ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔

ساتویں جماعت کے طالب علم ماجد ان بچوں میں شامل ہیں جو آپریشن کے دوران بھی یہیں رہے۔

واپڈا کالونی میں رہنے والے ماجد نے کہا کہ کرفیو تھا اور بہت سخت تھا ہم فٹ بال کھیلنے کے لیے نہیں آسکتے تھے ۔ باہر نہیں کھیلتے تھے گھر میں رہتے تھے اب حالات پہلے سے بہتر ہیں۔

اس سفر میں میری ملاقات خیبر ایجنسی کے روہت خان سے بھی ہوئی روہت پشاور سے یہاں آئے ہیں اور آٹھ ماہ سے ادھر ہوسٹل میں رہتے ہیں۔ انھیں کیڈٹ کالج میں پڑھنے کا شوق یہاں لے آیا۔

انھوں نے کہا کہ پہلے تو وزیرستان کے نام سے ڈر لگتا تھا شروع میں چیکنگ بھی بہت زیادہ ہوتی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہے۔

’جب میں ادھر پہلی بار آیا تھا تو پہلے سید گئی پر انٹری ہوتی تھی پھر جگہ جگہ پہ پوچھتے تھے کہ ادھر کیوں آئے ہو، کیا کرتے ہو۔ تو میں بتاتا تھا کہ میں سکول میں پڑھتا ہوں۔ پھر ڈومیسائل پر انٹری کرواتے تھے ۔ دو 

متعلقہ خبریں