Daily Mashriq


عدلیہ کا احترام لازم ہے

عدلیہ کا احترام لازم ہے

جب سے پانامہ لیکس کے حوالے سے کیس کی عدالت عظمیٰ میں سماعت کا آغاز ہوا ہے تب سے ملک کے بعض سیاسی رہنمائوں کا رویہ خاصا نا مناسب رہاہے۔ روزانہ سماعت کے بعد دونوں جانب کے سیاسی رہنمائوں اور ان کے قانونی ماہرین کی جانب سے عدالت کے باہر میڈیا ٹرائل کاایک ایسا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا جس کی وجہ سے عدالتی کارروائی کے حوالے سے تکدر کی فضا قائم کرنے کی کوشش کچھ اس طرح سے کی جاتی تھی کہ عوام حیرت و استعجاب کا شکار ہوئے بغیر نہیں رہتے تھے اور انہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ وہ کس کی بات پر یقین کریں۔ شنوائی کے دوران میڈیا چینلز پر فاضل جج صاحبان کے بعض ریمارکس ٹکر کی صورت میں ٹی وی سکرین پر چلتے رہتے تھے جبکہ حکومت کے خلاف پانامہ کیس لڑنے والے رہنمائوں کے بیانات سونے پرسہاگہ ثابت ہوتے رہے ہیں ۔ یہ وہی رہنما ہیں جو ہر آن اپنا موقف تبدیل کرتے رہے ہیں اور کبھی ان کا مطالبہ یہ ہوتا تھا کہ معاملے کی تحقیق کے لئے عدالتی کمیشن بنایا جائے اور کبھی پینترا بدل کر عدالت عظمیٰ ہی میں کیس کی سماعت پر زور دیتے تھے۔ ٹی او آرز پر حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے مابین عدم اتفاق کے بعد انہی کے مطالبے پر جب پانامہ کیس کی سماعت بالآخر سپریم کورٹ میں شروع ہوئی تو اس دوران میں بھی یہی رہنما عدالت پر دبائو ڈالنے کے لئے کبھی جلسے جلوس میں سخت زبان استعمال کرتے اور کبھی عدالت کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے بیانات جاری کرکے عدالت کو دبائو میں لانے کی کوشش کرتے۔ گزشتہ روز ریٹائرڈ ہو جانے والے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے سرما کی چھٹیوں کی وجہ سے مقدمے کو آنے والے چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے لئے التواء میں ڈالا تو سوشل میڈیا پر ان کے خلاف ایک ایسا طوفان بد تمیزی برپا کیاگیا کہ یہ نا مناسب مہم چلانے والوں کی ذ ہنیت پرسوائے افسوس کے اور کچھ بھی نہیںکہا جاسکتا تھا۔ تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ نئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے گزشتہ روز اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد پانامہ کیس کی سماعت کے لئے لارجر بینچ تشکیل دے دیا ہے جس میں فاضل چیف جسٹس خود موجود نہیں ہیں۔ یہ 5رکنی لارجر بنچ 4جنوری سے کیس کی سماعت کرے گا اس حوالے سے تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے پانامہ کیس پر نیا بینچ بننے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بینچ کا فیصلہ قبول کریں گے۔ ایک نجی ٹی وی کے مطابق عمران خان نے کہا کہ سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے مایوس کیا۔ انہیں پانامہ کیس پر درخواستوں یک سماعت مکمل کرنی چاہئے تھی۔ لیگ(ن) پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ ایک ادارہ ہے جس پر اعتماد کیاجاسکتاہے باقی ادارے حکومت نے تباہ کردئیے ہیں۔ جہاں تک لیگ(ن) پر تنقید کا تعلق ہے یہ عمران خان کا سیاسی استحقاق ہے تاہم جہاں تک عدالت عظمیٰ کے حوالے سے عمران خان کے بیانات کا تعلق ہے اس حوالے سے پورا ملک جانتا ہے کہ ان کے موقف میں وقتاً فوقتاً تبدیلیاں آتی رہی ہیں اور اس حوالے سے ان کے بیانات کا حوالہ دینے کی بھی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ اس حوالے سے ان کا بینچ کے بارے میں بیان کا بہرحال خیر مقدم کر نا چاہئے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ دوران سماعت پھر کیا نیاموقف اختیار کرکے اپنے موجودہ موقف سے رو گردانی کرتے ہیں اور اس ضمن میں دوبارہ سڑکوں پر آنے یاجلسے جلوس کرنے کے بیانات دیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر نئے انتخابات کی تیاری کے حوالے سے وہ پارٹی ورکروں کو منظم اور فعال بناتے ہوئے انہیں تحریک انصاف کے حق میں سیاسی فضا کو استوار کرنے کے لئے جلسے کرتے ہیں' جلوس نکالتے ہیں یا اور کوئی سیاسی سرگرمی کاآغاز کرتے ہیں تو اس قسم کی سرگرمیوں کا ملکی سطح پر یقینا خیر مقدم کیا جائے گا تاہم اگر وہ عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہونے کے لئے منفی بیان بازی کا سہارا لیتے ہیں تو اسے عدالتی احترام کے منافی ہی قرار دیا جائے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جملہ سیاسی قیادت خود کو اخلاقی طور پر اس بات کا پابند بنائے کہ وہ اور ان کے قانونی ماہرین جو عدالت میں شنوائی کے دوران اپنے اپنے موقف اور اس حوالے سے دستاویزی ثبوت پیش کرکے اپنے حق میں فیصلہ کروانے کے لئے سرگرم ہوں تو سماعت کے اختتام پر عدالت کے باہر بھانت بھانت کی بولیاں بولنے سے اگراحتراز کریں تو عدالتی احترام کے جملہ تقاضے بھی پورے ہوں گے اور یہ خدشہ بھی نہیں رہے گا کہ کسی سیاسی رہنماء کی جانب سے عدلیہ کی توہین کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں اگر مختلف ٹی وی چینلز پر بھی عدالتی ریمارکس یا دونوں جانب کے سیاسی رہنمائوں کی ٹاک شوز میں پارٹی مواقف پیش کرنے سے احتراز کیاجائے تو امید ہے کہ عدلیہ کے احترام کا پہلو اجاگر ہو سکے گا۔ کیونکہ ویسے بھی عدالت میں جاری کسی مقدمے پر بحث مباحثہ Subjudice ہی کہلاتا ہے۔ اس لئے عدلیہ کے احترام کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہر احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تو اس میں سب کی بھلائی ہوگی۔

متعلقہ خبریں