کیا ہم خود ذمہ دار نہیں؟

کیا ہم خود ذمہ دار نہیں؟

چار ماہ سے زیادہ ہو گئے ہم بارش کے لئے ترس رہے ہیں لیکن آسمان ہم پر ابر کرم برسانے کو تیار نہیں۔ایک طرف اگر خشک موسم مختلف امراض کا سبب ہے، تو دوسری طرف اس سے فصلوں کے متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ ملک کے قریہ قریہ میں لوگ خداوند کریم کے سامنے گڑ گڑائے، نماز استسقاء میں کیا چھوٹے ، کیا بڑے ،سب سر بسجود ہوگئے، مگر آسمان کو ترس نہیں آیا۔ ماہرین مختلف وجوہات بیان کر رہے ہیں۔ کہیں موسمیاتی تغیر کا ذکر ہورہا ہے تو کوئی اسے گلوبل وارمنگ کی کارستانی قرار دے رہا ہے۔اگر سائنس کی ترقی اور چیزوںکے پرکھنے کے آلات کو دیکھیں تو یہ باتیں بھی ٹھیک ہیں ، لیکن کبھی ہم نے غور کیا ہے کہ کہیں اس تمام تر صورتحال کے ذمہ دار ہم تو نہیں؟ کبھی ہم نے اپنے گریبان میں جھانکنے کی زحمت گوارہ کی ہے؟ کبھی اپنا احتساب کیا ہے ؟ ان سوالوں کا جواب اپنے چند کاموں ، عادات اور اعمال میں ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 

کسی بھی چھوٹے یا بڑے بازار میں آپ نے بہت سے ایسے نعرے اور دعوے لکھے ہوئے دیکھے ہونگے جو آپ کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں ۔جیسا کہ ہمارے ہاں'' خالص بلکہ خالص ترین شہد'' دستیاب ہے۔ اسی طرح جہاں بھی دودھ کی کوئی دکان ہو تو ''تازہ اور ملاوٹ سے پاک'' کے حروف واضح لکھے نظر آئیںگے۔ بعض تو ساتھ میں یہ بھی چیلنج کرتے ہیں کہ اگر کسی نے ملاوٹ ثابت کی تو اتنا اتنا انعام دیا جائیگا ۔ بلکہ ساتھ میں وہ بھینس بھی فری دی جائیگی جس نے کہ اتنا پانی ''پی'' رکھا تھا کہ دودھ میں پانی ہی پانی تھا۔ چائے کے حوالے سے بھی کسی کا دعویٰ ہوتا ہے کہ یہ فلاں جگہ سے آئی ہے تو کوئی ایک دانے کی بھی ملاوٹ سے خود کو اتنا پاک سمجھتا ہے کہ بندہ ڈر اور شرم کے مارے یہ بھی پوچھ نہیں سکتا کہ بھائی چائے ٹھیک تو ہے نا، کوئی ملاوٹ تو نہیں۔
اپنی چیزوں کو بیچنے کیلئے ہم مختلف حربے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن شومئی قسمت کہ کوئی چیز خالص ہوتی ہے ،تازہ اور نہ ہی ملاوٹ سے پاک۔ بلکہ جس کا جتنا بس چلے وہ کام کرتا ہے جس کی نہ صرف اسلام ممانعت کرتا ہے بلکہ اس کا یہ عمل اخلاقی اقدار کو بھی پامال کرتا ہے۔ اور پھر ہمارے ہاں حال یہ ہے کہ کوئی چیز قسم اٹھائے بغیر بکتی ہی نہیں حتیٰ کہ ہم ایک ٹماٹر پر بھی قسم اٹھانے کو تیار رہتے ہیں۔ یہ صورت حال صرف اشیائے خورد و نوش تک محدود نہیں ۔اپنے نجی سکولوں کے نام ہی دیکھ لیجئے، تدریسی معیار کا سب کو علم ہے کہ کیسا ہے لیکن نام ایسے رکھے ہوں گے کہ بندے کو کچھ دیر کیلئے گمان ہوتا ہے کہ بس یہی ایک ایسی درسگاہ ہے جس سے بچہ پڑھ لکھ کر افلاطون اور سقراط بن کرنکلے گا۔ مقصد قطعاً یہ نہیں کہ اپنے سکول، دکان یا کمپنی کا نام انگلش یا کسی اور زبان میں رکھنا غلط ہے۔ مدعائے مقصود صرف اتنا ہے کہ آخر کون سی مجبوری ہے جو کہ ہمیں چیزوں کو اپنی حیثیت سے بڑھا کر بیان اور پیش کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ کیا ہمیں خود پر اعتماد نہیں یا ہماری چیزوں میں کوئی کمی ہے اور یا تویہ بات اس کڑوی حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ جس بازار میں ''خالص''،'' تازہ'' اور ''ملاو ٹ سے پاک'' چیزوں کی تشہیر کی بھر مار ہوتی ہے تو اس بازار میں دھوکہ دہی اور آنکھوں پر پٹی باندھنے کا رواج نہ صرف عام ہے بلکہ انتہائی کامیا ب بھی۔ انسان کی کچھ عادات ایسی ہوتی ہیں جو بسا اوقات اس کو ان کاموں پر مجبور کرتی ہیں جن سے نہ صرف اس کے اور اس کے اہل و عیال بلکہ دوسروں کا بھی نقصان ہوتا ہے۔ انسان اگر اپنے اوپر نفس کو حاوی کرتا ہے تو پھر وہ سارے کام کرتا ہے جن سے کہ اس کا ضمیر اس کو منع کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ آپ دیکھیں نا، لالچ صرف ایک عادت ہے جس سے کہ انسان ہر وقت اپنے مال و متاع اورزرو زمین کو بڑھانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ اور اس تگ و دو میں اتنا بھوکا ہوجاتا ہے کہ اسے دوسروں کے نفع و نقصان کا خیال بھی نہیں رہتا۔پھر چاہے وہ جھوٹ بولے یا کسی کا حق مارے، دریغ نہیں کرتا۔اپنے ارد گرد اگر نظر دوڑائی جائے تو کوئی بھی مطمئن نظر نہیں آتا۔ کوئی مہنگائی کو رو رہا ہے تو کوئی نا انصافی کو،کوئی اقرباء پروری کو کوس رہا ہے تو کوئی حکومت کی نااہلی سے نالاں ہے۔لیکن کوئی بھی اپنے آپ کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش نہیںکر رہا۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔کیا ہم رشتوں کو اہمیت دے رہے ہیں؟ کیا ہم صلہ رحمی کر رہے ہیں؟ کیا ہم بزرگوں کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت کر رہے ہیں؟اور کیا یہ حق تلفی نہیں کہ ہم قطار کا احترام نہیں کرتے۔ ایک بندہ ایک گھنٹہ سے قطار میں کھڑا ہوگا مگر دوسرا ہر ممکن کوشش کرے گا کہ اس کی باری پہلے جائے تا کہ وہ اپنا ''قیمتی'' وقت بچا سکے، باقی بیشک سارا دن ہی کیوں نہ کھڑے رہیں۔
غرض اپنی روز مرہ زندگی میں جہاں بھی ہم نظر دوڑائیں توایسی بہت سی خامیاں اور کوتاہیاں نظر آتی ہیں جونہ صرف ہمارے معاشرتی انحطاط کا منہ بولتا ثبوت ہیں بلکہ بہت سے مسائل کا موجب بھی ۔کام تو سارے اسی نوعیت کے ہیں لیکن نتائج بالکل برعکس مانگتے ہیں۔ خداوند کی رحمتیں بے شک لامتناہی اور بے شمار ہیں لیکن ان کو حاصل کرنے کیلئے ہمیں بھی تھوڑا بہت ہاتھ پائو ں مارنے چاہئیں۔ ہم اگر حقیقت پسند بن کرغیر ضروری مبالغے سے اجتناب اور چیزوں کو اپنی اصلی ہئیت میں پیش کرنے کی عادت اپنالیں اور ہمارے قول و فعل میں تضاد ختم ہوجائے تو پھرابر بھی برسے گا اور رحمتیں بھی نازل ہونگی۔

اداریہ