Daily Mashriq

ہمارا گھر' قبیلہ اور ملک پاکستان

ہمارا گھر' قبیلہ اور ملک پاکستان

ہمارے آبا و اجدادنے لازوال قربانیاں دے کر ہمارے لئے ایک خوبصورت اور آرام دہ گھر (پاکستان) بنایا ۔ اس گھر کے پانچ بیڈ رومز تھے اور اس میں پانچ بڑے بھائی چند ایک چھوٹے بھائیوں (کشمیر اور گلگت بلتستان اور فاٹا وغیرہ) کے ساتھ اپنے اپنے بیڈ رومز میں بہت آرام سے زندگی گزار رہے تھے۔ دشمنوں کی سازشوں اور بھائیوں کے درمیان بد اعتمادی و بد گمانی کے سبب پانچواں بھائی( مشرقی پاکستان مرحوم حال بنگلہ دیش) اپنا چاروں بقیہ بھائیوں اور خاص کر سب کے دین و ملت کو بہت نقصان پہنچا کر الگ ہوا تو اس گھر و پناہ گاہ کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی۔ ایسے حالات و واقعات ہمیں مملکت عزیز کی قدر و قیمت یاد دلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ہمیں اس بات کو سمجھنے پر ابھارتے ہیں کہ آج کے زمانے میں گھر' قبیلہ اور ملک کی کیا اہمیت ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ سارے پاکستانی ایک عہد نو کے ساتھ عزم صمیم کریں کہ سارے سیاسی ' مسلکی اور مفاداتی اختلافات ایک طرف رکھ کر وطن عزیز کے دفاع' حفاظت اور سلامتی کے لئے آپس میں قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند اور مضبوط ہو کر کسی قربانی سے دریغ نہ کریں اور اپنے اس گھر کی فصیلوں کی حفاظت کے لئے سارے عوام ایک قبیلہ بن کر رنگ و نسل اور زبان و علاقہ کے تنوع اور رنگا رنگی کو گلدستے کے مختلف رنگ کے پھولوں کی مانند سمجھتے ہوئے اسے حسن و جمال اور دلکشی و دلچسپی کا استعارہ بنا کر رکھیں۔ پاکستان کی حفاظت و سلامتی کے لئے موجودہ صورتحال میں ہر پاکستانی کو محب وطن بن کر کم از کم یہ عہد ضرور کرنا ہوگا کہ اگر کسی کے بس میں یہ نہیں ہے کہ وہ ملک و قوم کے لئے کوئی نفع بخش کردار ادا کرے تو اسے ارادہ ضرور کرنا چاہئے کہ میں کوئی ایسا کام نہ کروں گا اور نہ کسی اور کے ساتھ کسی ایسے کام میں کسی بھی طرح شریک ہوں گا جس سے ملک و ملت کو نقصان پہنچنے کا امکان ہو۔ اس وقت پاکستان کے دشمن بہت بے چین اور سرگرم ہیں۔ ایک تو اس لئے کہ سی پیک منصوبہ ان کو بہت بری طرح کھٹک رہا ہے کیونکہ یہ منصوبہ انشاء اللہ جنوبی ایشیاء بلکہ پورے ایشیاء کے لئے گیم چینجر ثابت ہونے والا ہے۔ دوسرا یہ کہ عالمی حالات تبدیل ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے نئے عالمی اور علاقائی اتحاد بن رہے ہیں اور اس میں سی پیک کا بہت بڑا کردار ہے۔ کسی نے آج سے چند برس قبل سوچا بھی نہ ہوگا کہ چین پاکستان اور روس کا ماسکو میں افغانستان میں امن کے قیام اور اس مسئلہ کو خطے کے مفادات کے مطابق حل کرنے کے لئے جمع ہوں گے۔ آج ایک دنیا نے سنا کہ روس سی پیک میں شامل ہورہا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ اس کے ذ ریعے تجارت اور خرید و فروخت اور درآمدات و برآمدات کے راستے بدلیں گے ۔ ملکوں کی اقتصادیات اور معاشیات پر اثرات مرتب ہوں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دفاع پاکستان مزید ناقابل تسخیر ہوگا کہ آخر چین اور پاکستان اور روس کے اقتصادی مفادات ایک ہونے والے ہیں۔ان حالات میں پاک افواج کا کردار پہلے سے بھی زیادہ اہم ' نازک اور وسیع ہو جاتا ہے۔ دشمنان پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ وطن عزیز کی سافٹ بلی (Soft belly) پر وار جاری رکھیں۔ اس سلسلے میں بلوچستان اور بالخصوص گوادر کا علاقہ اور اس کے عوام اہمیت کے حامل ہیں۔ پاک افواج پر قوم کا بھرپور اعتماد اور بھروسہ ہے کہ اس نے سی پیک کی بحفاظت تکمیل کے لئے ہزاروں کی تعداد میں جانثاروں کو متعین کیاہے جو سی پیک کے قافلوں کی حفاظت کے لئے ہر دم تیار و چوکس رہتے ہیں۔ لیکن ایسی صورت حال میں ہم سب کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ پاک افواج کے عزائم اور حوصلوں کو بلند رکھنے کے لئے ان کی پشت پر کھڑے ہو کر ایسے عناصر کی سرکوبی کریں جو پاک افواج کے بجٹ اور تعداد وغیرہ پر غیر ضروری' غیر منطقی اور غیر مدلل ''دانشورانہ'' بحثیں کرتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ پاکستان جیسے زیادہ آبادی اور مقابلتاً کم وسائل کے ملک کے لئے اتنی بھاری افواج کے لئے ساز و سامان فراہم کئے رکھنا بہت بھاری کام ہے لیکن جب وطن عزیز کے دفاع و سلامتی کے لئے ہمارے سر' ہماری جانیں اور ہمارا سب کچھ قربان ہے تو پھر روپے پیسے کی کیا حقیقت رہ جاتی ہے۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا اور سبق حاصل کرنا ہوگا اس وقت دنیا کے تین ترقی یافتہ ممالک جرمنی' جاپان اور جنوبی کوریا کے عوام سے پوچھنا چاہئے کہ ان کی اپنی افواج نہ ہونے کی وجہ سے ان کو کس کس ذہنی' قومی اور تاریخی مسائل کا سامنا ہے۔ کسی نے سچ کہا تھا کہ '' جن اقوام کی اپنی فوج نہیں ہوتی وہاں غیروں کی افواج در آتی ہیں''۔ فلسطینیوں' مقبوضہ کشمیر کے عوام' اراکانی مسلمانوں اور دنیا کے بعض اقوام کے حالات سے عبرت حاصل کرنا چاہئے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ''سورما'' جو انسانیت سوز مظالم کا ارتکاب کرتے ہیں وہ صرف اس لئے کہ کشمیریوں کی اپنی فوج نہیں ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام کو پاکستانی افواج کا تحفظ حاصل ہے اس لئے بھارتی افواج سیز فائر لائن کی طرف برے ارادوں سے دیکھنے سے پہلے کئی بار سوچتی ہے۔

اداریہ