Daily Mashriq

ذکر شہر مہمانداری مردان کا

ذکر شہر مہمانداری مردان کا

1937ء میں جب مردان کو ضلع کا درجہ حاصل ہوا تو سکندر مرزا جو بعد میں صدر پاکستان بنے یہاں کے ڈپٹی کمشنر مقرر ہوئے۔ ہمیں اس بات کا کوئی علم نہیں کہ گزشتہ 80سالوں کے دوران یہاں کے اس منصب پر کتنے لوگ آئے اور گئے لیکن دو جنوری کو مردان کے قیام پر 80سال مکمل ہونے پر جس تقریب کا ہمیں دعوت نامہ ملا ہے اس پر عمران حمید شیخ کا نام بطور ڈپٹی کمشنر درج ہے۔ ہم اس تقریب میں بوجوہ شرکت تو نہیں کرسکیں گے لیکن اتنا ضرور جانتے ہیں کہ اس کے اہتمام میں مردان کی ضلعی حکومت کے سربراہ حمایت اللہ مایار کی فعالیت کار فرما ہے۔ بتاتے چلیں کہ یہ نوجوان عوامی سطح پر ایک منفرد شخصیت کا مالک ہے۔ 

بے لوث سیاسی جذبوں کے حامل اس نوجوان نے اپنے گزشتہ دور نظامت میں بھی عوامی بہبود کے بے شمار منصوبوں پر کام کیا۔ ضلعی انتظامیہ کی بھرپور کاوشوں کے باوجود مردان جو آبادی کے لحاظ سے ملک کا انیسواں اور صوبائی سطح پر دوسرا بڑا شہر ہے آج بھی گو نا گوں مسائل سے دو چار نظر آتا ہے۔ ہم ان کا بھی ذکر کریں گے پہلے اس خطے کے تاریخی پس منظر پر کچھ باتیں کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ مردان جیسے اہم تاریخی شہر کے بارے میں آج تک کوئی مربوط اور مستند تاریخ نہیں لکھی گئی۔ مختلف تاریخ کی کتابوں میں مردان پر کچھ معلومات ضرور درج ہیں لیکن ان سب کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے۔
ہمارے دوست اکرام اللہ شاہد سابق ڈپٹی سپیکر نے کچھ عرصہ پہلے مردان کی تاریخ پر ایک بھرپور مضمون لکھا تھاجس کے آج تک حوالے دئیے جاتے ہیں۔ سب سے پہلے تو مردان کی وجہ تسمیہ پر اتفاق پیدا نہیں ہوسکا۔ اس ضمن میں مختلف لوگوں نے اپنے اندازوں کے مطابق نظریات پیش کئے ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ مندنڑ قبیلے کے جدا مجد کے نام کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ البتہ یہ حقیقت قابل غور ہے کہ اس وقت تک مندن یا مندنڑ کے تلفظ میں کوئی فرق نہیں آیا تو پھر اس موضع کا نام کیونکر تبدیل ہوسکتا ہے۔ مردان کے وجہ تسمیہ کے حوالے سے یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ مہاتما گوتم بدھ نے اس مقام پر اپنی آنکھیں ایک چیلے کودان کی تھیں چنانچہ امردان یعنی ہمیشہ زندہ رہنے والی قربانی اس شہر کا نام بن گیا۔ مردان کے بعض بزرگوں کا خیال ہے کہ ا وائل میں یہ علاقہ یہاں کی ایک ممتاز بزرگ شخصیت پیر مردان کے نام سے موسوم کیا گیا تھا۔ چنانچہ بعد میں یہ آبادی مردان کہلائی جانے لگی۔ پرانے مردان شہر کے نیچے کلپانی کے کنارے بہت سے پرانے آثار موجود ہیں جن کی کھدائی کے بعد ہی مردان کی قدامت کے بارے میں کوئی ٹھوس رائے قائم کی جاسکے گی۔ مورخین بتاتے ہیں کہ یہ آبادی کم و بیش 2000سال پرانے آثار پر قائم ہے۔ مردان کی قدیم تاریخ پر دوسرے پہلوئوں سے بھی بحث ممکن ہے۔ لیکن یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ مردان کا علاقہ ہمیشہ بیرونی حملہ آوروں کے نشانے پر رہا۔ محمود غزنوی سے احمد شاہ ابدالی تک تمام مسلمان سلاطین ہندوستان پر لشکر کشی کے دوران یہاں سے گزرے۔
سکھوں کے دور حکومت میں مردان کے علاقے میں خوب تباہی مچائی گئی۔ انگریزوں کے زمانے میں یہ خطہ امن و سکون سے نا آشنا رہا۔ برطانوی حکومت کو ہر وقت یہاں کے غیور پختونوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا رہا۔مردان انگریزوں کے لئے ایک دفاعی مرکز کی حیثیت رکھتا تھا اس لئے انہوں نے متوقع تصادم کو روکنے کے لئے یہاں ایک فوجی چھائونی قائم کی۔ 1850ء میں پہلے یہاں گائیڈ رسالے نے قدم جمائے اور بعد میں یہ فوجی دستے مردان کے مضافاتی گائوں بغدادہ اور گوجر گڑھی تک پھیل گئے۔ آج کا مردان پختونوں کے یوسفزئی قبیلے کا ہیڈ کوارٹر ہے اور یہاں بولی جانے والی پشتو زبان کو پورے خیبر پختونخوا میں معیاری لہجے کا درجہ حاصل ہے۔ مردان میں یوسفزئی کے علاوہ آفریدی' مہمند' خٹک اور اتمان خیل قبیلے بھی آباد ہیں۔ مردان جسے 1937ء میں پشاور سے علیحدہ کرکے ضلع کادرجہ دیا گیا تھا یکم جولائی 1988ء کو باقاعدہ طور پر ڈویژن بنا دیا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت مردان کی آبادی 22لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ مردان جو 1998ء کی مردم شماری کے مطابق 3لاکھ آبادی کا شہر بتایا گیا تھا۔ اس وقت 7لاکھ نفوس کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے مردان کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔
یہاں کے باشندے زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کے لئے آبادی کے اس طوفان بے تمیزی کو سنبھالنا ممکن نہیں رہا۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ داخلوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ سکولوں کی عمارتیں خستہ حال ہو چکی ہیں اور وہاں تدریسی عملے کی شدید کمی ہے۔ شہر کی رابطہ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جبکہ مردان کی واحد جدید بستی شیخ ملتون سیوریج اور ناقص ڈرین سسٹم کی وجہ سے کچرا بستی کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ مردان کے شہری بجا طور پر توقع رکھتے ہیں کہ ضلع کے قیام پر 80سالہ تقریبات کے موقع پر اس شہر مہمانداری کے بنیادی مسائل پر بھی غور کیاجائے گا جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اداریہ